Chitral Times

May 18, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مہجور زیست – ایٹا کے امتحانی مرکز اور چترال ۔ تحریر؛د لشاد پری بونی چترال

شیئر کریں:

مہجور زیست – ایٹا کے امتحانی مرکز اور چترال – تحریر؛د لشاد پری بونی چترال

ان دنوں سوشل  اور پرنٹ میڈیا میں ایک ہی آوازگونج رہی ہے کہ ایٹا والوں نے  ایگزام کے لئے  سنٹر چکدرہ میں رکھ کر چترالیوں کے ساتھ ظلم کے ہیں،اسلئے میں نے بھی سوچا کہ میں بھی قلم کے زریعے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاؤ۔کیونکہ کئی دفعہ میں خود بھی اس کرب سے گزری ہوں۔یہ صرف ایٹا ایگزام میں ہی نہی ہوتا،بلکہ معمولی معمولی ٹیسٹ کے لئے ہمیں یہاں سے ڈاؤں ڈسٹرکٹ جانا پڑتا ہے اور وہاں جن حالات کا سامنا کرنا پڑتا وہ میرا آنکھوں دیکھا حال ہے،سب سے پہلے چترالیوں کو نوکری کی قسمت آزمائی کے لئے ایک لمبا سفر کرنا پڑ تا ہے۔مہنگائی کے اس دور میں جب غریب دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے تو اتنے لمبے سفر کا خرچہ بھی برداشت کرنا ایک طرف اور وہاں جا کر ہوٹلوں کے دھکے کھانا ایک طرف۔پھر قصائی بن کے جو سلوک ہوٹل والے چترالیوں کے ساتھ کرتے ہیں رہی سہی کسر ہمارے ڈرائیور حضرات پوری کرتے ہیں،ہوٹل والوں کے ساتھ ان کا تو مفت کے خورا ک کا معاہدہ ہوتا ہے،اس لئے وہ کیوں زحمت کرے کہ مسافروں کو کتنا خراب کھانا ملے اور کتنا مہنگا ملے انہیں تو مفت کا مل رہا۔

 

ان سارے پریشانئیوں کا سامنا جب ایک امیدوار کرتا ہے تو اگلے دن  ٹیسٹوں کیلے تازہ دماغ اور ذہن کا استمعال کرنا بہت مشکل ہے ۔ ہمارے لیڈروں کو چاہے کہ ایسے تمام ایگزام سنٹر چترال میں رکھیں تاکہ چترال کے غربت زدہ لوگوں کا کچھ ازالہ ہو سکے۔ورنہ علم کی راہ میں یہ رکاوٹیں لوگوں کو ڈیپریشن میں مبتلا کر دیں گے ۔ان تمام مشکلات کا سامنا کرکے ایک نارمل زندگی گزارنا مشکل کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل بیروزگاری اور ڈیپریشن کا شکار ہو کر خود کشیاں کرتے ہیں۔میں اپنے لیڈروں سے گزارش کرتی ہوں کہ ہمیں صحیح پہچان دینا آپ کا کام ہے۔پی سی ایس سے لیکر ایٹا تک ہر ایک ا یگزام سنٹر چترال میں رکھنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ یہ خودکشی پر لمبے چوڑے تقریر کرنے کے لئے ٹیم لانے کی چترال میں کوئی ضرورت نہی۔

جب تک عملی طور پر اس کا سدباب نہ ہو اور نوجوان نسل میں اس کا سد باب ڈیپرشن سے نکال کر کی جا سکتی ہے اور اس کا آسان حل روزگار کی فراہمی اور اس کے حصول کے لئے مواقع فراہم کرناہے۔صرف یہ پریشانی چترالیوں کو ایٹا سے ہی نہی ہے بلکہ چترال میں صحت کے صحیح علاج میسر نہ ہونے کی وجہ سے شہر کے ہسپتالوں بھی چترالی اسی طرح خوار ہوتے رہے ہیں،اسلئے ان مسائل پر عملی طور پر غورو فکر کرنے کی ضرورت ہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
62836