Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حضرت ابراہیم علیہ السلام – ڈاکٹرساجد خاکوانی

Posted on
شیئر کریں:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت ابراہیم علیہ السلام – ڈاکٹرساجد خاکوانی

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کے برگزیدہ پیغمبرتھے۔آپ کا وقت پیدائش 1810قبل مسیح ہے،یہ قدیم عراق کا شہر”ار(UR)ہے جہاں آپ علیہ السلام نے جنم لیا۔انجیل مقدس سے لیے گئے نسب نامے کے مطابق چند پشتوں بعد آپ کاشجرہ حضرت نوح علیہ السلام سے آن ملتاہے،گویا آپ حضرت نوح علیہ السلام کی قریبی پشت سے تھے۔عہدنامہ قدیم میں آپ کے اسم مبارک کے کئی تلفظ آئے ہیں،جن میں ”ابرام“،”ابراہام“اور”ابراہم“کثیرالاستعمال ہیں جبکہ قرآن مجید نے آپ کو”ابراہیم“علیہ السلام کے نام سے یاد کیاہے۔محققین کے مطابق یہ لفظ دراصل ”ابورھام“ہے جس کا مطلب بہت سی اولادوں کاباپ ہے،لیکن کثرت استعمال کے باعث اب ”ابراہام“یا”ابراہیم“کہلاتاہے۔آپ علیہ السلام کا لقب مبارک ”خلیل اللہ“ ہے ایک اورلقب”ابوالضیفان“بھی ہے کیونکہ آپ بہت مہمان نوازتھے اور بغیرمہمان کے کھانا نہیں کھاتے تھے۔دنیاکے تین سب سے بڑے مذاہب یہودیت،مسیحیت اور اسلام آپ کو اپنا روحانی و مذہبی پیشوامانتے ہیں اور اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر گردانتے ہیں۔اللہ تعالی نے آپ کی اولاد میں بھی نبوت و رسالت کاسلسلہ جاری رکھاتھااور ایک کثیر تعدادمیں مبعوث ہونے والے انبیاء و رسل آپ کی نسل سے اٹھائے گئے تھے۔آپ کی اولاد دو مشہور سلسلوں میں ابھی بھی دنیاپر اپناوجودرکھتی ہے،آل اسمئیل جو عرب اقوام ہیں اور آل اسرائیل یابنی اسرائیل جو یہودی قبائل ہیں،یہ سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔بیت المقدس کی عبادت گاہیں اورحرم مکہ مکرمہ کی تعمیرات بھی آپ سے منسوب ہیں۔آپکوعطاکردہ معجزات شہرہ آفاق ہیں اور دنیابھرکی ادبی کتب میں بطورتمثیلات کے بکثرت استعمال ہوتی ہیں۔قرآن مجید جیسی آخری الہامی کتاب میں آپ کے نام کی ایک مکمل سورۃ بھی موجود ہے یعنی”سورۃ ابراہیم“۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش سے قبل وقت کے بادشاہ نمرودکو نجومیوں نے بتادیاتھا کہ تیری قوم میں ایک بچہ پیداہونے والا ہے جو تیرے اقتدارکے خاتمے کاباعث بنے گاتب اس نے ہرپیداہونے والے بچے کے قتل کاحکم صادر کردیا۔چنانچہ بچے کی جان کے خوف سے والدین نے ایک غارمیں پناہ ڈھونڈی اور کم وبیش سواسال کی عمرمیں باہرلائے۔عراق میں پیدائش کے مقام پر آج ایک بہت بڑی مسجدتعمیر کر دی گئی ہے جہاں زائرین کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔اس مسجد سے ایک راستہ اس غارکی طرف جاتاہے آخرمیں ایک شیشہ لگاہے جس کے دوسری طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جائے جنم ہے۔وہاں نیچے گہرے کوئیں میں پانی بھی موجود ہے جسے نالیوں کے ذریعے اوپر کھینچ کرنل لگادیے گئے ہیں۔زائرین اس پانی سے اپنی جسمانی و روحانی پیاس بجھانے کاانتظام کرتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں مشہورہے کہ ان کی نشونما بہت تیزی سے ہوئی تھی اور باقی بچوں کی نسبت وہ بہت جلد اپنی جسمانی ساخت میں تنومند ہو چکے تھے۔کتابوں میں لکھاہے کہ فرشتوں نے آپ کی خوراک اور غذاکاانتظام کردیاتھا جس کے باعث آپ کا قداور وزن مبارک معمول سے کہیں زیادہ رفتارسے بڑھتاچلاگیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام لڑکپن کو پہنچے تو رسم و رواج کے مطابق آزرنے انہیں ایک بت کے سامنے کھڑاکردیااورکہاکہ یہ تیراخداہے۔لڑکپن میں ہی اللہ تعالی کے یہ نبی انتہائی ذہین و فطین اور دانشمندانہ ذہن کے مالک تھے۔انہوں نے پتھر کے اس بت سے کھانا،پانی اور لباس مانگا،جب کوئی جواب نہ ملاتو فرمایا تو کیساخداہے جو جواب ہی نہیں دیتااور زمین سے ایک پتھراٹھایا اور اس بت کو دے مارا۔انسانی فطرت کسی بھی خدا کے بغیر نامکمل رہتی ہے،چنانچہ جولوگ ان دیکھے خداکو نہیں مانتے وہ ہوس نفس،دولت،دنیا،اقتدار،رنگ،نسل،علاقہ،زبان یا خاندانی روایات وغیرہ نامی خداؤں کے ضرور پجاری ہوتے ہیں۔فطرت کے تقاضے کی بجاآوری کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنے خداکی تلاش شروع کر دی۔اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم میں ستارہ پرست،چاند پرست اور سورج پرست لوگ بھی موجود تھے۔بتوں سے مایوسی کے بعد ان سب اہل مذاہب نے آپ علیہ السلام کواپنی طرف کشش کرناچاہا۔قرآن مجید نے ان سب جھوٹے خداؤں کی تردید آپ کی زبانی نقل کی ہے۔ستارے نکلے اور بوقت صبح ماند پڑگئے،چاند نظرآیالیکن سورج سے مات کھاگیا،شہنشاہ خاوربڑے جاہ وجلال سے آسمان دنیاپر جلوہ گرہوا لیکن وقت شام غروب ہو کر معدوم ہوگیاتب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان اجرام فلکی کے پجاریوں کوسمجھایا کہ میں زوال آشنا خداؤں کاعبادت گزار نہیں ہوں بلکہ میں نے اپنا چہرہ عبودیت یکسوہوکراس رب کی طرف کرلیاجوزمین و آسمان کا بنانے والا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔آج فی زمانہ کتنے ہی رائج جھوٹے خداہیں،پیٹ کی خواہش،پیٹ سے نیچے کی خواہش،رنگ،نسل،علاقہ،زبان،قوم اورخاندان اوردھن دولت،شہرت،اقتدار،حکومت،ملازمت،ترقی اورمستقبل کے حسین خواب وغیرہ وقت کے وہ جھوٹے معبودہیں کہ انسانوں کاجم غفیردن رات ان کی پوجاپاٹ میں مصروف ہے اور درس ابراہیم علیہ السلام کو فراموش کربیٹھاہے کہ ان سب خداؤں سے بے نیازہوکر اپناچہرہ صرف ایک اللہ تعالی کی طرف کرلیناچاہیے اور اپنے خوف،اپنی لالچ،اپنی امیدیں اورآرزوئیں حتی کہ اپنے غم وآلام اور اپنی خوشیاں بھی سب اسی سے وابسطہ کرلی جائیں۔

معرفت الہی کے بعد اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کوایمان بالشہادۃ کی خاطر زمین و آسمان کی بادشاہت کامشاہدہ کرایا۔امتی کاایمان،ایمان بالغیب ہوتاہے یعنی اس نے جن حقائق کوماناہوتاہے ان کامشاہدہ نہیں کیاہوتاجب کہ نبی کاایمان،ایمان بالشہادۃہوتاہے،اللہ تعالی سے اس کابراہ راست رابطہ ہوتاہے،فرشتے سرراہ نبی سے مصافحہ کرتے ہیں،گزشتہ ارواح سے بنی کی ملاقاتیں ہوتی ہیں اورنبی کوجنت،دوزخ،عاقبت،آخرت اورملاء الاعلی وغیرہ کانظارہ کرایاجاتاہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی سے پوچھاکہ لوگ مرنے کے بعدکیسے جی اٹھیں گے؟؟اللہ تعالی نے کہاکہ اے ابراہیم علیہ السلام،کیاآپ میری قدرت پر یقین نہیں رکھتے؟؟آپ علیہ السلام نے عرض کی اے بارالہ پختہ یقین ہے لیکن دل کی تسلی چاہیے۔اللہ تعالی نے حکم دیاکہ چارپرندے لے لیں،ان کی پرورش کریں،انہیں خود سے مانوس کرلیں،پھرانہیں ذبح کریں،ان کاقیمہ کریں،اس قیمے کو پہاڑوں کی چارچوٹیوں پررکھ کر آئیں،پھران کے مانوس ناموں سے انہیں آوازدیں،تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھاکہ وہ پرندے اڑتے ہوئے آپ علیہ السلام کے پاس زندہ سلامت پہنچ گئے۔اس طرح کے واقعات خرق عادت کہلاتے ہیں یعنی معمول کے برعکس۔جب یہ خرق عادت اللہ تعالی کرے تو یہ اس کی شان کہلاتی ہے جیسے لشکرفیل پر ابابیلوں کاحملہ،جب یہ انبیاء کے ہاتھوں سے صادر ہوتو معجزہ کہلاتی ہے  اور جب امتیوں کی طرف سے خرق عادت کا ظہورہوتویہ کرامت کہلاتی ہے جیسے اصحاف کھف کا تین سوسالوں سے زائدزندہ رہنا۔

حق واضع ہونے کے بعد اس کی تلقین و تبلیغ کاسلسلہ شروع ہوتاہے،تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب سے پہلے اپنے گھرسے تبلیغ و ارشاد کاآغازکیااور آزرکوسمجھایاکہ پتھرسے بنے بت کسی کے نفع نقصان کے مالک نہیں ہو سکتے۔ان کی قوم میلے پر شہرسے باہر گئی توحضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت خانے میں گھس کر تمام بتوں کو زخمی کردیااور کلہاڑے کوبلندی پر جمے سب سے بڑے بت کے کاندھے پر دھردیا۔قوم واپس آئی تواپنے خداؤں کی یہ حالت دیکھ کر سیخ پاہوگئی اوراسی وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کوطلب کیاگیا،آپ علیہ السلام نے جواب دیاکہ کلہاڑاتو اس بڑے بت کے کاندھے پر پڑاہے اور پوچھتے مجھ سے ہو؟؟اپنے خداؤں سے پوچھونا۔ان کی قوم نے جواب دیاکہ یہ تواپنے اوپر سے مکھی نہیں اڑاسکتے تب اپنے احوال کیاسنائیں گے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہاکہ جب تمہارے یہ جھوٹے خدااپنی حفاظت نہیں کرسکتے تو تمہارے نفع نقصان کے مالک کیسے بن سکتے ہیں،پھر کیاتمہاری مت ماری گئی ہے کہ ان کی پوجاکرتے ہو،ان پر چڑھاوے چڑھاتے ہواور صبح و شام ان کے آگے سجدہ ریزبھی ہوتے ہو۔حقیقت احوال جب بادشاہ وقت ”نمرود“کے ہاں پہنچی تو اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مجادلہ کیا۔نمرود بذات خود خدائی کادعوی کرتاتھا۔اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا تمہاراخداکیاکرتاہے۔آپ علیہ السلام نے جوان دیا کہ وہ زندگی اور موت کا مالک ہے۔نمرود نے تھوڑی دیربعد پھانسی پانے والے ایک شخص کو آزاد کردیااور دربارمیں کھڑے ایک  فرد کی گردن اڑادی اور پھر کہاکہ دیکھوزندگی اور موت تو میرے قبضے میں ہے۔اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہاکہ اچھامیرارب تو مشرق سے سورج کو نکال کرلاتاہے تو مغرب سے نکال کردکھا۔اس جواب پر نمرود مبہوت ہو کررہ گیا۔آج حضرت ابراہیم کے پیروکارسے وقت کاتقاضاہے کہ زمانے کے نمرودوں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حق بات کہیں،یادرہے کہ طاغوت سے کسی طرح کی مفاہمت سنت ابراہیمی کے مخالفت ہوگی۔

قیدوبنداور دارورسن انبیاء علیھم السلام کے راستے کے سنگ ہائے میل ہیں۔شاہی افواج نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے بھڑکتے ہوئے ایسے الاؤ میں ڈال دیاجس کے شعلے آسمان سے باتیں کررہے تھے اور اس آگ کو کئی دنوں سے بھڑکایاجارہاتھا۔لیکن کنارے پر کھڑی پوری قوم نے مشاہدہ کیاکہ اللہ تعالی کے حکم سے بھڑکتی ہوئی آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو گئی اور کل قوم کے سامنے حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ کی بجائے گل و گلزارپر چلتے ہوئے باہر نکل آئے۔اس کے بعد اس قوم پراللہ تعالی کی طرف سے متعدد سزائیں نازل ہوئیں اوران کے بادشاہ نمرودپرایک کیڑامسلط کردیاگیا۔قرآن مجیدنے قوم ابراہیم علیہ السلام پرکسی عذاب کاذکرنہیں کیالیکن بہت جلدوہ قوم نیست و نابودہوگئی۔آج کے انسان نے بھی اپنے سینے میں کتنے ہی الاؤ جلارکھے ہیں۔حسد،کینہ،بغض،بری نظر،سگے رشتہ داروں سے مصنوعی مقابلے،جادو،ٹونے،ناجائزپڑھائیاں،گرہوں پر پھونکنے والیاں،دل ہی دل میں دوسروں کے خلاف سازشیں بننااوران کاذہنی دباؤ اپنی حساس نفسیات پر لادلینا،دوسروں کی ترقی اوران کی کامیابیوں پر اپنے اندر نارنمرودبھڑکانااور خود بھی نیتاََ ایسی جھوٹی باتیں،تدبیریں اوردعوے کرنا کہ دوسرے بھی اسی طرح کی تپش میں جلتے رہیں۔یہ وہ رویے ہیں جن کو مضبوط ایمان کے ذریعے صرف اللہ تعالی کی مددسے گل و گلزاربناکر ان سے آزادہوجاناانبیاء علیہ السلام کاطریقہ ہے۔کیونکہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے جانے لگے توجبریل علیہ السلام نے پوچھا کہ میرے لائق کوئی حکم؟؟آپ علیہ السلام نے انکارکردیا۔پھرباردیگرجبریل علیہ السلام آیااورکہااب اللہ تعالی پوچھ رہاہے کہ مجھ سے کچھ مانگناہے؟؟ہم جیساہوتاتوچیختا دھاڑتاکہ آگ میں گرنے والاہوں اور ابھی بھی پوچھ رہے ہو کہ کیاکرناہے۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اتناپوچھاکہ کہ کیایہ سب اللہ تعالی دیکھ رہاہے،توجبریل نے اثبات میں جواب دیاتب آپ علیہ السلام نے کہاکہ جاؤ مجھے اپنے رب سے بھی کچھ نہیں کہنا۔پس اپنے سینوں میں لگی آگ بھی سنت ابراہیمی سے گل و گلزار بنائی جاسکتی ہے۔

طالمودکے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عراق سے کنعان(فلسطین) کی طرف اپنی زوجہ محترمہ حضرت سارہ کی معیت میں ہجرت کی،حضرت سارہ آپ علیہ السلام کی چچازادبہن تھیں اورروایات کے مطابق حضرت لوط کی سگی ہمشیرہ تھیں اور بہت مالدارخاتون تھیں۔اس سفرہجرت میں مصرکے بادشاہ سے آپ کی ملاقات ہوئی تواس نے آپ کوایک خاتون حضرت ہاجرہ تحفے میں دی،آپ علیہ السلام نے ان سے بھی نکاح کرلیا۔اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کواسمائیل علیہ جیسا فرزندارجمندعطاکردیا۔پیرانہ سالی میں بیٹاملاتو اللہ تعالی کے حکم سے بیوی اوربیٹے کو لق دق صحراکے عین نشیب میں تن تنہاچھوڑ آئے۔جب کبھی اونچے مقام پر پہنچتے تواللہ تعالی سے پوچھتے کہ یہاں چھوڑ دوں؟؟جواب ملتاکہ نہیں۔کیونکہ اونچی جگہ سے مشکل وقت میں کسی مددگارتک نظروں کے پہنچنے کاامکاان موجودتھا۔جب بالکل نشیب میں پہنچے اورچاروں اطراف میں بلندوبالا پہاڑ سینہ تانے دشت تنہائی کی دہائی دے رہے تھے تو حکم الہی ہوا کہ یہاں چھوڑ دو۔ہوناتویہ چاہیے تھا کہ کسی جنگلی جانور کے حملے میں یہ بیٹابھی ہاتھ سے جاتااور نسل ابراہیم علیہ السلام گم گشتہ ہوجاتی۔لیکن جواہل ایمان اللہ تعالی پر توکل کرتے ہیں اللہ تعالی انہیں کافی ہوجاتاہے۔ایک ہی بیٹے کوبھی صحرامیں بے آسراچھوڑ کرآنے والے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل تاقیامت اس زمین پر اپناوجودمنواتی رہے گی۔آج اپنا اوراپنی اولادوں کابیمہ کرانے والوں کے لیے اس میں بہت بڑادرس توکل ہے کہ مستقبل کاانحصارمادیت پر رکھنے کی بجائے اللہ تعالی کی ذات پر اعتماد کرکے استوارکیاجائے کہ اللہ تعالی سب سے بڑھ کراپنے وعدے پورے کرنے والاہے اوراپنے فوت ہونے کے بعداولادکی فکرکرنے کی بجائے اولاد کے فوت ہونے کے بعداولاد کی کی فکر اجاگرکی جائے۔

تشنہ کام صحرائی ٹیلوں کے درمیان جب مشکیزہ خشک ہوا توصفاومروہ کے درمیان مامتاحالت پریشانی میں دوڑتی بھاگتی اورقطرہ حیات کو تلاشتی اس حال میں تگ و دوکرتی نظر آئی کہ دل اللہ تعالی کی طرف،آنکھیں لخت جگرکی طرف اورجسم اطہرتلاش و بسیارآب میں سرگرداں ہے۔شان خداوندی کہ  ننھے اسمائیل علیہ السلام کے قدموں سے اللہ تعالی نے شیریں پانی کاچشمہ زم زم جاری کردیا۔اللہ کرے کی آج کی مامتابھی اتنی سرخ روہو کہ اس کے نونہال بھی عالم انسانیت کے لیے سکون واطمنان اور طمانیت روحانی کے ابلتے ہوئے چشموں کاباعث بنیں۔ایک اسمائیل علیہ السلام کے قدموں سے پانی کاچشمہ رواں کرکے قدرت خداوندی ختم نہیں ہوگئی۔آج کی مائیں بھی اپنے جگرگوشوں کو روشن مستقبل کے نام پر خود غرضی اورہوس زرسکھانے کی بجائے انبیاء علیھم السلام کی سنتوں کے مطابق کل انسانیت کے لیے متقین کاامام بنانے کی خواہش کریں توجس طرح جنت ماں کے قدموں تلے آسکتی ہے اسی طرح بنی آدم کی سیرابی کے چشمے بھی ایسی ماؤں کے لعل اپنے قدموں سے پھوٹ نکال سکتے ہیں۔حضرت اسمائیل تھوڑے سے اور بڑے ہوئے تو انہیں ذبح کرنے کاحکم آگیالیکن یہ ایک امتحان تھا جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کامیاب ہوئے اور جنت سے لایاگیامینڈھاقربان ہوگیا۔ایک ہی اکلوتابیٹا اوروہ بھی اللہ تعالی کی راہ میں قربان کرنے چل کھڑے ہوئے،راستے میں تین جگہ شیطان نے بہکایالیکن عزم صمیم میں جنبش نہیں آئی۔بیٹے کے سامنے ارادے کااظہارکیاتو بیٹابھی آداب فرزندی میں معراج سعادت کوپاگیا اورجب چھری چلی توعرش معلی سے گونجتی ہوئی صدا زمین تک آن پہنچی کہ اے ابراہیم علیہ السلام آپ نے اپناخواب سچ کردکھایااور فرمانروائے کائنات نے اس عمل کو”ذبح عظیم“قراردے دیااور اس قربانی کے نتیجے میں امامت عالم آپ علیہ السلام کو مرحمت ہوگئی اورآپ علیہ السلام ”خلیل اللہ“کے مقدس لقب سے ملقب ہوئے۔بڑی بڑی خواہشات کی قربانی میں چھوٹی خواہشا ت خودبخود قربان ہوجاتی ہیں،انسان زبان سے کسی کوبھی خداکہتارہے لیکن نامہ اعمال میں خداسی کو لکھاجاتاہے جس کے لیے وہ قربانی دیتاہے۔جواولادکے لیے قربانی دیتاہے وہ اولادکاعبدہے،کوئی دولت کومعبود مانتاہے،کوئی نفس اورہوس نفس کابندہ ہے توکسی نے خوبصورت چہروں کو صنم بنارکھاہے اور کوئی حکومت اوراقتدارکے پجاری ہیں،کسی کو اپناوقت،اپنی پیشہ ورانہ مہارت،اپناآرام اوراپنے روزمرہ کے معمولات خدائی عبادت کی حدتک عزیزہیں تویہ سب جھوٹے خداؤں کے ماننے والے ہیں،ہاں جوان سب کو ایک اللہ تعالی کے نام پر دن میں پانچ مرتبہ قربان کردیتے ہیں تووہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح سچے خداکے عبادت گزارہونے کاثبوت فراہم کرتے ہیں۔باپ بیٹے نے مل کر خانہ کعبہ کی عمارت کی تاسیس نوکی اورحج و عمرہ جیسی بابرکت مناسک کاآغازہوا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام مہمان نواز تھے،بغیرمہمان کے کھانانہیں کھاتے تھے۔کتب میں لکھاہے کہ پوراپورادن گزرجاتااور مہمان کے انتظارمیں بھوکے رہتے تھے اوربعض اوقات مہمان کی تلاش میں دودو میل دورتک نکل جاتے تھے۔ایک بار دوران تناول معلوم ہواکہ مہمان کافرہے۔آپ علیہ السلام نے اسے گھرسے نکال دیا،اس پراللہ تعالی نے وحی کی کہ اے ابراہیم علیہ السلام وہ کفرتومیراکرتاہے اورمیں اسے ہمیشہ رزق فراہم کرتاہوں لیکن آپ نے اسے ایک وقت کاکھانابھی نہ کھلایا،تب حضرت ابراہیم علیہ السلام اسے پکڑکرلائے اوردسترخوان پر بٹھادیا۔قرآن نے بتایاکہ ایک باردومہمان آئے لیکن انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا،استفسارپرانہوں نے بتایاکہ وہ فرشتے ہیں اور بیٹے کی خوشخبری دینے آئے ہیں۔پس دیوار حضرت سارہ ٹھٹھہ لگاکرہنسیں کہ کیااب ہمارے ہاں بیٹاہوگاجب کہ میرے شوہر بڈھے کھوسٹ اورمیں بوڑھی بانجھ ہوچکی ہوں؟؟توان انسانی شکل میں ملائکہ نے کہاکہ اے محترمہ بی بی پاک صاحبہ،کیاآپ اللہ تعالی کی قدرت پرہنستی ہو؟؟۔اس کے کچھ ہی عرصہ بعداللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو حضرت اسحق علیہ السلام جیسا ہونہار بیٹاعطاکیاجو بعدمیں اللہ تعالی کے نبی بنے۔تاریخ انسانی میں کچھ امورکاآغازحضرت ابراہیم  علیہ السلام  سے ہوا، سیرت نگاروں کے مطابق قبیلہ بنی نوع انسان میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بال سفیدہوئے تھے،انہوں نے دیکھ کر اللہ تعالی سے پوچھاکہ یہ کیاہے،اللہ تعالی نے فرمایاکہ یہ ہمارانورہے۔ختنے کی ابتداحضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی،آپ علیہ السلام  نے پیرانہ سالی میں ”قدوم“نامی ایک ہتھیارسے اپناختنہ کرایااور اس وقت حضرت اسمائیل  علیہ السلام کی عمرمبارک تیرہ برس کی جب کہ حضرت اسحق علیہ السلام کاختنہ پیدائش کے فوراََبعدکردیاگیاتھا۔ ہاتوں اورپاؤں کے ناخن تراشنا،زیرناف اور زیربغل بال صاف کرنا،استنجہ کرنا،حج و عمرہ و طواف،داڑھی کاخط کرنا اورطہارت و نظامت سے متعلق دیگرکئی امور آپ علیہ السلام کی سنتیں جانی جاتی ہیں چنانچہ ان میں سے جوامورفطرت ہیں وہ یہودی،مسیحی اور امت مسلمہ سب میں رائج ہیں۔

بعض روایات کے مطابق ”ہاران“آ کے سگے بھائی تھے،ان کے بیٹے کانام ”لوط“تھا۔”ہاران“وہ پلے فردتھے جوحضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لے آئے تھے۔والدکی وفات کے بعد حضرت لوط اپنے چچایعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ رہنے لگے،بعد میں انہیں بھی مقام نبوت عطاہوگیاتھا۔فلسطین ہجرت کرنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت لوط علیہ السلام کو قریب کی بستی ”سدوم“کی طرف بغرض اصلاح بھیجاجو اخلاقی برائیوں میں مبتلاتھی۔اس قوم نے اپنے نبی کی بات نہ مانی اورعذاب الہی کاشکارہوکر تباہ و بربادہوئی۔عذاب کے ایک ہفتے بعدجب حضرت ابراہیم علیہ السلام اس قوم کی زمین پر تشریف لے گئے تو طالمود کے مطابق آپ علیہ السلام نے فرمایا بستی الٹی ہوئی تھی اورنیچے ایسی آوازیں آرہی تھیں جیسے ہنڈیاکھول رہی ہو،الامان والحفیظ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کم و بیش 175برس کی عمر پائی۔آپ علیہ السلام کے کل آٹھ بیٹے ہوئے اوراولادوں کی تعدادتیرہ تک ملتی ہے۔حضرت سارہ اور حضرت حاجرہ علیھماالسلام کے علاوہ بھی متعدد نکاح آپ سے منسوب ہیں۔حضرت سارہ فلسطین میں ہوتی تھیں اور حضرت حاجرہ مکہ میں۔آپ علیہ السلام کامستقل قیام تو فلسطین میں ہی تھالیکن آپ علیہ السلام مکہ بھی آتے رہتے تھے،خاص طورپر خانہ کعبہ کی تعمیرکے بعد مناسک حج وعمرہ کی ادائگی کے لیے آپ علیہ السلام بصدشوق تشریف لایاکرتے تھے۔آپ علیہ السلام نے فلسطین میں وصال پایااور ”رملہ“کے مقام پر مدفون ہوئے۔اللہ تعالی نے سب انبیاء علیھم السلام کو جداگانہ خصوصیات عطاکی ہیں،حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نمایاں خصوصیت  دانشورہوناہے۔آپ علیہ السلام نے اپنی دانست سے توحیدکاسبق حاصل کیااور استقامت سے حالات کامقابلہ کیااورقربانی سے قرب خداوندی حاصل کرلیا۔آپ علیہ السلام نے عالمی دعوت الی اللہ کاآغازکیا،خود فلسطین میں رہے،بیٹے کو مکہ میں تعینات کااوربھتیجے کو سدوم کی طرف روانہ کیا،جب کہ اس زمانے میں سدوم کی بستی افریقہ اورایشیاکے درمیان شاہراہ تجارت پر واقع تھی اور آئے دن تجارتی قافلے وہاں پڑاؤ کیاکرتے تھے۔روزقیامت ہر نبی اپنی امت کی قیادت کرے گااورجن انبیاء علیھم السلام کی امتیں نہیں ہوں گی یا عذاب کاشکارہوچکی ہوں گی وہ الگ سے ایک گروہ کی شکل میں عرش الہی کے سائے میں کھڑے ہوں گے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی بغیرامت کے ہوں گے لیکن وہ امتوں کی صف میں اکیلے کھڑے ہوں گے، یعنی اپنی دانست اورعقل و خرد کے باعث وہ فرد واحدکے باوجودبیک وقت نبی اور امت دونوں کااستحقاق شرف(پروٹوکول)لیے ہوئے ہوں گے۔سلام علی المرسلین والحمدللہ رب العالمین۔

drsajidkhakwani@gmail.com


شیئر کریں: