Chitral Times

Feb 28, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خلیل الله اور عید الاضحی – بقلم کلثوم رضا

Posted on
شیئر کریں:

خلیل الله اور عید الاضحی – بقلم کلثوم رضا

کہاں ہے میری بیٹی؟ ۔۔۔مریم ۔۔۔مریم۔۔۔ صائم نے گھر میں داخل ہوتے ہی بیٹی کو پکارا تو مریم کی امی نے بتایا کہ چچا کے گھر گئی ہے۔ صائم نے چھت سے آواز دے کر اسے بلایا تو مریم بھی چہک چہک کر پوچھتی ہوئی آئی کہ ابو! کیا آپ میرے لیے کچھ لے کر آئے ہیں؟
صائم نے جیب سے چاکلیٹ نکال کر بیٹی کو تھما دی۔ مریم نے خود کھانے سے پہلے امی کے پاس آکر حسب عادت کہا

“امی پہلے تھوڑی سی آپ چکھ لیں” امی نے کہا
“نہیں میری جان! آج میرا روزہ ہے” اس پر مریم نےجھٹ سے پوچھا
“امی کیا عید آنے والی ہے؟ آپ نے روزہ جو رکھا ہے”
“جی بیٹا عید الاضحی کے لیے صرف چار دن رہ گئے ہیں” امی نے جواب دیا
مریم بولی” آپی بتا رہی تھیں کہ عید قربان آنے والی ہے”
“دونوں ایک ہی ہیں۔ یعنی عید الاضحی کو عید قربان بھی کہتے ہیں” امی نے بتایا

“اچھا۔۔۔عید قربان اس لیے کہتے ہیں کہ اس دن جانور قربان کرتے ہیں مگر عید الاضحی کیوں کہتے ہیں؟” مریم نے پوچھا
“اضحی اضحیہ سے نکلا ہے۔ اضحیہ عربی میں قربانی کو کہتے ہیں۔ ہر اس جانور کا نام اضحیہ ہے جسے قربانی کے دن ذبح کیا جائے۔” امی نے مزید بتایا۔ پاس بیٹھی وجیہہ بھی امی اور مریم کی گفتگو سن رہی تھی بولی
“امی آپ نے بڑی دلچسپ بات بتا دی۔ کیا ہر قسم کے جانور کو اضحیہ کہا جا سکتا ہے؟”
“نہیں بیٹا صرف اس خاص عمر کے جانور کو جسے الله کا قرب حاصل کرنے کے لیے مخصوص وقت میں ،مخصوص شرائط و سبب کے ساتھ ذبح کیا جائے اسے اضحیہ کہتے ہیں” امی نے جواب میں کہا

“امی ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے مسلمان قربانی کرتے آ رہے ہیں نا؟ وجیہہ نے پھر ایک سوال کیا
“بیٹا ۔۔قربانی ہر شریعت کے نظام عبادت میں موجود رہی ہے۔ البتہ مختلف زمانوں میں مختلف قوموں، مختلف نبیوں کی شریعت میں ان کے حالات کے پیش نظر
قربانی کے قاعدے مختلف رہے ہیں۔” امی نے وجیہہ کو بتایا
“امی! ابو سے کہیں نا۔۔۔میرے لیے بیل خرید لائیں قربانی کے لیے” اب مریم نے فرمائش کی
“ان شاءالله تعالیٰ لائیں گے” امی بولیں۔ وجیہہ مریم کو بتانے لگی کہ “حضرت ابرہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو قربانی کے لئے لے گئے تھے، پھر الله تعالیٰ نے ان کی قربانی قبول کر کے اس کی جگہ مینڈھے کو قربان کروایا”

“حضرت ابرہیم علیہ السلام کی قربانی صرف بیٹے کی قربانی نہیں تھی بلکہ عزم و یقین اور سپردگی و فدایت کا عملی اظہار تھا کہ جو کچھ بھی اس کے پاس ہے وہ سب الله کا ہے اور اسی ذات کی راہ میں سب کچھ قربان کرنا ہے جس نے دیا ہے۔” امی نے اس کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا
“مولانا مودودی رح اپنی کتاب خطبات میں ابراہیم علیہ السلام کی سیرت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں”کہ آپ علیہ السلام نے ابتدائے جوانی میں ہوش سنبھالنے کے بعد ہی جب اپنے خدا کو پہچانا اور پا لیا تو الله نے ان سے کہا تھا “اسلم” یعنی اسلام لے آ، اپنے آپ کو میرے سپرد کر دے، میرا ہو کر رہ اور آپ علیہ السلام نے جواب میں قول دیا تھا کہ
“اسلمت لرب العالمین” (سورۃ البقرہ پارہ نمبر 2 آیت نمبر 131)
ترجمہ:- “میں نے اسلام قبول کیا، میں رب العالمین کا ہو گیا، میں نے اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیا۔”
اس قول و قرار کو اس سچے آدمی نے تمام عمر پوری پابندی کے ساتھ نبھا کر دکھایا۔ اس رب العالمین کے لیے صدیوں کے آبائی مذہب اور اس کی رسموں اور عقیدوں کو چھوڑا اور دنیا کے ان سارے فائدوں کو چھوڑا جسے اپنا کر وہ اپنی قوم کا پیر بن سکتے تھے۔ اپنی جان کو آگ کے خطرے میں ڈالا۔ جلاوطنی کی مصیبتیں سہیں۔ ملک ملک کی خاک چھانی۔ اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ رب العالمین کی اطاعت اور اس کے دین کی تبلیغ کے لیے صرف کر دیا اور بڑھاپے میں نصیب ہونے والی اولاد کو بھی الله تعالیٰ کی طرف سے اشارہ پاتے ہی اپنے ہاتھوں ذبح کرنے پر آمادہ ہو گئے۔

انہی قربانیوں کی وجہ سے الله نے ان سے دوستی کی اور انہیں خلیل الله کا لقب دیا۔ ان ساری آزمائشوں پر پورا اترنے کے بعد الله تعالیٰ نے فرمایا کہ ہاں اب تم نے اپنے مسلم ہونے کے دعوے کو بالکل سچا کر دکھایا اب تم اس کے اہل ہو کہ تمہیں ساری دنیا کا امام بنایا جائے۔ اسی بات کو قرآن میں یوں ارشاد کیا گیا ہے کہ:
“و اذ ابتلی ابراہیم ربہ بکلمت فاتمھن ،قال انی جاعلک الناس اماما” (البقرہ۔پارہ 2ایت 124)

ترجمہ: “اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں پر آزمایا اور وہ ان میں پورا اتر گیا تو فرمایا کہ میں تجھے انسانوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔”
چنانچہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں بہت سے انبیاء آئے اور آخر میں ایک کامل انسان اٹھا جس کا نام “محمد صلی الله علیہ وسلم” ہے۔ الله تعالیٰ نے محمد صلی الله علیہ وسلم کو بھی ان قربانیوں کو پوری زندگی جاری وساری رکھنے کی تعلیم دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان پر پورے اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت مسلمہ کو بھی یہی تعلیم دے کر گئے” امی نے مزید تفصیل سے سمجھایا

“امی ہم ایسی کونسی قربانی دیں جس سے رب العالمین ہم سے بھی راضی ہو جائیں” وجیہہ نے پوچھا
“بیٹا ہمارے پاس کیا نہیں قربان کرنے کو الله کا دیا سب کچھ تو ہے۔ الحمدالله اچھی صحت ہے، عزت ہے، دولت ہے، خاندان، گھر بار، صلاحیت،
قابلیت، علم و ہنر یہ سب اسی کی تو دین ہے۔ ان میں ہر وہ چیز جو الله تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا زریعہ ہو، اس کے راہ میں لگا سکتے ہیں” جب امی نے بات ختم کی تو ماحول کچھ ایسا بن گیا تھا کہ بچوں نے یک زبان ہو کر کہا “ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی لله رب العالمین، لا شریک لہ”
“شکریہ امی آج تو آپ نے ہمیں بہت کچھ دیا” وجیہہ نے کہا اور امی نے محبت سے دعا دی کہ الله تعالیٰ ہماری چھوٹی بڑی ساری عبادات قبول فرمائے آمین۔


شیئر کریں: