Chitral Times

Jul 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیِ کے زیر صدارت  صوبے کے وفاق سے متعلق معاملات پر اعلیٰ سطح اجلاس،صحت کارڈ اسکیم کے فنڈز کی بندش،  این ایف سی ایوارڈ، پن بجلی کے منافع کے بقایاجات اور وفاق سے جڑے دیگر اُمور پر بھی  غور

شیئر کریں:

وزیراعلیِ کے زیر صدارت  صوبے کے وفاق سے متعلق معاملات پر اعلیٰ سطح اجلاس،صحت کارڈ اسکیم کے فنڈز کی بندش،  این ایف سی ایوارڈ، پن بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات اور وفاق سے جڑے دیگر اُمور پر بھی غورو خوص

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبے کے وفاق سے متعلق معاملات پر اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس منگل کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں منعقد ہواجس میں وفاقی حکومت کی طرف سے ضم اضلاع کے ترقیاتی فنڈز میں کمی اور صحت کارڈ اسکیم کے فنڈز کی بندش پرشدید تحفظات کا اظہار کیا گیااور اس سلسلے میں وفاق کے ساتھ معاملہ اُٹھانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور وخوض کے بعد اہم فیصلے کئے گئے۔ صوبائی کابینہ اراکین تیمور سلیم جھگڑا، شوکت علی یوسفزئی، فضل شکور، چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش،آئی جی پی معظم جاہ انصاری ، ایڈوکیٹ جنرل شمائل بٹ اور متعلقہ سیکرٹریز نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے بشمول قبائلی اضلاع کے حقوق حاصل کرنے کے لئے تمام دستیاب فورمز استعمال کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلے میں صوبائی اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور کروانے کے علاوہ وفاقی حکومت کو با ضابطہ مراسلے ارسال کرنے اور جرگہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔

 

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ وفاقی حکومت کی طرف سے صوبے کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کو میڈیا کے ذریعے اُجاگر کیا جائے گا اور وفاقی حکومت کی طرف سے شنوائی نہ ہونے کی صورت میں تمام سیاسی، آئینی اور قانونی راستے اختیار کئے جائیں گے ۔ اجلاس میں این ایف سی ایوارڈ، پن بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات اور وفاق سے جڑے دیگر اُمور پر بھی  غور وخوض کیا گیااور اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ موجودہ این ایف سی میں خیبر پختونخوا کو اس کا پورا شیئر نہیں مل رہا۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سابقہ فاٹا کے انضمام کے بعد صوبے کی آبادی اور رقبے دونوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے لیکن صوبے کی آبادی اور رقبے کے تناسب سے این ایف سی میں شیئر نہیں دیا جارہا ۔ اجلاس میں نئے این ایف سی ایوارڈکے لئے وفاق سے معاملہ اُٹھانے جبکہ پن بجلی منافع کے بقایاجات کے حصول کے لئے مشترکہ مفادات کونسل کا فوری اجلاس بلانے کے لیے وفاق سے رابطے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے ساتھ کھلم کھلا زیادتیوں پر اتر آئی ہے۔ضم اضلاع کے صحت کارڈ اسکیم کے فنڈز کی منتقلی کے بغیر صوبے کو حوالے کرنا سراسر نا انصافی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ موجودہ وفاقی حکومت گذشتہ دور میں فیڈرل پی ایس ڈی پی میں شامل خیبر پختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں کو بھی نکال رہی ہے۔اُنہوںنے واضح کیا کہ صوبائی حکومت صوبے اور ضم اضلاع کے حقوق حاصل کرنے کے لئے تمام سیاسی، آئینی اور قانونی راستے اپنائے گی۔اُنہوںنے کہاکہ موجودہ وفاقی حکومت کے اقدامات اور فیصلے قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کے لئے درست نہیں اوراس طرح کے اقدامات وفاقی اکائیوں میں بد اعتمادی کو جنم دیں گے۔

chitraltimes cm kpk talking to delgation of young teachers association

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے ینگ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے ایک وفد کی ملاقات

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے ینگ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے ملاقات کی اور ایڈہاک ٹیچرز کی مستقلی سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر تمام ایڈہاک ٹیچرز کو اُن کی تاریخ تقرری سے مستقل کرنے اور اُن کی سنیارٹی کو بھی تاریخ تقرری سے برقرار رکھنے کا اعلان کیااور کہا کہ مستقل ہونے والے اساتذہ کے سالانہ انکریمنٹس کو بھی بنیادی تنخواہ میں شامل کیا جائے گا۔محمود خان نے واضح کیا کہ وہ ایڈہاک اساتذہ کی مستقلی کی سمری پر دستخط کرچکے ہیںاور مستقلی کا بل جلد صوبائی کابینہ کے اجلاس میںپیش کیا جائے گا جو حتمی منظوری کےلئے صوبائی اسمبلی کو بھیجا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت ایڈہاک اساتذہ کو مستقل کرنے کی منصوبہ بندی پہلے سے کر چکی تھی جس کا بجٹ میں اعلان بھی کیا گیا تھا،اس سلسلے میں ایڈہاک اساتذہ کا احتجاج بلا جواز تھا۔ اُنہوںنے کہاکہ شعبہ تعلیم شروع دن سے صوبائی حکومت کی ترجیح رہی ہے۔ دیگر تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ میرٹ کی بنیاد پر ہزاروں نئے اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں،حکومتی اقدامات کا حتمی مقصد صوبے کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ قابل اور اہل لوگوں کو میرٹ کے ذریعے روزگار کی فراہمی اور ملازمت کا تحفظ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے یہی وجہ ہے کہ نئے بجٹ میں 63 ہزار ایڈہاک ملازمین کو مستقل کیا جا رہا ہے جن میں 58 ہزار اساتذہ ہیں۔اس موقع پر ینگ ٹیچرز ایسو ایشن کے نمائندوںنے تاریخ تقرری سے ایڈہاک اساتذہ کی مستقلی کے اعلان پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیااور کہاکہ تعلیم کے شعبے کی ترقی کے لئے تحریک انصاف حکومت نے بے مثال اقدامات اُٹھا ئے ہیں۔تعلیم کے شعبے میں تحریک انصاف کی حکومت کے اصلاحاتی اقدامات قابل تحسین ہیں۔ صوبائی وزیر تعلیم شہرام ترکئی اور وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کے علاوہ محکمہ تعلیم اور خزانہ کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔

 

وزیر اعلیِ کا صوبے کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے نتیجے میں نقصانا ت پر افسوس کااظہار

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوامحمود خان نے ڈی آئی خان اور لکی مروت سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں حالیہ بارشوں کی وجہ سے گھروں کی چھتیں گرنے سمیت دیگر واقعات سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ان واقعات میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کے لئے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ دریں اثناءوزیر اعلیٰ نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو حکام کو متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور بارشوں کی وجہ سے زیر آب آنے والی رابطہ سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے لئے فوری اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت مشکل کی اس گھڑی میں متاثریں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔


شیئر کریں: