Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جلتے کیلاشیوں نے مجھے تکلیف پہنچائی۔لکشن بی بی رو رہی تھی۔تحریر: فاتح اللہ

شیئر کریں:

جلتے کیلاشیوں نے مجھے تکلیف پہنچائی۔لکشن بی بی رو رہی تھی۔تحریر: فاتح اللہ

کہتے ہیں کہ انتظار میں جو مزہ ہے وہ وصال میں نہیں لیکن جس انتظار سے اب ہم گزر رہے تھے اس کا ایک ایک پل منٹوں سے گھنٹوں میں بدل گیا ۔ ہم نے ایک ایک منٹ گننا شروع کر دیا۔ ہمارے اس پروگرام کی تفصیل کچھ اس طرح تھی ۔ اب لکشن صاحبہ تیار ہو رہی ہوں گی اب ناشتہ کرنے بیٹھی ہوں گی۔ اب کپڑے بدل لی ہوگی ۔ ہاں تو اب ناشتہ ختم ہوگیا ہوگا ۔ اب محترمہ اپنی تیاری کے آخری مراحل سے گزرر ہمارے پاس آئی ۔ اس تجسس کی وجہ یہ تھی کہ لکشن بی بی سے پہلی ملاقات کے بعد انٹرویو کے لیے وقت مجھے ملا تھا جو کسی بھی وقت تاخیر کا شکار ہوتا تھا اور دوبارہ لکشن بی بی کا پیغام آتا تھا کہ اب وہ ٖ فری ہوچکی ہیں ۔ مگر وہ کبھی بھی فری نہیں بلکہ ہمیشہ اس کا کسی نہ کسی کے ساتھ نشت ہوتی تھی۔ لکشن بی بی سے ملنے کیلاش کیمونٹی کے لوگ ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان سے لوگ ان کے رہائش گاہ میں ملاقات کے لئے موجود ہوتے تھے۔ اس کی وجہ سے مجھے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔

لکشن بی بی سے میری پہلی ملاقات کے بعد ملاقاتیں مزید ہفتوں تک جاری رہی حتی کہ وہ نیورک پہنچ گئی ، میں جاننے کے لیے بے تاب تھا کہ آخر لکشن بی بی کیسی ہے۔؟ ، ماضی کیسا تھا ۔؟، حال کیسا ہے اور سب سے بڑھ کر مستقبل کیسا ہوگا ۔ ۔۔؟ زندگی میں پہلی مرتبہ کسی کو قریب سے جاننا چاہتا ہوں ۔

مزید سطور لکھنے کے بجائے دوستوں کی معلو مات کے لئے بتا تا چلو ں کہ لکشن بی بی پاکستان کے صوبے خیبر پختو نخوا کے ایک ڈسڑکٹ ضلع لوئیر چترال سے تعلق رکھتی ہیں جو کہ ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ لکشن بی بی کی پیدائش وادی رمبور میں ہوئی ہے اور کیلاش کیمونٹی سے تعلق رکھتی ہیں ۔لکشن بی بی نے ایک گمنام کمیونٹی کو دنیا کے سامنےایک اچھے انداز میں پیش کیا ۔ لکشن بی بی کی خدمت کو نہ صرف کیلاش بلکہ ضلع کے تمام لوگ سراہتے ہیں ۔ کیلاش کیمونٹی کے لیے ان کی خدمات تاحیات نا قابل فراموش ہیں ۔ لکشن بی بی کی شہرت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صوبے بھر کی پہلی خاتون پائلٹ تھی ۔ لکشن بی بی کا تعلق کلاش کمیونٹی سے ہونے کے باجود وہ کیلاش کمیونٹی کو ہی نہیں بلکہ پاکستان کو بھی چھوڑ کر امریکہ میں زندگی گزر رہی ہے۔ ایک وقت تھا جنرل پرویز مشرف ملاقات کے لئے وادی کیلاش چلے آئے اور لکشن بی بی سے ملاقات کے بعد انہیں اسلام آباد بلالیا اور اس وقت ا نہیں کروڑوں روپوں سے نوازا تاکہ لکشن بی بی اپنے علاقے کے محرومیوں کو دور کر سکے۔ اس کے علاوہ سابق وزیر عظم پاکستا ن یوسف گیلانی سے بھی وزیر عظم ہاؤس میں ملاقات کیا ۔ یہاں لمبے سطور لکھنے کا کوئی اور مقصد نہیں بلکہ اس کے حوالے سے لوگوں کو چند معلومات فراہم کرنا ہے ۔ کیونکہ گزشتہ کالم ” لکشن بی بی کے ساتھ ادھوری ملاقات ” میں بہت سارے دوستوں نے کہا کہ وہ لکشن بی بی کو جانتے تک نہیں اور اس کالم کے بعد وہ لکشن بی بی کے بارے میں جاننے کے لئے بے تاب ہیں ۔

اکثر ملاقات کے دوران لکشن بی بی اپنی ماضی کو دوہراتی تھی پتہ نہیں آخر وہ ہر کسی کو اپنے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی کو کیوں تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے ہمیں اس کا کوئی علم نہیں شاید وہ تو اس کی اپنی ذات تک محدود ہوگی ۔ برحال اس پر میں بھی افسوس کا اظہار کرتا تھا اور اس کے ماضی کو مزید پڑھنا چاہتا تھا ۔ جب بھی مجھے بتایا جاتا تھا کہ اب میں انٹرویو کر سکو ں گا تو کوئی نہ کوئی نمودار ہو کر میرے منصوبے پر پانی پھیر کر چلے جاتے تھے یہ سلسلہ ایک دن تک نہیں رہا بلکہ ہفتوں تک جاری رہا، جب وہ اگلے شام کو جانے والی تھی اس وقت انہوں نے اپنے کیمرہ مین کو میرے پاس بھیجا کہ کل شام کو وہ جا رہی ہے، انٹرویو بھی لیا جائے تب میں نے انہیں اپنا ہوم ورک دیکھایا کہ یہ سوالات میں نے تیار کیا ہے آپکو کوئی اعترض تو نہیں سوالات چیک کر لینا ۔تو انہوں نے ڈرٖافٹ بک دیکھی اور کہا کہ سارے سوالات زبردست ہیں مگر یہاں سے ایک وزیر زادہ کی سیاست پر جو پوچھنے چاہ رہے ہو یہ سوال ہٹا دو ، ” سوال یہ تھا کہ وزیر زادہ صاحب علاقے کے لیے کیا کچھ کیا ہے۔؟ کیا وہ کمیونٹی کے توقعات پر پورا اترتے ہیں” اس پر انہوں نے سوال ہٹانے کی بات کی اس کے بات کہا کہ بیٹا پہلے بھی میں ادھر تھا تو یہ ہی روڈ تھے اب سات سال کے بعد آئی ہوں تو وہی روڈ دیکھی ، میں سیاست سے بہت دور رہتی ہوں ، جب میں یہاں تھی تو کئی دفعہ وزیر بننےکی آفرز مجھے موصول ہوئے اس سلسلے میں میٹنگ بھی ہوا کرتی تھی اور میں اپنے علاقے کے لوگوں کو لے کر جاتی تھی وہ گواہ ہیں کہ میں نے ایسے آفرز ٹھوکرا دی ہیں ۔

لکشن بی بی نے ایک اور سوال کا ذکر کیا کہ یہ سوال مجھ سے نہ کیا جائے اور یہ سوال نجی زندگی کے حوالے سے تھا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بیٹا میں اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتی ۔ اس کے بعد آخری سوال میں یہ تھا کہ بحثیت پاکستانی شہری اپنے کمیونٹی کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے اس پر انہوں نے کہا کہ بیٹا میں اس وقت امریکی شہری ہوں، اس کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ لکشن بی بی نے ملک چھوڑنے کے بعد پاکستان کو اور یہاں کے اپنی کیمونٹی کو بھول چکی ہیں مگر میں غلط تھا کیوں کہ وہ اب بھی اپنے کیمونٹی کو ترقی پسند دیکھنا چاہتی ہے وہ ہر نشت میں جس بات پر زور دیتی تھی وہ یہی تھا کہ یہاں کہ نئی نسل تعلیم یافتہ ہو ں محنتی ہوں اور ایک دوسرے سے جلنے کے بجائے اتحاد سے رہے۔

چند دن پہلے لکشن بی بی نے مجھے سے کہا کہ بیٹا آپ میرے کیمرہ مین کا ساتھ دے اور لوگوں سے انٹرویو لے میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ کیا یہاں کے لوگ بدل گئے ہیں یا پہلے کی طرح جلیسی کا ماحول گرم ہے ۔ اس ضمن میں ہم نے بہت سارے لوگوں سے رائے لینے کی کوشش کی تو سنا کہ لکشن بی بی نے دیار غیر سے جتنی لوگوں کی مداد کی ہے اس کی مثال تاریخ میں کہیں پر بھی نہیں ملتی ۔ اکثر انٹریو میں ہم نے سنا کہ ہر چھے مہینے بعد انہیں لکشن کی طرف سے امداد مل رہی ہیں ۔ کئی نے بتایا کہ ان کے گھر کے بڑے وفات ہونے کے بعد انہیں گھر بنانے کے لیے بھی امداد ملے ہیں اس کے علاوہ لوگوں سے سنا کہ کئی یتیموں کو وہ تعلیم بھی دے رہی ہیں ۔ اس کے علاوہ ان کے رہائش گاہ میں دیکھا کے لوگوں کی بڑی تعداد شکریہ ادا کر رہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ان کے علاج معالجے کی تمام خرچہ لکشن بی بی نے اپنے ذمے لے کر انہیں بہترین علاج فراہم کروائی تھی اور ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو اس بار لکشن بی بی کے تواسط سے اپنا علاج کر سکیں گے۔

لکشن بی بی صرف مجھ سے ہی نہیں بلکہ ہر ملاقاتی سے گھنٹوں باتیں کرتی تھی اور اپنے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی کو ہر بار دوہراتی تھی نا جانے وہ کیا چاہتی تھی اس سے تو وہ خود واقف ہے اگر اس پر تجزیہ کیا جائے اور اپنے اندازے سے بات کرو تو اس کا صاف صاف یہ ہی مقصد ہم عکس کر سکتے ہیں کہ وہ بے قصور تھی ان کے خلاف جھوٹا کیس بنا یا گیا اور علاقے میں ایک غلط پیغام کو پھیلا کر انہیں بدنام کیا گیا تاکہ علاقہ میں کوئی اس کے ساتھ نہ چلے بلکہ پہلے سے موجود کرپٹ گروپ کے پیچھے چلے ” لکیر کی فقیر ” بنانے والے کرپٹ گروپ پہلے سے بہت منظم ہو جائیں ۔ یہ کرپٹ مافیا گروپ لکشن بی بی کو قبول نہیں کر رہے تھے انہیں اس بات کا ڈر تھا کہ کل علاقے میں اور اداروں کے سامنے ان کی اہمیت کم ہوگی اور ان کی دوکان بند ہو جائے گی۔ یہ مافیا کیلاش کلچر اور خواتین کو دیکھا کر سرکاری ، غیر سرکاری اداروں میں جو مقام پیدا کیا تھا وہ بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔ اس سازشی گروپ میں نامی گرامی شخصیات شامل تھے ۔ اس گروپ کے بارے میں لکشن بی بی نے بتایا کہ یہ لوگ انہیں کام کرنے سے روک رہے تھے کیونکہ لکشن بی بی خواتین کے لیے بشالینی( وہ جگہ جہاں کیلاش خواتین زچگی کے دنوں میں رہتی ہیں) کے اندرہیلتھ یونٹ تعمیر کر رہی تھی اس وقت لکشن بی بی کے خلاف کرپٹ مافیا گروپ نے باقاعدہ سازش شروع کیا ۔ لکشن بی بی کو ہر طرح تنگ کیا گیا انہیں ہر طرح سے نقصان پہنچانے کی بھر پور کوشش جاری رکھے۔ ان کے خلاف پریس کانفرنس کیا گیا ۔ میں نے لکشن بی بی سے پوچھا کہ آپ ڈر گئی کیا ۔۔؟ملک چھوڑنے کی کیا ضرورت تھی۔۔؟ ہنس کر جواب دیا بیٹا میں نے ان کے خلاف کچھ نہیں کیا اگر میں کرتی تو میں بہت کچھ کر سکتی تھی میرے پاس بے شمار اختیارت تھیں۔ میں ان سے ڈر کر ملک سے نہیں بھاگی بلکہ انہوں نے مجھے اس حد تک مجبور کیا کہ مجھ پر مذہبی الزمات لگائیں اس سے میری جان بھی خطرے میں پڑ سکتی تھی ۔ مجھے سب کچھ صاف صاف نظر آرہی تھی کہ یہ لوگ سیاست کے بھوکے ہیں مجھے ہمیشہ تنگ کریں گے میرے لیے یہاں رہنا مشکل ہوگئ تھی اور میں چاہتی تھی کہ یہاں میری وجہ سے کوئی حادث نہ ہو ،نہیں تو میں بہت کچھ کر سکتی تھی۔۔۔ کالم جاری ہے۔ ۔۔

 


شیئر کریں: