Chitral Times

Oct 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی کابینہ نے گریڈ 12 سے 16 تک ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی کئے گئے اساتذہ کو مستقل کرنے کے لئے قانون کے مسودے کی منظوری دیدی

Posted on
شیئر کریں:

صوبائی کابینہ نے گریڈ 12 سے 16 تک ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی کئے گئے اساتذہ کو مستقل کرنے کے لئے قانون کے مسودے کی منظوری دیدی

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) صوبائی کابینہ نے گریڈ 12 سے 16 تک ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی کئے گئے اساتذہ کو مستقل کرنے کے لئے قانون کے مسودے کی منظوری دیدی ہے۔ اس اقدام سے 58 ہزار کے لگ بھگ اساتذہ مستفید ہوں گے۔یہ بات وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے کابینہ کے فیصلوں سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔صوبائی کابینہ کا 75 واں اجلاس وزیر اعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ کے کیبنٹ روم میں ہوا۔ اجلاس میں کابینہ کے ارکان، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور انتظامی سیکرٹریوں نے شرکت کی۔ صوبائی کا بینہ نے رائیٹ ٹو پبلک سروس کمیشن میں عوامی خدمات تک رسائی میں 38مزید پبلک سروسز شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ان خدمات میں نئی گاڑیوں کی فٹنس سرٹیفیکٹ، آلودگی کنٹرول سرٹیفیکٹ، روٹ پرمٹ واٹر سپلائی لائین کی مرمت،گلیوں کی صفائی، ٹریڈ لائسنس، فروٹ مارکیٹس کے قیام کے لیے NOC اور سکالرشپ کے کیسز وغیرہ قابل ذکرہیں۔ یہ امور متعلقہ محکمے سر انجام دیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے دیر میں سکول کی عمارت گرنے کے واقعے میں جان بحق بچی کے لواحقین کے لیے 10 لاکھ روپے اور اس واقعے میں زخمی ہونے والوں کے لیے ایک ایک لاکھ روپے کی مالی مدد کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ساتھ اس سکول کے نام کو جان بحق بچی کے نام سے موسوم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

 

بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے ضلع بنوں میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈومیل کے دفاتر کے قیام کیلئے سرکاری اراضی کی فراہمی کی منظوری دے دی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی کا بینہ نے دریاوں سے کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے بجری ریت نکالنے کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے خیبر پختونخوا مائیننگ آف مائینر مِنزلز رولز 2022کی منظوری دے دی ہے۔ تاکہ انڈسٹری کی ضروریات بھی پوری ہوں اور دریاوں کا قدرتی بہاو بھی متاثر نہ ہو۔ کابینہ نے غیر قانونی مائننگ پر جرمانے عائد کرنے کی بھی ہدایت کی۔ جرمانے 5 لاکھ روپے سے 15 لاکھ روپے تک لگائے جاسکتے ہیں۔ صوبائی کا بینہ نے پشاور میں موجود 12 بند ٹیوب ویلز پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ سے لے کر ڈبلیو ایس ایس پی پشاور کی تحویل میں دینے اور مذکورہ ٹیوب ویلز کی بحالی کیلئے16.63ملین روپے ون ٹائم گرانٹ فراہم کرنے کی بھی منظوری دی۔ اسکے علاوہ وزیراعلیٰ نے صوبے میں سینٹیشن سروسز آوٹ سورس کرنے کی ہدایت کی۔ صوبائی کا بینہ نے صوبے میں وائلڈ لائف کے موثرانتظام اور تحفظ کیلئے مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کرنے اور اس سلسلے میں سیکرٹری جنگلات کو مجاز اتھارٹی قرار دینے کی منظوری دے دی ہے۔

 

صوبائی کا بینہ نے جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے ضلع شانگلہ کبل گرام کو گیم ریزرو ایریا قرار دینے کی منظوری دے دی ہے۔ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ صوبائی کا بینہ نے ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں مائنز اینڈ منرل کے کیسوں کو نمٹانے کیلئے عبوری ٹریبیونل کی تشکیل کی منظوری دیدی۔ صوبائی کا بینہ نے تخت بھائی ضلع مردان میں گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ مینجمنٹ سائنسز کے قیام کیلئے محکمہ انڈسٹریز کی 20کنال اراضی محکمہ ہائیرایجوکیشن کے نام منتقل کرنے اور ضلع شانگلہ میں گورنمنٹ ہائی سکول لیلونئے کو ہائیر سیکنڈری سکول کا درجہ دیتے ہوئے سرکاری اراضی محکمہ تعلیم کے نام منتقل کرنے کی منظوری دِی۔ صوبائی کا بینہ نے اوچہ ولہ تحصیل شبقدر میں ریسکیو 1122اسٹیشن کے قیام کیلئے سرکاری اراضی فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی کابینہ نے ضلع بنوں میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈومیل کے دفاتر کے قیام کیلئے سرکاری اراضی کی فراہمی کی منظوری دے دی ۔ صوبائی کا بینہ نے سوات میں دہشت گردی میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی اصلاح کے لیے بنائے گئے حراستی مرکز فضا گٹ کو ختم کرنے کی منظوری دے دِی ۔انہوں نے بتایا کہ صوبائی کا بینہ نے صوبے میں وائلڈ لائف کے موثرانتظام اور تحفظ کیلئے مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کرنے اور اس سلسلے میں سیکرٹری جنگلات کو مجاز اتھارٹی قرار دینے کی منظوری دے دی ۔ اسی طرح کا بینہ نے جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے ضلع شانگلہ کبل گرام کو گیم ریزرو ایریا قرار دینے کی منظوری دے دی ہے۔بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ یونیورسٹیز کے لئے اراضی فراہم کے لئے طریقہ کار (Standardization) وضع کی جائے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں بھی جاری رہے اور زرخیز زمینوں کا کم سے کم استعمال ہو۔

chitraltimes kp cabinet meeting chaired by cm mahmood


شیئر کریں: