Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں گرمی کی شدت میں اضافہ، چترال کے دومختلف مقامات پرسیلاب آنے سے رابط سڑکیں بند، فصلوں اور املاک کو نقصان پہنچا

شیئر کریں:

چترال میں گرمی کی شدت میں اضافہ، چترال کے دومختلف مقامات پرسیلاب آنے سے رابط سڑکیں بند، فصلوں اور املاک کو نقصان پہنچا

 

https://fb.watch/dZEaEy0i9H/

چترال ( نمایندہ چترال ٹایمز ) گذشتہ چار دنوں سے چترال میں بڑھتی ہوئی شدیدگرمی کے نتیجے میں گلشئیرز کے پھٹ جانے کا عمل پھر شروع ہوچکا ہے ۔ اور اپر چترال کے علاقہ سمتیج میں گلاف کی وجہ سے آنے والے سیلاب کے دس دن بعد چترال لوئر کے دور افتادہ علاقہ آرکاری رباط گول میں دو دن کے اندر دو مرتبہ گلیشیئل آوٹ برسٹ فلڈ ( گلاف ) آیا ہے ۔ جس نے نالےکے اطراف میں حفاظتی پشتوں، جماعت خانہ ، آراضی، عمارتی لکڑیوں اور مقامی جنگلات کو زبردست نقصان پہنچایا ہے ۔ سیلاب سے روڈ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اویرک کا راستہ بند ہے۔ لوگ انتہائی مشکلات سے دوچار ہیں ۔ چیرمین کمیونٹی بیسڈ ڈیزاسٹر رسک منیجمنٹ کمیٹی آرکاری عبد الکریم نے میڈیا سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ رباط گول نالےمیں آنے والے سیلابی ملبے کی وجہ سے نالے کی سطح بلند ہو گئی ہے ۔ جس سے پورے گاوں کو خطرہ درپیش ہے ۔ خد ا نخواستہ اگر پھر سیلاب آیا ۔ تو گاوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ اس لئے گاوں کو بچانے کیلئے نالے کی چینلائزیشن کے ساتھ ساتھ پروٹیکشن وال بلا تاخیر تعمیر کئے جائیں ۔ انہوں نے یو این ڈی پی سے پر زور مطالبہ کیا ۔ کہ آرکاری گلوف پراجیکٹ کو مقامی حالات کے پیش نظر توسیع دی جائے۔ اور پروٹیکشن وال تیز رفتاری سے مکمل کئے جائیں ۔

چیرمین عبدالکریم نے کہا ۔ کہ گلوف پراجیکٹ کی طرف سے گو کہ حفاظتی پشتے تعمیر کئے جارہے ہیں۔ لیکن کام کی رفتار انتہائی سست ہے۔ اور پراجیکٹ نےحفاظتی پشتوں کی تعمیر میں دو سال ضائع کئے ۔ تاہم یہ بات اطمینان بخش ہے۔کہ حفاظتی پشتوں کی تعمیر کا معیار تسلی بخش ہے۔ مقامی دیگر ذرائع نے بتایا ۔ کہ آرکاری کا پورا علاقہ قدیم الایام سے سیلاب کی زد میں ہے ۔ کیونکہ ہندوکش کی چوٹی ( تریچمیر) کی پشت پر آرکاری ویلی موجود ہے۔ اور ان پہاڑوں کے بالائی حصوں میں گلیشئرز کے وسیع ذخائر موجود ہیں ۔ جو کہ گرمیوں میں پگھلاو یا پھٹ جانے کے نتیجے میں سیلاب کی صورت اختیار کرتےہیں ۔ اور اب تک کئی مرتبہ مقامی لوگ سیلابی تباہ کاریوں سےدوچار ہو چکے ہیں۔ جن میں سفید آرکاری ، سیاہ آرکاری ، رباط وغیرہ دیہات شامل ہیں ۔ گلاف پراجیکٹ ذرائع نے بتایا ۔ کہ دیر گول میں دو جھیلوں کا سروےہو چکا ہے۔ جوکہ علاقے کیلئے خطر ناک ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی مختلف وادیوں میں خطرات کے حامل جھیلیں ہو سکتی ہیں ۔ لیکن یہ پراجیکٹ ایریا کا حصہ نہیں ہیں ۔ آرکاری انتہائی پسماندہ وادی ہے ۔ جو چترال سے 60 کلومیٹر دور واقع ہے ۔ لیکن خراب اور خستہ حال سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کے سبب لوگ انتہائی مشکلات کا شکار ہیں ۔جبکہ گلشئیرز کے پھٹ جانے کے عمل نے ان کو مزید مصائب سے دوچار کر دیا ہے ۔ متاثرین نے حکومت سے پر زورمطالبہ کیا ہے ۔ کہ ان کی مدد کی جائے ۔ اور مستقبل میں سیلاب سےبچانےکیلئے اقدامات کے ساتھ ساتھ انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے سلسلے میں عملی قدم اٹھا یاجائے ۔

 

https://www.facebook.com/chitraltimes/videos/1075405826516852


شیئر کریں: