Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پائے کوب – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

Posted on
شیئر کریں:

پائے کوب – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

امریکہ کا رُخ ایشیا کی طرف موڑنے کا ایک سبب چین بھی ہے، اس کی اشتراکی قیادت نے امریکہ کو چین سے بے دخل کیا ، پھر روس کی مدد سے اور بعد میں روس کی مدد کے باوجود بلکہ مخالفت کے علی الرغم،اس نے ایسی ترقی کرلی کہ وہ عالمی طاقت بن گیا، امریکہ یہ بالکل گورا نہیں کرسکتا تھا اور پھر اس نے ہر جتن کرکے چین کا راستہ روکنا شروع کردیا ، اس کے راستے گو کہ کٹھن تھے مگر وہ اپنی ضد پراڑا ہواہے ۔ امریکہ کا استعمار نئے روپ میں ظاہر ہوا، آئینے کے ایک ٹکڑے میں پورے تاج محل کا عکس دیکھ کر وہ مصر ہے کہ تاج محل وہ عظیم الشان عمارت نہیں بلکہ آئینے کا حقیر ٹکڑا ہے۔ بحرالکاہل میں اس کے جگہ جگہ اڈے موجود ہیں ۔ یہ عالمگیر نام نہاد دفاعی تیاریاں ساری کی ساری چین کے خلاف ہیں، چین سے بے دخل ہوکے امریکہ کے پندار کا خم کدہ کچھ ایسا ویران ہوا کہ وہ اب تک طواف کوئے ملامت سے باز نہیں آسکا۔

اس طواف نے کوریا کا راستہ بھی تلاش کیا، ویت نام اور اس کے گرد ونواح میں بھی امریکہ کو چین دکھائی دیتا تھا ، حالاں کہ وہاں چین کا ایک بھی سپاہی نہیں تھا، اس کے برعکس جگہ جگہ امریکہ نے اپنے فوجی اڈے قائم کردیئے۔ویت نام کے اندر ایک تحریک ابھری تھی، یہ تحریک اپنے ملک کی تشکیل ِ نو کرنا چاہتی تھی، ہزاروں میل دور بیٹھا امریکہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ ویت نام میں برسراقتدار وہ طبقہ آئے جو نظریئے کے اعتبار سے اشتراکی ہے یا جسے امریکہ اشتراکی سمجھتا ہے ۔ امریکہ کو یہ حق تو ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے نظام کو پسندیاناپسند کرے لیکن اپنا لائو لشکر لے کر اس ملک میں پہنچ جانا اور لڑنا شروع کرنا ، کسی بھی آزاد ملک کے خلاف امریکہ کی مداخلت کا انجام وہی ہوتا آیا ہے جیسے ویت نا م یا افغانستان کے خلاف برسوں برس کی لاحاصل جنگ کاہوا۔

امریکہ کی اپنی ایک فلاسفی ہے کہ جب تک میرا کہنا نہیں مانو گے، یا جیسا میں کہتا ہوں ویسا نہیں کرو گے تو تمہارے ملک کے خلاف لڑوں گا ۔ یہ بڑا سنگین بین الاقوامی مسئلہ ہے اور یہ پیدا بھی اسی لیے ہوا کیونکہ امریکہ خوفناک جنگی طاقت ہے۔ چین اور روس کا رویہ بالکل امریکہ کے الٹ ہے ، وہ حکومتوں کی مدد کرتے ہیں اس لیے جس ملک کی وہ مدد کرتے ہیں ، اس کی ہمدردیاں حاصل کرلیتے ہیں بلکہ وہ مدد نہ بھی کریں تو امریکہ کا رویہ اتنا اشتعال انگیز اور قومی خودی کے منافی ہے کہ وہ جس ملک کا رخ کرتا ہے ، وہاں کی رائے عامہ اس کے خلاف ہوتی چلی جاتی ہے۔جو سہارے وہ ملک کے اندر ازرہ بے خردی قائم کرتا ہے وہ کرم خوردہ لاٹھی کی طرح جواب دیتے جاتے ہیں۔ کوریا میں ڈاکٹر سنگمین ری نے امریکہ کا ساتھ دیا تو وہ اپنی ساکھ کھو بیٹھے اور ملک سے جلا وطن ہونا پڑا۔ چین میں چیانگ کائی شیک جیساسرکردہ سربراہ حکومت امریکہ کی پشت پناہی کی بنا ء پر بے وقار و بے آبرو ہو کر چین سے بھاگ نکلنے پر مجبور ہوا ۔ ویت نام میں حکومتیں ریت کے گھروندوں کی طرح بنتی اور بگڑتی رہیں۔ افغانستان میں کٹھ پتلی حکومتیں بنائیں،امریکی سنگینوں کے سہارے بے جان لاشے کھڑے تو ہوجاتے لیکن انہی کے زور سے گربھی جاتے۔

بھارت نے چین سے جنگ کی طرح ڈالی، اس تصادم کا آغاز ہوا ہی تھا کہ امریکہ یوں بھارت میں آن موجود ہو ا جیسے بھارت اس کا اپنا علاقہ اور چین اس کے خلاف لڑرہا ہے۔بھارت میں ہر طرح کا جنگی سامان بے دریغ پہنچایا،بھارت کو امریکہ کے عالمی جنگی اڈوں سے اس طرح ملا دیا گیا کہ اُسے ہر طرح کی امداد پہنچانے میں مشکل نہ ہو ، امریکہ نے بھارت سے کلکتہ میں ایک طاقت ور ٹرانسمیٹرنصب کرنے کا معاہدہ بھی کیاکہ اپنا پراپیگنڈا نشر کیاکرے گا ، لیکن اس معاہدے پر عمل درآمد اس لیے نہ ہوسکا کیونکہ اندرون و بیرون بھارت مخالفت بڑی شدت اختیار کرگئی تھی، بھارت نے امریکہ کی کمزور رگ دیکھ لی تھی ، اس نے چین کا نا م لے لے کر اوراس کا ہوا کھڑا کرکے امریکہ سے ہر طرح کی مراعات بے دریغ لینے لگا ۔

بھارت یہ سمجھتا آیاہے کہ روس اورا مریکہ میں امداد کا مقابلہ پیدا کرکے وہ زبردست فوجی طاقت بن جائے گا اور اس کے ہمسائے اس کے رحم و کرم پر ہوں گے ۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ بھارت اس کا آلہ کار اور بھارت اپنے عمل سے ثابت کرتا رہا کہ امریکہ اس کا آلہ کار ہے ، کون کس کا آلہ ٔ کار ہے اس کا فیصلہ مشکل نہیں۔ تاہم اس عمل سے امریکہ کے راستے میں اور مشکلات پیدا ہونا شروع ہوگئی،بھارت کے ہمسائے امریکی عزائم سے متوحش توتھے ہی، وہ بھارتی عزائم کو برائی العین دیکھنے لگے۔
امریکہ یوں تو بین الاقوامی میدان میں کھل کر جنگ عظیم کے دھماکے سے آیا لیکن برطانیہ نے بھی اسے گھسیٹ لانے میں بڑے جتن کئے ، دو جنگوں میں برطانیہ کا بھلا اسی میں تھا کہ اسے امریکہ کا ساتھ میسر آجاتا ، چنانچہ اس کے لیے اس نے بہت ہاتھ پائوں مارے اور اس کی مراد بر آئی ۔ جنگ کے بعد بھی بر طانیہ کا مفاد امریکی تعاون کا متقاضی رہا اورہے ، دوسری جنگ نے برطانیہ کو پہلے کی طرح صف ِ اول کی طاقت نہیں رہنے دیا تھا اور اوپر سے اس کی سلطنت ختم ہوجانے سے اس کی عالمی حیثیت کو اور بھی دھکا لگا لیکن اس کی استعماری رسی کا بل جل جانے کے باوجود نہیں گیا،

اس نے اپنا بل بھی برقرار رکھا اور امریکہ کی رسی میں بھی ویسے ہی بل ڈال دیئے، اس وقت استعماری تجربہ امریکہ کو نہیں تھا ، اس کمی کو انگریز نے پورا کیا ۔ شعلہ استعمار کو بھڑکانے میں ان عناصر نے ایندھن کاکام دیا جو امریکہ کی مختصر سی تاریخ نے اس کی نہاد میں پوشیدہ کردیئے تھے ۔ نسلی برتری ، امتیازِ رنگ اور اقدار فراموشی کے ملے جلے احساسات نے امریکہ کو استعماری کردار کے لیے خاصا تیار کردیا ۔ برطانیہ کی ضرورت مندانہ انگیخت نے ان احساسات کو ایسی ہوا دی کہ آزادی کی نیلم پری دیو استبداد بن کر کرہ ٔ ارض پر پائے کوب ہوگئی۔ یہ دیو اب دنیا کے سارے سمندروں کے سینوں پر ناچ رہا ہے ، ناچے جا رہا ہے اور دنیا حیران کہ اس’کا بوس‘ کا بالآخر کیا بنے گا ۔
دیوِ استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری


شیئر کریں: