Chitral Times

Oct 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیِ کا تعلیم نسوان کو فروع دینے کیلے سرکاری سکولوں کے پی ٹی سی فنڈز سے بچیوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کرنیکا فیصلہ

Posted on
شیئر کریں:

وزیراعلیِ کا تعلیم نسوان کو فروع دینے کیلے سرکاری سکولوں کے پی ٹی سی فنڈز سے بچیوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کرنیکا فیصلہ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے میں تعلیم نسواں کو فروغ دینے کے لئے ایک اہم قدم کے طور پر سرکاری سکولوں کے پی ٹی سی فنڈز سے دور دراز علاقوں کے بچیوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کا اصولی فیصلہ کرتے ہوئے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کوکسی بھی پسماندہ علاقے میں بطور پائلٹ پروجیکٹ بچیوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لئے طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی سطح پر ایک مرکزی تعلیمی بورڈ کے قیام کی تجویز سے اُصولی اتفاق کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کو اس سلسلے میںایک ورکنگ گروپ تشکیل دے کر 90 دنوں کے اندر ہوم ورک مکمل کرکے قابل عمل تجاویز پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔وہ بدھ کے روز محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ محکمہ ہائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ، خزانہ، قانون اور منصوبہ بندی کے انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں مرکزی تعلیمی بورڈ کے قیام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور تجویز دی گئی کہ مرکزی تعلیمی بورڈ کے قیام کی صورت میں موجودہ سات تعلیمی بورڈزمرکز ی بورڈ کے ذیلی سہولیاتی مراکز کے طور پر کام جاری رکھیں گے جبکہ مستقبل میں طلبہ کی سہولت کیلئے اس طرح کے سہولیاتی مراکز صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی قائم کئے جائیں گے تاکہ طلبہ کے بورڈ سے جڑے زیادہ سے زیادہ معاملات مقامی سطح پر ہی طے کئے جاسکیں۔

 

مرکزی تعلیمی بورڈ کے قیام کا مقصد صوبے میں امتحانات کی یکساں نظام اور معیار کو قائم کرنا ہے تاکہ صوبے میں تعلیم کا معیار بہتر بنایا جاسکے۔ اجلاس میں سرکاری اسکولوں کے پی ٹی سی فنڈز میں اصلاحات پر بھی غورو خوض کیا گیا اور اہم فیصلے کئے گئے ۔اس موقع پر پی ٹی سی فنڈز کے دائرہ کار کو توسیع دینے کا اُصولی فیصلہ کیا گیااور پی ٹی سی فنڈ سے سکولوں میں کمروں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں کی بچیوں کے لئے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے ، اسکولوں میں واٹر کولر اور آگ بجھانے کے آلات کی خریداری اور دیگر سہولیات فراہم کرنےکی تجویز دی گئی ۔ وزیراعلیٰ نے تجاویز سے اُصولی اتفاق کرتے ہوئے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کو اس سلسلے میں لائحہ عمل تیار کرکے منظوری کے لئے پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اُنہوںنے محکمہ تعلیم کو محکمہ سماجی بہبود کے تعاون سے معذور طلبہ کو وہیل چیئر کی فراہمی کے لئے بھی لائحہ عمل تیار کرنے جبکہ محکمہ تعلیم کو پی ٹی سی فنڈز کے تحت اب تک کئے گئے کاموں کی جائزہ رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ صوبے کے خود مختار سرکاری اسکولوں کے موجودہ نظام کا ازسر نو جائزہ لیا جائے اور ان تعلیمی اداروں کے جملہ معاملات کو مزید منظم اور بہتر انداز میں چلانے کے لئے ٹھوس تجاویز پیش کی جائیں۔ محمود خان نے متعلقہ حکام کو پشاور سمیت صوبے کے شہری علاقوں میں سکولوں کی پرانی عمارتوں کی تعمیر نو کے منصوبے پر خصوصی توجہ دینے کی بھی ہدایت کی ہے ۔

 

 

دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے سینئر صحافی عمران ریاض خان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب پولیس کی طرف سے عمران ریاض کی گرفتاری بلاجواز اور قابل مذمت اور یہ اقدام آزادی اظہار رائے کو دبانے کی کوشش ہے۔ یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے اس گرفتاری کو آزادی صحافت پر حملہ ہے قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت فسطائیت پر اتر آئی ہے، اس طرح کا طرز عمل جمہوریت کےلئے کسی بھی طرح ٹھیک نہیں اور اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے لوگوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔


شیئر کریں: