Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پیٹرولیم مصنوعات پر50 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے کی ترمیم منظور

Posted on
شیئر کریں:

 

پیٹرولیم مصنوعات پر50 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے کی ترمیم منظور

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ ) قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کیلئے پیٹرولیم مصنوعات پر پچاس روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنیکی ترمیم منظور کرلی گئی، وزیرخزانہ کا کہنا ہے کہ پچاس روپے فی لیٹر یکمشت عائد نہیں کی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں فنانس بل دو ہزار بائیس تئیس کی منظوری کا عمل جاری ہے، پٹرولیم مصنوعات پر 50 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنیکی ترمیم منظور کرلی گئیں۔وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا پٹرولیم مصنوعات پر اس وقت لیوی صفر ہے، پچاس روپے فی لیٹر یکمشت عائد نہیں کی جائے گی، حکومت نے لیوی لگانے کی منظوری حاصل کی ہے۔قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر فنانس بل میں تبدیلی نہیں کی گئی، 80فیصد ترامیم براہ راست ٹیکسوں سے متعلق کی گئیں، ہمارامقصد امیرپرٹیکس لگانا اور غریب کو ریلیف دینا ہے، آئی ایم ایف سے گزشتہ حکومت کیمعاہدیپرہی عمل کیا جا رہا ہے۔ایم کیو ایم اور جی ڈی اے نے بجٹ پر تحفظات کا اظہار کیا، صابر قائم خانی نے کہا مسائل حل نہ ہوں تو ایسی وزارت پر تھوکتے ہیں، ایک شخص ہمارے منصوبوں کو بجٹ میں شامل ہونے نہیں دے رہا۔جی ڈی اے کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے بجٹ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا بجٹ کوئی معنی رکھتا ہے نہ ہی فنانس بل، ہم جانتے ہیں آگے بہت زیادہ منی بجٹ آئیں گے۔قومی اسمبلی میں جروں سیبجلی کیبلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس وصول کرنے سے متعلق اور سافٹ ویئر اور آئی ٹی کنسلٹنٹس کی خدمات پر 5فیصدسیلزٹیکس عائد کرنے کی شق منظور کرلی گئی۔اسپیکر،چیئرمین سینیٹ کو اضافی مراعات دینے کا اختیار متعلقہ قائمہ کمیٹی خزانہ کو دینے کی شق بھی منظور کی گئی۔

 

شہباز دور میں کرپشن کا خدشہ: آئی ایم ایف نے قرض سے پہلے نیا مطالبہ کردیا

اسلام آباد(سی ایم لنکس) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے قرض سے پہلے شہباز حکومت سے احتساب کے قانون پر نظر ثانی کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق نواز دور حکومت میں منی لانڈرنگ کے معاملے اور شہباز دور میں کرپشن کے خدشے پر آئی ایم ایف نے حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کے بعد اینٹی کرپشن قوانین میں نظرثانی کا مطالبہ کردیا۔سابق معاون خصوصی مصدق عباسی نے کہا کہ نیب کے اختیارات کو کم کردیا گیا ہے اسی لیے آئی ایم ایف نے قوانین پر نظرثانی کا کہا۔اس حوالے سے تحریک انصاف کے فرخ حبیب نے ٹوئٹ میں لکھا کہ آئی ایم ایف نے قرض دینے سے پہلے احتساب کے قانون پر نظرثانی کی شرط لگادی، چوروں کی حکومت نے نیب ترامیم سے کرپشن مقدمات ختم کرنے کے لیے این آر او ٹو لیا، آئی ایم ایف کو اپنے قرضے چوری ہونے کا خدشہ ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ این ا?راو ٹو ا?ئی ایم ایف کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔سابق وزیر اسدعمر نے بھی اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ آئی ایم ایف کوبھی شک ہیکہ وہ جوقرض دیں گیوہ چورحکمرانوں کیاثاثوں میں اضافہ کریں گے، اس لئے نیب قانون میں تبدیلی کے بعد انہوں نے مطالبہ کردیا کہ کرپشن کو پکڑنے کے نظام کو طاقتورکیاجائے۔پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں ایف اے ٹی ایف نے منی لانڈنگ کے باعث پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا اب شہباز شریف کے دور میں آئی ایم اہف نے مطالبہ کر دیا کہ امپورٹڈ حکومت ڈالرز لینے سے پہلے اینٹی کرپشن قوانین پر نظر ثانی کرے، نیب قوانین میں ترمیم سے خود کو 1100 ارب کا این آر او آئی ایم ایف کی نظروں میں بھی آ گیا۔

 


شیئر کریں: