Chitral Times

Oct 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پیغامِ عید الاضحیٰ ۔ سردار علی 

شیئر کریں:

پیغامِ عید الاضحیٰ ۔ سردار علی

ذوالحج  اسلامی مہینوں میں  بارواں مہینہ ہےجسے بزرگ  اور الہی رحمتوں سے بھر پور  مہینہ کہا  جاتاہے۔ اس مہینے میں مسلمانانِ عالم خانہ کعبہ جا  کرحج کی سعادت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ خدا کے عشق و محبت سے سرشار ہوکر قربانی کے مقدس فریضےکو انجام دیتے ہوئے  خدا کے حضور سربسجود ہوکر اپنے گناہوں کا استغفار  کرتے ہوئے  د نیائے انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے یک  زبان ہوکر  دعا  کرتے ہیں ۔

قربانی درحقیقت  سنتِ ابراہیمی ہے جس میں  بہت سی حقائق مخفی ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ قربانی کا فریضہ ادا کرنے کیلئے  عشق و محبت  بنیادی چیز ہے جس کے بغیر قربانی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ِ گرامی ہے ۔لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَوَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ     ٘۔ (3.92)

ترجمہ: جب تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ تعالٰی کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے  اور تم جو خرچ کرو اسے اللہ بخوبی جانتا ہے۔

غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اللہ رب العزت کو کسی مادی چیزوں کی ضرورت بالکل  نہیں ہے۔ جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے

لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْۚ (22.37)

ترجمہ: اللہ تعالٰی کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ ان کے خون بلکہ اسے تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے۔

پس معلوم ہوا کہ اللہ کو صرف محبت، خلوص اور عشق کی ضرورت ہے کیونکہ  وہ  دلوں کے رازوں کو خوب  جاننے والا ہے           ۔ جس کے دل میں جتنا خلوص ہوگا خدا کو اتنا ہی  پسند ہوگا۔جیسا کہ حضرت ابراہیم ؑ نے  اللہ تعالیٰ کی ذات ِ اقدس پر بھروسہ اور یقین کرتے ہوئے اپنے اکلوتے   بیٹے حضرت اسماعیل ؑ  کو اس کی راہ میں قربان کردیا ۔جب عشق اپنے انتہا کو پہنچتا ہے تو محبوبِ حقیقی کی محبت کیلئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کیلئے دریغ نہیں کیا جاتاہے  ۔اسی جذبہ ایمانی اور عشق و محبت سے جب انسان روحانی طور پرمعراج حاصل کرتا ہے وہ  کبھی بھی نہیں مرتا  اور اس کا نام تاریخِ انسانیت میں ہمیشہ  کیلئے لکھا جاتا ہے جیسا کہ حافظ شیرازی رح فرماتے ہیں۔

ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بہ عشق

ثبت  ست بر جریدہء عالم دوامِ ما

ترجمہ: جس انسان کا دل عشق کی وجہ سے زندہ ہے وہ کھبی بھی نہیں مرتا  اور اس کا نام دنیا کی تاریخ میں ہمیشگی کیلئے زندہ اور قائم  ہوچکا  ہے۔

جیسا کہ حضرت ابراہیم ؑ کی قربانی کے اس  واقعے سے یہ بات  واضح ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اللہ   تعالیٰ کے عشق سے سرشار ہوکر  اپنے  بیٹے اسماعیلؑ کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کیلئے امادہ ہوئے  جس کو خدا نے  پسند فرمایا  کہ   اسے   ذبحِ عظیم کا نام دیا اور  آئندہ انے والے مسلمانوں میں اسے تا قیامت جاری رکھا  ۔یہی وجہ ہے کہ امتِ مسلمہ حضرت ابراہیم ؑ کی اس قربانی کو ہر سال ذوالحج کے مہینے میں عزت و احترام ،شان و شوکت اور یادگار کے طور پر  مناتی ہے۔

حضرت ابراہیمؑ کی اس شاندار  قربانی  سے یہ حقیقت بھی  عیاں ہوتی ہے کہ اللہ تعالی جب بھی کسی کو  ترقی کی منزل پر لے جانے کا ارادہ  فرماتا ہے تو اس پر آزمائشوں اور امتحانات کا سلسلہ شروع کردیتا ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ انبیا علیہ السلام  ہی خدا کی طرف سے آئی ہوئیں آزمائیشوں میں  کامیاب ہوئے ہیں جو عین الیقین کے اعلیٰ درجے پر فائز  ہوتے  تھے ۔ ارشاد خداوندی ہے۔

ولَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ٘2.155

ترجمہ:   اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔

اس آیت میں ہادیانِ برحق پر آئی ہوئی  آزمائیشوں کا ذ کر ہے جن میں  ان کے ماننے والے پیروکاروں کیلئے ایک سبق ہے کہ وہ بھی انبیاؑ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تکالیف اور مصائب کے وقت صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں۔ کیونکہ زندگی آزمائیشوں اور امتحانات سے بھری ہوتی  ہے ۔درحقیقت تکلیف کے وقت صبر کرنا، نئے چیلینچیز کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے اللہ کا شکر گزار رہنا  بھی ایک اہمقربانی ہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم ؑ کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ  ہم بھی  اپنے آپ کو  اللہ تعالیٰ  کی اطاعت گزاری کے لئے  مزکورہ  بہترین مثال  پر عمل  کرنا چاہیئے   جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ  وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۗ وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا  ٘ 4.125

ترجمہ: اور اس سے بہتر اور کس کا طریقِ زندگی ہوسکتا ہے جس نے اللہ تعالی ٰ کے آگے سرِ تسلیمِ خم کیا اور اپنا رویہ نیک رکھا  اور یکسو ہوکر ابراہیم ؑ کے طریقے کی پیروی کی ۔ اور ابراہیم ؑ کو اللہ نے اپنا دوست بنالیا تھا ۔

یہ آیت بتا رہی ہے کہ اصل مومن وہی ہے جو خدا کی رضا جوئی کو ہر چیز پر مقدم سمجھتے ہوئے اپنی عزیز ترین چیز کو خدا کی راہ میں قربان کردینے سے دریغ نہ کریں۔

اس قربانی کی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمیں بےداغ اور بے عیب  چیزوں کی قربانی کیلئے آمادہ ہونا ہے کیونکہ قربانی  صاف اور پاکیزہ جانور کی قربانی  کی جاتی ہے تاکہ خدا کی رضا حاصل ہو۔ اس کا مطلب یہ  بھی ہے کہ ہمیں اپنی کمائی حلال طریقے سے حاصل کی   جانی چا ہئے تاکہ حلال کمائی سے ہماری اولاد بڑے ہوکر   ماں باپ کیلئے  طابعداری اور اطاعت گزاری کا  مظاہرہ کریں اور دینی خدمات انجام دینے کا اہل ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ ہر شخص کا کوئی نہ کوئی اسماعیل ہوتا ہے  جسے اللہ کی راہ میں قربان کرنا مشکل ہوتا ہے جیسے کسی کا مال، کسی کی اولاد، کسی کا نفس، کسی کا عہدہ اور کسی کا پیار اس کے اسماعیل ہوتے ہیں۔ان تمام چیزوں کو اللہ کی رضا کے لئے قربان کردینا اور مخلوقِ خدا کی مدد کرنا  ہی در آصل سنتِ ابراہیمی کی زندہ  مثال ہے ۔

حضرت ابراہیم ؑ کی اس شاندار قربانی کے پیچھے ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے اسماعیلؑ کو ذبح کرتے وقت ہاتھ اور پاؤں باندھے تھے اور اسماعیل بار بار یہ فرماتے تھے جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے ۔

قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ   ٘ 4.125

ترجمہ: وہ بولے اے آبا جان آپ کو جو حکم ہوا ہے آپ کیجئے ۔ انشااللہ آپ مجھ کو صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔

اس آیت پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہاں نہ صرف باپ اور بیٹے کے درمیان ایک رشتہ ہے بلکہ ایک صاحبِ شریعت پیغمبر  اور اس کے ایک اہم  امتی  یعنی اسماعیل ؑ کے درمیان ایک عہدو پیمان کا مظاہرہ  ہوتاہے۔ یعنی اگر ایک پیغمبر اپنے کسی امتی سے جان کا نزرانہ بھی طلب فرمائے  تو  اپنے آقا کی خوشنودی کے خاطر  امتی کو اپنی جان دینے کیلئے دریغ نہیں کرنی چاہیئے ۔اس لئے ہمیں چاہئے کہ اپنے حبیب  حضرت محمد ﷺ کے اسوہ حسنہ کو  اپنے ماں باپ، اپنی ذات، اپنے مال و دولت اور اپنی جان سے بھی زیادہ  عزیز سمجھنا چاہئے ۔ جیسا کہ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رح نے فرماتے ہیں۔

بہ مصطفیٰ برسان خویش  را کہ دین ہمہ اوست

اگر بہ او نہ رسیدی تمام  بولہبی است۔

ترجمہ: تو  اپنا  وجود ، اپنی ذات یعنی  سب کچھ محمد مصطفیٰ ﷺکے  سپرد کردے  کیونکہ  دینِ اسلام تو اسی  رحمت اللعلمین کا لایا ہوا ہے ۔ اگر تو اپنا  تن من دھن اسے دینےکیلئے راضی نہیں ہیں تو(محمد ﷺ ) سے  تمہار ی  محبت کا دعوا   ابو لہب   جیسا ہوگا ۔

مسلمان ہر سال دنیا بھر میں سنتِ ابراہیمی پر عمل پیرا ہونے  کیلئے بڑے جوش وخروش سے قربانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں لیکن قربانی کی اصل روح کو نظر انداز کردیتے ہیں وہ  اس طرح  کہ ہم خدا کی رضا کیلئے  نہیں بلکہ معاشرے کے لوگوں کو  اپنی شخصیت کا دیکھاوا کرنے کیلئے قرض لیکر قربانی کا جانور حاصل کرتے ہیں اور اسے بھی تقسیم کے وقت زیادہ تر حصہ اپنے فریچ میں اسٹور  کرلیتے ہیں۔ پڑوسی چاہے جس حالت میں بھی ہو  اس کی خبر گیری تک بھی نہیں کرتے۔ اپنے گھر میں ہر روز قربانی کا گوشت پکاتے ہیں لیکن غریب اور بے سہارا لوگوں کے گھر میں اس مہنگائی کے دور میں ایک وقت کی روٹی  بھی میسر نہیں ، کو کچھ    نہیں دیتے ۔ ایسے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ قربانی کے اصل روح کو سمجھا جائے۔ قربانی کی روح یہ ہے کہ جسطرح ہم عید قربان میں جانور ذبح کرنا نہیں بھولتے  تو اس طرح عید قربان کے بعد بھی غریبوں اور بے سہارا لوگوں کو بھی  نہیں بھولنا چاہئے۔ہمیں اپنی پوری زندگی میں اپنے رشتہ داروں، پڑوسیوںاور غریبوں کی مدد اور تعاون کیلئے عملی قربانی کیلئے تیار رہنا چاہئے کیونکہ قربانی ایک دو دن کیلئے مختص نہیں بلکہ سال بھر احکامِ خداوندی کے مطابق زندگی گزارنے کے عہد کا نام  ہے ۔

عید کا پیغام یہ ہے کہ    معاشرے کے غریب ،ناتواں اور بےسہارالوگوں کا سہارا بن کر ان کی مدد کرنا ہی اصل عید ہے ۔ اپنے مال میں دوسروں کو شامل کرنا ، یتیموں اور مسکینوں کی خبر گیری کرنا گویا  آخرت کی زندگی کو آباد کرنا ہے ۔مختصر یہ کہ مسلمانوں کے دلوں سے مادی اشیا کی چاہت اورمحبت کم کردی جائےتاکہ خدا کی مقدس محبت اس میں جاگزین ہوسکے۔خدا کی محبت کے لیے خدا  کی مخلوق کے ساتھ  محبت کی جائے۔اپنے گھر میں اپنے ماں باپ کے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش ائیں ۔ اگر گھر میں ماں باپ راضی نہیں ہیں تو اس صورت میں جتنی بھی ظاہری چیزوں کی قربانی دی جائیں سب  رائیگان  جائیں گی کیونکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی روح بھی یہی ہے  کہ مخلوقِ خدا کا حق ادا کیا جائے۔ جو کام بھی انجام دیا جائے وہ دیانت داری ، ایمانداری اور ذات پات ، رنگ و نسل سے بلاتر ہوکر انسانیت کی خدمت  کی جائیں۔ سعدیشیرازی  فرماتے ہیں۔

تو کس محنتِ دیگران بے غمی

نہ شاید کہ نامد نہند آدمی۔

ترجمہ: اگر تو دوسروں کی مدد کرنے اور ان کی تکلیف  دور کرنے سے بے فکر ہے تو  تیرا نام بھی تکلیف انے کی صورت میں لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔

 


شیئر کریں: