Chitral Times

Apr 17, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

شندور میلہ اور حکومتِ وقت کی ناقص کارکردگی – راشدہ منظور

Posted on
شیئر کریں:

شندور میلہ اور حکومتِ وقت کی ناقص کارکردگی – راشدہ منظور

 

بحیثیتِ چترالی میں اس تحریر کو دکھ بھری اور بے ساختہ جذبات کے ساتھ لکھنے کی جسارت کرتی ہوں۔ چترال خیبر پختون خواہ میں رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع اور وسائل کے لحاظ سے سب سے حقیر تصور کیا جاتا ہے۔ کچھ پرکشش اور قدرتی آسائش سے مالامال دور افتادہ جگے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف مدعو کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ۔

ان میں سے ایک مثال شندور کی ہے جو کہ چترال اور گلگت کی تاج بن کر ہر طرف سے سیاحوں کو خوش آمدید کہتی ہوئی نظر آتی ہے۔ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح سیاحت کو فروغ دینا ہے اور اس کے لیے ۵ سالہ منصوبہ بھی بنا تھا کیونکہ کسی بھی علاقے کی ترقی کا دارومدار سیاحت کو فروغ دینے سے ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے جشنِ شندور کے موقع پر سیاحوں کی آمد سے وادی لاسپور کے لوگوں کے امدنی میں ریلیف ملنے کی بجائے نقصان اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ لوگ اپنے کاروبار، کھتی بڑھی اور دوسرے کام چھوڑ کے سیاحوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے، اور خوراک اور رہائش کا انتظام کرنا پڑتا ہے کیونکہ حکومتِ وقت کی ناقص کارکردگی اور اس علاقے کے لوگوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کسی سے چھپی نہیں ہے۔

ہر سال جشنِ شندور کے لئے کروڑوں روپے کی بجٹ مختص ہونے کے باوجود شندور روڈ میں چھوٹے نالوں کے اوپر کیوں غور نہیں کیا جاتا ہے جوکہ چھوٹے منصوبوں کے تحت ہی یہ پُل تعمیر ہوسکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے حکومتی نمایندگان خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہوتے ہیں۔ یوں سیاحوں اور لاسپور کے عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلتے ہیں۔

لہٰذا بحیثیتِ چترالی میں سیاحت کے وزیر اور چترال کی حکومتی نمایندگان سے یہ سوال پوچھتی ہوں کہ کیا صرف سیاحت کو فروغ دینے کے نام پر سیاست کرنا ہے یا حقیقت میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے عملی جامع پہنانا ہے؟؟؟

ھم بحثئت عوام تمام سیاحوں کو ان کے مشکل وقت میں انکے شانہ بشانہ کھڑے ھوتے ھیں اور انکے مھمان نوازی کرکے اپنے لیے فخر سمجتے ھے لیکن اسکا یہ مطلب ھر گز ایسا نیں ھے کہ حکومت وقت کو معلوم ھوکے بھی لوگوں کے اوپر تماشائ بنے۔ اور لاسپور کے عوام کو اس سیاحت سے الٹا لے نے کے دینا پڑے۔

راشدہ منظور
سوشل اکٹئوسٹ ۔ھرچین لاسپور

 

chitraltimes vehicle drown into rive at shanur road


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
63193