Chitral Times

Sep 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سیاحتی مقامات تک آسان رسائی یقینی بنانے کیلئے سڑکوں کے متعدد منصوبوں پرکام شروع ہے۔ وزیراعلیٰ 

Posted on
شیئر کریں:

سیاحتی مقامات تک آسان رسائی یقینی بنانے کیلئے سڑکوں کے متعدد منصوبوں پرکام شروع ہے۔ وزیراعلیٰ

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبرپختونخوا میں سیاحتی مقامات تک آسان رسائی یقینی بنانے کیلئے سڑکوں کے متعدد منصوبوں پر کام شروع ہے جو مجموعی طور پر 13 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کئے جائیں گے ۔ اسی طرح خیبرپختونخواانٹگرٹیڈ ٹوارزم ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت دو اہم منصوبوں منکیال تا بڈا سہری روڈ سوات اور ٹھنڈیانی روڈ ایبٹ آباد کے منصوبوں پر ٹائم لائن کے مطابق پیشرفت جاری ہے جن کا تخمینہ لاگت بالترتیب 4631 ملین اور 3182 ملین روپے ہے ۔ یہ بات گزشتہ روزوزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت شعبہ سیاحت میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس میں بتائی گئی ہے ۔وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف ، ایم پی اے میاں شرافت علی ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ٹوارزم روڈ پراجیکٹس پر تفصیلی بریفینگ دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا کہ ہزار ہ ڈویژن میں سیاحتی مقامات تک رسائی سڑکوں کی تعمیر کے متعدد منصوبوں پر کام شروع ہے جو مجموعی طور پر 4.6 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کئے جائیں گے ۔

 

اہم منصوبوں میں 15 کلومیٹر طویل ماہ نور ویلی روڈ مانسہرہ،10 کلومیٹر طویل شوگران روڈ مانسہرہ ، گھنول پاپڑانگ روڈ مانسہرہ، 5 کلومیٹر طویل منڈی مالی روڈ مانسہرہ اور 12 کلومیٹر طویل نواز آبادتا منڈی روڈ مانسہرہ شامل ہیں۔ اسی طرح ملاکنڈ ڈویژن میں 11 مختلف سڑکوں کی تعمیر و بحالی پر پیشرفت جاری ہے جو مجموعی طو ر پر 4.8 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کئے جائیں گے ۔ اہم منصوبوں میں 7.8 کلومیٹر طویل مرغزار تا ایلم روڈ سوات، 6 کلومیٹر طویل مدین۔ بشی گرام روڈسوات، ارین درال روڈ ، بیلا بشی گرام روڈ، چھیل بشی گرام روڈ، فضل بانڈہ تا جاروگو واٹر فال روڈاور کافر بانڈہ روڈشانگلہ شامل ہیں۔ اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ شیخ بدین ٹورسٹ سائٹ تک اپروچ روڈ کی تعمیر پر بھی کام شروع ہے جس کا تخمینہ لاگت تین ارب روپے ہے ۔ اجلاس کو کائیٹ پراجیکٹ کے تحت مختلف منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 22 کلومیٹر طویل منکیال تا بڈاسہری روڈ کی تعمیر اور 24 کلومیٹر طویل ٹھنڈیانی روڈ کی توسیع کے منصوبوں کی بڈ ایوالویشن رپورٹ متعلقہ فورم کو پیش کر دی گئی ہے جس کی منظوری کے بعد رواں ماہ منصوبوں کا کنٹریکٹ ایوارڈ کر دیا جائے گا۔ اسی طرح کائیٹ پراجیکٹ کے تحت صوبے میں چار انٹگرٹیڈ ٹوارزم زونز قائم کئے جارہے ہیں جن میں ٹھنڈیانی (ایبٹ آباد)، منکیال (سوات)، گھنول (مانسہرہ) اور مداکلشت (چترال) شامل ہیں۔ منصوبوں کیلئے مینجمنٹ اینڈ انویسٹمنٹ پلان کا حتمی مسودہ منظوری کیلئے متعلقہ فورم کو پیش کر دیا گیا ہے ۔

علاوہ ازیں خیبرپختونخوا میں ٹورسٹ فیسلٹیشن مرکز قائم کیا گیا ہے جس میں پہلی دفعہ سیاحوں کی سہولت کیلئے ہیلپ لائن 1422 فراہم کی گئی ہے جو مارچ2021 سے مکمل طور پر فعال ہے ۔ اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ صوبے کے مختلف سیاحتی مقامات پر 150 پری فیبریکٹیڈواش رومزنصب کئے جارہے ہیں جن میں سے اب تک 35 یونٹس نصب کئے جا چکے ہیں۔ مزید برآں سیاحتی مراکز میں ریسکیو1122 سروس کی سہولت کی فراہمی کے منصوبے کے تحت فی سنٹر دو ایمولینسز اور ایک فائر فائٹنگ وہیکل فراہم کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر سیاحت کے فروغ کو اپنی حکومت کی ترجیحات کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ رسائی سڑکوں کی تعمیر کے قابل عمل منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے لیکن اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ ان سیاحتی علاقوں کا قدرتی ماحول متاثر نہ ہو۔ اُنہوںنے متعلقہ حکام کو مزید ہدایت کی کہ سیاحتی مقامات کیلئے قائم کردہ اسپیشل ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کو جلد سے جلد ہر لحاظ سے فعال بنایا جائے اور اُنہیں درکار انسانی اور مالی وسائل کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں تاکہ ان اتھارٹیز کے قیام کے مقاصد بلاتاخیر حاصل کئے جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ ڈیموں اور دریاﺅں پر چلنے والی کشتیوں میں حفاظتی تدابیر کو سختی سے یقینی بنایا جائے اور بغیر لائف جیکٹس کے کشتی رانی پر پابندی عائد کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے ۔


شیئر کریں: