Chitral Times

Jul 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عوام کدھر جائیں؟ –  محکم الدین ایونی

Posted on
شیئر کریں:

عوام کدھر جائیں؟ –  محکم الدین ایونی

یکے بعد دیگرے حکومتوں کی خراب کارکردگی نے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی کو مفلوج کرکےرکھ دیا ہے ۔ آج غریب اور سفید پوش گھرانوں کے جملہ افراد دن رات اس سوچ میں مبتلاہیں ۔کہ کیسےاپنا چولہا جلائے رکھیں ۔ تاکہ زندہ رہ سکیں ۔ لیکن کسی کو سمجھائی نہیں دیتا ۔ کہ کیا کیا جائے ۔ ایک ہزار کی سبزی ایک وقت کیلئےکافی نہیں ہوتی ۔ آٹا گھی دالوں کو آگ لگی ہوئی ہے ۔ ایسے میں کوئی خوش نصیب یا کوئی بالائی آمدن والا ہی ہوگا ۔جس کے پریشرککر میں گوشت کو آنچ مل رہی ہے ۔ تیل کی قیمتوں نے تو ہوش ہی اڑادیے ہیں ۔ اور اس کی آڑ میں بڑے کاروباری لوگوں اور ٹرانسپورٹروں کو عوام کی چمڑی اتارنے کی کھلی چھٹی مل گئی ہے ۔ جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے

جس طرح سابقہ حکومت نے روز بروز تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرتےہوئے جلد حالات بہتر ہونے کی نوید سناکر ساڑھے تین سال پورے کئے ۔ اور اس بہتر دن کو دیکھنا عوام کو نصیب نہیں ہوا ۔ اسی طرح موجودہ کھچہڑی حکومت بھی اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ کر دیا ہے ۔ اور یہ سلسلہ اب بھی رکا نہیں ہے ۔ جس کا جواز یہ بتایا جا رہا ہے ۔ کہ سابق حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضے حاصل کرنے کیلئے کڑی شرائط قبول کی تھیں۔ اس لئے طے شدہ شرائط پوری کرنا موجودہ حکومت پر لازم ہے ۔ جس کے بغیر مزید قسطیں حاصل کرنا ممکن نہیں ہے ۔ اور حکومت کیلئے آئی ایم ایف سے قرض لینا ضروری ہے۔ اس لئے تیل و گیس و بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا کڑوا گھونٹ موجودہ حکومت کو پینا پڑ رہا ہے ۔ عوام اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کو وقتی طور پر برداشت کریں ۔ تاکہ ہم ان حالات سے نکل سکیں۔ دیکھنے میں یہ باتیں بہت خوشنما لگ رہی ہیں ۔ لیکن یقین جانیے کہ حکمران اپنی باتوں اور وعدوں میں اتنے بے اعتبار ہو گئے ہیں ۔ کہ اب اگر یہ قر آن پاک پر ہاتھ رکھ کر بھی قسم کھائیں۔ توبھی ان پر اعتبار کرنے کو دل گوارا نہیں کرتا ۔ کیونکہ پاکستان کے حکمرانوں نےعوام کے ساتھ جھوٹ بولنے کے سوا کچھ نہیں کیا ۔ اس وقت ملک میں اگر کوئی ناقابل اعتبار طبقہ موجود ہے ۔ تو وہ مختلف سیاسی رہنماوں پر مشتمل طبقہ ہے ۔ جو حکومت میں ہیں یا حکومت سے باہر ،

 

ملک میں سنگین معاشی حالات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ اور اس ابتری میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود سابق وزیر اعظم و موجودہ وزیر اعظم اور وزیروں مشیروں کی عیاشیوں اور بیورو کریسی کی مستیوں میں کوئی بھی کمی نہ پہلے دیکھنے میں آئی اور نہ اب آرہی ہے ۔ ان کے ٹھاٹ باٹ ، شاہانہ پروٹوکول میں ایک انچ بھی فرق نہیں آیا۔ عوام کی نظر میں سابق اور موجودہ حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ۔ مقروض ملک کے عیاش حکمرانوں اور بیوروکریسی کو آخر کب تک عوام اپنا خون پلاتا رہے گا ۔ جبکہ ان کو کوئی احساس ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے عوام کو اس نہج پر پہنچایا ہے ۔ کہ اب غریب عوام کے پاس عزت کے ساتھ روکھی سوکھی کھانے کیلئے بھی کچھ نہیں بچا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے ۔ کہ غریب عوام ان سے چھٹکارا پانے کیلئے کوئی حکمت عملی وضع کرتی ہے ۔ یا ان کی عیاشیوں کیلئے اپنی زندگی قربان کرتی ہے


شیئر کریں: