Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عید کے زمینی چاند. پروفیسرعبدالشکورشاہ

Posted on
شیئر کریں:

عید کے زمینی چاند. پروفیسرعبدالشکورشاہ

عید کی آمد آمد ہے۔ہمارے ہاں امیروں کی عید الگ ہوتی ہے اور غریبوں کی الگ۔عید تو در حقیقت ہوتی ہی غریبوں کی ہے۔عید کے دن جو خوشی اور طمانیت غیربوں کے چہروں پر نظر آتی ہے وہ زرق برق لباس پہنے لوگوں میں دیکھنے کو کم ہی ملتی۔غریبوں کے بچے سورج طلوع ہونے سے پہلے دوسروں کے گھروں میں عید ملنے پہنچ جاتے۔ عید کے یہ زمینی چاند قابل رشک ہیں۔بڑے بھائی یا بہن کے پہنے ہوئے کپڑے، سال میں ایک بار صاف دھلا ہوا چہرہ،پلاسٹک کے جوتے، جو شام ہو تے ہی اتروا کر کسی اور تہوار کے لیے رکھ لیے جاتے ہیں۔اکثر بچوں کے کپڑے ان کے ماپ کے نہیں ہوتے۔ اسکی وجہ درزی نہیں بلکہ غربت ہے۔کچھ بچوں نے سابقہ عید یا کسی اور تہوار پر سلائے ہوئے کپڑے پہنے ہوتے۔

 

لباس کو ایک جانب رکھیے، انکی خوشی دیدنی ہوتی۔اگر کچھ روپے عیدی مل جائے تو سارا سارا دن وہ چند نوٹ گننے میں گزار دیتے۔ان میں سے اکثر کی عیدی گھر کے خرچے کی نظر ہو جاتی۔ بچے جب بھی عید مل کے گھر کو لوٹتے تو ماں پوچھتی کس نے کتنی عیدی دی ہے اور وہ ان سے یہ کہہ کر لے لیتی کے تم پیسے گرا دو گے مجھے دے دو بعد میں لے لینا۔ بچے من کے سچے اپنی عیدی ماں کے حوالے کر دیتے۔ بچوں کے گھر سے نکلتے ہی ماں وہ نوٹ سیدھے کرتی اور انہیں کسی صندوق میں ڈال کر اپنے دماغ میں آنے والے مہینے کے سامان کی فہرست بنانے لگ جاتی ہے۔عید پڑھنے کا شوق بھی امیروں کی نسبت غریبوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ ماں باپ بچوں کو عید پر ساتھ لے جاتے مگر انکے نئے والے جوتے اتروا کر رکھ لیتے کیوں کے اللہ کے گھر سے واپسی پر کیا پتہ جوتے ملیں یا نہ ملیں۔کچھ بچوں کے پاس تو نئے جوتے بھی نہیں ہوتے۔

 

جب کوئی پوچھتا ہے اس کو پرانے جوتے پہنائے ہوئے تو والد مسکرا کر کہتا، مسجد سے گم ہوجاتے اس لیے پرانے پہناے ہیں گھر جا کر نئے پہن لے گا۔ہمیں پرانے جوتے نظر آتے مگر اپنی بے حسی نظر نہیں آتی۔ عید کے بعد واپسی پر بچوں کی کوشش ہو تی وہ والدین کے بجائے اپنے دوستوں کے ساتھ گھر کو لوٹیں۔ واپسی پر گھروں سے آنی والی مختلف پکوانوں کی خوشبو انہیں انکی غربت کی یاد دلاتی مگر وہ اپنی عید کو خراب نہیں کر نا چاہتے۔ کچھ بچوں کو تو والدین نے یہ تک بتایا ہو تا آپ کو جو عیدی ملے گی اس سے آپکو نئے کپڑے لے کر دیں گے، کتابیں لے کر دیں گے، جوتے لے کر دیں گے۔ عید پران غریب بچوں کو جی بھر کر عیدی دیں۔خوشیاں اور مال بانٹنے سے بڑھتی ہیں کم نہیں ہوتیں۔مجھے یاد ہے ایک بار ایک بچہ عید پڑھ کر واپس گاوں لوٹا۔ وہ بار بار اپنی جیب سے عیدی کے پیسے نکال نکال کر دیکھ رہا تھا۔ میں نے پوچھا بیٹا کتنی عیدی ملی ہے تو بولا چاچو جی پورے پچاس روپے ہو گئے ہیں۔ اس کے لیے پچاس روپے بل گیٹس کی ساری دولت سے بھی زیادہ تھے۔ مزید بولا ابھی فلاں فلاں چاچو نے عیدی دینی ہے اور کل ملا کر ایک سو روپیہ ہو جائے گا۔ چلیں کچھ کم کر لیں اسی روپے تو کہیں بھی نہیں گئے۔ میں نے پوچھا عیدی کا کیا کرو گے؟

 

بولا یہ دیکھیں میرا سوٹ۔ درزی کو اس کی سلائی دینی ہے۔میں نے کہا بیٹا سو روپے میں کون سا درزی کپڑے سیتا ہے؟ بولا نہیں نہیں وہ تو چار سو لیتے ہیں میں نے گچھیاں بھی تو چنی تھیں وہ بیچ کر کچھ پیسے دے دیے ہیں سو روپیہ رہتا ہے۔ ان شاء اللہ شام تک عید ی ہو جائے گی۔ اس کے ان شاء اللہ نے مجھے اس کے یقین پر حیران کر دیا۔میں نے کہا اچھا اگر شام تک سو روپے عید ی نہ ہوہی تو کیا کرو گے؟ بولا نا نہیں کہتے انشاء اللہ کہتے ہیں کام ہو جاتا ہے۔ وہ بچہ نہیں تھا وہ کوئی ولی تھا، اتنا کامل ایمان، اتنا یقین اور حد درجے کا بھروسہ۔ ہم ایک گھر میں داخل ہوئے وہ بچہ بھی میرے ساتھ بیٹھ گیا اور اپنی قمیض کی جیب کو موڑ کر اپنی گود میں رکھ لیا۔کھانے میں روایتی گوشت چاول تھے۔ میں کھاتے ہوئے اس لڑکے کا مشاہد ہ کر رہا تھا۔ اچانک سے لڑکا بولا کوئی آواز دے رہاہے۔ اور اپنی پلیت لے کر باہر بھاگ گیا۔ سب کہنے لگے اس کے کان بجتے ہیں، کسی نے کوئی آواز نہیں دی۔ بچہ واپس آگیا کہنے لگا کوئی بھی نہیں ہے۔ سب دھیمے لہجے میں مسکرا کر اپنی باتوں میں مگن ہوگے۔ میں نے جب اس کی پلیٹ پر غور کیا تو اس کے حصے کی دو بوٹیاں اور دو جو میں نے اپنی پلیٹ سے اٹھا کر اسے دے دیں تھیں یہ بہانہ بناتے ہوئے کے میں چکن نہیں کھاتا، وہ اسکی پلیٹ سے غائب تھیں۔میں بہت حیران ہوا۔ اتنی دیر میں بوٹیاں کدھر گئی جب کہ وہ چاول کھا رہا تھا اور بوٹیوں کو ایسے بچا رہا تھا جیسے ہمارے ملک میں امیروں کو قانوں بچاتا ہے۔

 

کھانا اختتام پذیر ہوا ہم نے اجازت لی اور اگلی طعام گاہ کی تلاش میں نکل پڑے۔میں نے اس سوال کیا بیٹا کس نے آواز دی تھی باہر تھا بھی کوئی نہیں اور آواز بھی صرف آپ کو ہی سنائی دی۔ وہ مسکرایہ اور بولا بوٹیوں نے آواز دی تھی۔میں نے اسے آگے چلنے کا کہا جو اس نے میرے اصرار پر مان لیا۔میرنظر اسکی جیب پر پڑی۔ جیب پر سالن لگا ہوا تھا۔ میں نے کہا بیٹا آپ کے کپڑے خراب ہو گئے ہیں اسے نالے کے پانی سے دھو لو۔ بولا نہیں چاچو۔ اس نے بتایا کہ اس کے گھر میں دال چاول پکے ہیں اور وہ ہر عید پہ سب گھروں سے ایسے بوٹیاں جیب میں ڈال کر لے جاتا ہے اور جو لوگ ان کے گھر عید ملنے آتے اس کی ماں وہ جمع کی ہوئی بوٹیاں مہمانوں کو چاولوں پر ڈال کے دیتی ہے۔ اس نے کہا امی نے شاپر بھی دیا تھا مگر دوستوں نے مزاق میں اس میں ہوا بھر کر پٹاخہ بجا دیا۔قدم میرا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔چند قدم چلنے کے بعد بولا چاچو اس گھر میں جاتے ہیں یہ پرسوں چار مرغے زندہ لے کے آئے تھے۔ میں نے پوچھا تمہیں کیسے پتہ تو بولا میں عید کے دنوں میں مرغییوں کی دکان کے پاس جا کر بیٹھ جاتا۔ جو مرغیاں لیتا ہے میں اس کے گھر پہنچا دیتا ہوں اس لیے مجھے پتہ ہے۔

 

اگلے چند گھروں میں عید ملے اس نے حسب معمول وہ بہانہ لگایا بوٹیاں جیب میں ڈالتا گیا۔ میں نے پوچھا بیٹا عیدی کدھر رکھی ہے سالن کے ساتھ پیسے خراب ہو جانے تو بولا نہ نہ چاچا عیدی میں نے جرابوں میں رکھ دی ہوئی ہے اور اوپر سے ابو کی نسوار کا ربڑ بھی لگایا ہوا ہے جرابیں کھلی ہیں بار بار اتر جاتی ہیں۔اب ہم اس کے گھر کے قریب پہچ چکے تھے۔ وہ بولا میں نے ایک ایک بوٹی اپنی چھوٹی بہن کو دینی،ایک اپنے چھوٹے بھائی کو اور باقی امی کو۔ میں نے کہا ارے اتنی بوٹیاں تو ہوں گی ہی نہیں۔ بولا ہیں۔ ہمارے گھر جو بھی آتا ہے وہ کھانا بہت کم کھاتا ہے بس دو تین افراد ہی تو کھانا کھاتے ہیں ان کے لیے کافی ہیں۔ ایک ایک بوٹی بھی ڈال کے دی تو دس مہمان کھانا کھا لیں گے(دس ایک بندے تے ٹپ گیسن)۔اب وہ اصرار کرنے لگا چاچو ہمارے گھر بھی ملنے چلیں۔میں نے بہانہ بنانے کی کوشش کی تو بولا غریبوں کے گھر کوئی بھی نہیں آتا۔ میں نے اسے پیار کیا اور اس کے گھر چلا گیا۔ مگر جو محبت، جو خوشی میں نے ان کے گھر میں دیکھی وہ آج تک دیکھنے کو نہیں ملی۔ اسکے گھر والے مجھے دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور اس کی ماں نے کرسی (پیڑھے) پر اپنی چادر اتار کر ڈالی۔ ماں کی چادر پہ بیٹھنے کی ہمت کب۔ میں نے منع کیا تو بولی بچوں نے خراب کر دیا ہوا ہے آپکے کپڑے خراب ہو جائیں گے۔ غریبوں لوگ ہمارے کپڑوں کی بھی فکر کرتے ہم ان کی کتنی فکر کرتے؟! میں چارد کے بغیر بیٹھ گیا۔اب میں سوچ رہا تھا ننھا مجاہد کیسے بوٹیاں دے گا۔ کمال کی تربیت۔ ماں نے کہا جاو کمرے سے پلیٹیں لے کے آو۔ لڑکافورا گیا اور اس کے پیچھے اسکی بہن بھی بھاگی بھاگی گئی۔

 

بہن واپس آئی اور بھائی سے پلیٹیں لے کر منہ دوسر جانب کر کے دھونے بیٹھ گئی۔ ماں نے چاول ڈالے اور ان پر چار بوٹیاں بھی ڈالی۔ یہ بوٹیاں ماں کے پاس ہنڈیا تک کیسے پہنچی میری کڑی نگرانی بھی ناکام ثابت ہوگی۔میں نے حسب معمول چکن نہ کھانے کا بہانہ کیا انہوں نے اصرار کیا تو میں نے کہا کچھ اور ہے تو ڈال دیں۔ بولی دال پکی ہے۔ میں نے دال کی تعریف کی اور چکن کی برائیاں بیان کیں اور دال چاول پیٹ پھر کر کھائے ان کی خوشی کے لیے ایک بار مزید بھی مانگ لیے۔ننھا مجاہد مجھے دور تک رخصت کرنے آیا۔ میں نے کہا مجھ سے عید ی نہیں لو گے؟ مسکرا کر بولا عیدی دی جاتی ہے مانگ کر نہیں لیتے۔ میرا دل کیا میں اپنی ساری ڈگریاں اس کے قدموں میں رکھ دوں۔عید آنے والی ہے غریبوں کا خیال رکھیں، ان کی عزت نفس مجروح کیے بغیر ان کو عیدی دیں۔ ان کو محبتیں دیں، ان کو پیار دیں۔ غریبوں کے گھروں میں عید ملنے ضرور جائیں۔ اگر ہم ایسے افراد کی مدد کریں گے تو یہ قربانی سے بڑھ کر ثواب کا باعث بنے گا۔ایک مشہور جلمہ: پیٹ میں ڈالا کس نے دیکھا؟ تن پے پہنا سب نے دیکھ، من میں کیا ہے کسی نے نہ دیکھا۔ اللہ تعالی نے ہمارے پیٹوں کو ہم دوسروں سے خفیہ رکھا ہوا ہے ورنہ بہت سارے پیٹوں میں سانپ اور بچھوو نظر آتے۔اس عید پہ غریبوں کو نہ بھولیے گا، یہ عید غریبوں کے نام کر دیں۔ یقین مانیے جتنی خوشی آپ کو غریبوں سے ملے گی اتنی کسی وزیر مشیر، امیر کے گھر سے نہیں ملے گی۔

 


شیئر کریں: