Chitral Times

Jul 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سوچو، سمجھو اور بدلو . تحریر صوفی محمد اسلم 

Posted on
شیئر کریں:

سوچو، سمجھو اور بدلو – تحریر صوفی محمد اسلم

سوچ  ایک ایسا عمل ہے جس سے کوئی شخض کسی مسلے یا حالات  کے متعلق رائے یا عقیدہ  رکھتا ہے ۔ سوچوں پر  شغوری صلاحیت،صحت  ذہن و جسم اور ماحول جہاں وہ رہتا ہو اثرانداز ہوتے ہیں۔ ہر کوئ چاہے انسان ہو یا جانور اپنی ماحول اور شغوری صلاحیت کے دائرے میں ہی حالات  کے بارےمیں رائے اور سوچ رکھتا ہے۔ جتنی صحت مند ذہن اتنی ہی مثبت سوچ اور بہتر فیصلے ۔ سوچ ،رائے یا فیصلے درست ہے یا غلط اس کا اندازہ کئی  طریقوں سے لگایا جاسکتا  ہے ۔”پہلا” یہ کہ اپ کسی کام یا مسلے پرجو سوچ یا رائے رکھتے ہو کیا وہ  مروجہ قانون کے تحد درست ہے؟”۔  دوسرا ،” موقعے پر موجود کتنے لوگ اپکے فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں اور کیوں کرتے ہیں؟”۔ یہ لازم نہیں کہ ہر اکثریتی متفقہ  فیصلہ مستقبل میں درست ثابت ہوگا۔ یہ ان لوگوں کے سمجھداری اور فصاحت بلاغت  پر منحصر ہے  ۔تیسرا  ” یہ کہ وقت ثابت کریگا کہ وہ سوچ یا فیصلہ درست تھا یا غلط”۔
اب اتے ہیں اصل مسلے کی طرف 1857سے1947تک ہندستاں میں  چار قسم کے خیالات کے قائل لوگ موجود تھے۔ ایک گروہ انگریزی دور کی ہمایت کرتا تھا۔ایسے لوگوں کا موقف یہ تھا کہ انگریزوں کے انے سے ہند میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ۔ ہر شعبہ ترقی پائی ، نظام تبدیل ہوا،تعلیم اور تعمیرات پر بھی کافی توجہ دیگٸی۔ مختلف شہروں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کیلٸے ریل کی پٹیاں بچھاٸے گٸے۔ سب کے لئے یکساں قانون بنایا گیا,فوج اور پولیس کو منظم کیا گیا،مختلف شعبہ ہاٸے زندگی پر توجہ دی گٸی، آرام وآسائیش کے سامان دستیاب ہوئے،نٸے پالیسیاں اور نٸے طریقے ہاٸے تجارت جنم لیں،نظام مواصلات  بہتر ہوئی اور روزمرہ استعمال کے سازوسامان میں واضع بہتری ائی وغیرہ وغیرہ ۔ اس گروہ میں اکثریت ان لوگوں کا تھا  جنہیں سرکاری پروٹوکول میسر تھی۔ جنہیں انگریزوں کی امد سے غیر متوقع سہولیات ، عہدے، اختیارات ملے۔  اس گروہ کو زندگی کی  اساٸیشات کے دستیابی پر خوش ہونا کوٸی خلاف عقل بات نہیں ۔
دوسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل تھا جو ہندوستان کے اباٸی تہزیب کے علمبردار تھے۔ خود کو اس ملک کے مذہب،  تہذیب اور ثقافت  کے رکھوالے سمجھتے تھے۔ وہ کسی دوسری مذہب،تہذیب اور ثقافت کو اپنے اوپر مسلط ہونا بلکل پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک  نہ کسی اور قوم کو اس مٹی پر دعویداری ہے اور  نہ انکے وجود کو وہ تسلیم کرنے کیلئے تیار تھے۔ چاہے وہ ہندوسان پر 700سال تک حکومت کرنے والے مسلمان ہو یا انگریز  ۔ وہ سمجھے تھے کہ ہندوستان پر ہندومت مذہب اور برہمن، چھتری  اور دوسرے ازلی ہندو اقوام کا حق ہے باقی سب غیر ہیں۔انھیں یہ بالکل قابل قبول نہیں تھا کہ ہند کی مٹی کسی اور مذہب یا تہذیب کیلئے  تقسیم ہو۔ انکا کہنا تھا  کہ ہند کو مذہب اور اقوام کیلٸے تقسیم نہیں کیا جاسکتا یہ مٹی ہندوؤں کا ہے اور اسے سونپ کر انگریزوں کو یہاں سے جانا چاہئے ۔وہ ہند کی مٹی کو ہندو مت کا کل اثاثہ سمجھتے تھے۔
تیسرا گروہ راجائوں اور حکمران طبقے کا تھا جن سےانگریزوں نے تخت و تاج چھین چکے تھے۔ وہ سمجھتے تھے اس مٹی کے ہم حکمران ہیں۔ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے باقی ہمارے عوام ہیں انکا خیال رکھنا ہمارا کام ہے۔ باہر سے انگریز اکر ہمیں نقصان پہنچایا ہے ۔ انگریزوں کے جانے کے بعد ہمیں ہی حکمران رہنا ہے۔ اس گروہ میں مسلمان اور دوسرے ریاستی شہزادے شامل تھے۔ وہ سابقہ حکمران تھے، وہ کئ پشتوںسے وہ حکمرانی کرتے ارہے تھے۔باقی عام محنت کش عوام تھے۔ انکا کہنا تھا کہ انگریزوں کے انے سے انہییں نقصان اٹھانا پڑا انکے خاندان مٹ گئے، انہیں بے دخل کردیا گیا، اس مٹی کی آزادی کیلئے ان کے آبائواجداد کو جانوں کی قربانیاں دینے پڑے وغیرہ وغیرہ ۔ یہ لوگ ہند کو کئ ریاستوں میں  تقسیم کرکے اپنے اپنے علاقوں میں  اپنی سابقہ حکومت واپس لینا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ انگریز واپسی کے وقت انکے ریاستیں انہیں سونپ کر جائے۔
 چوتھا گروہ ان مسلمانوں پر مشتمل تھا جو چاہتے تھے کہ انگریزوں کے جانے کے بعد عوامی حکومت ائے۔ ہند کی مٹی عوام کا ہے یہ کسی راجا، کسی مذہب یا کسی مخصوص قوم کا نہیں بالکہ جہاں جو بھی رہتا ہے وہ انہی کا ہے۔ جن علاقوں میں جو قوم یا مذہب اکثریت رکھتی ہے وہاں ان لوگوں کی حکومت ہونی چاہئے ۔ مسلمان اپنے نظریے کے بنیاد پر ان علاقوں میں آزاد ریاست چاہتے تھے جہاں ان کی اکثریت تھی۔ یہ انگریزوں اور ہندوں کے خیالات سے واقف تھے ۔ وہ انگریزوں کےمسلمانوں سے جان بوجھ کر فاصلہ پڑھانا اور انگریزوں کے مسلمانوں کو نظام حکومت سے دور رکھنے جیسے پالیسیوں کو جانتے تھے اور ہندوں میں بدلے کی چنگاریوں کی خوف سے اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند تھے ۔ ہند کے  لوگوں کے  خیالات اور رجحانات جمہوریت کی طرف تھی ، یہ اندازہ لگا کر خود کو نظریے کے بنیاد پر الگ قوم ثابت کرکے ہندوں اور انگریزوں سے ازاد ہوکر الگ ملک چاہتے تھے۔
برطانیہ میں اس وقت جمہوریت کی پرچار تھی عوامی رائے کو فوقیت دیکر بالاخر انگریز ہندوستان کو نظریے کی بنیاد پر  ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم کرکے جعرافئی حدودات مختص کرکے چلے گئے۔ اقبال کی خوبصورت خواب پاکستان کی صورت میں قائد اعظم اور اس کے ٹیم کی جدوجہد سے  معرض  وجود میں ایا۔ اس ملک کو سجانے سنوارنے کیلئے پرجوش مسلمان  ہند کے کونے کونے سےبنگال ،سندھ ،پنجاب اور صوبہ سرحد میں داخل ہورہے تھے۔ ہندستان میں  انگریزوں سے آزادی کی جشن منارہے تھے جبکہ پاکستان میں آزادی اور ایک نئی مسلم ریاست کی وجوہ میں انے پر جشن منارہے تھے ۔
دراصل رائے ہمیشہ سے اپنی یا اپنی قوم یا مذہب کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے دیے جاتے ہیں ۔ مذکورہ بالا گروہ بھی ذاتی، قومی یا مذہبی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے جدوجہد کررہے تھے۔ مسلمانوں کے اس کامیابی کو اس وقت بھی تسلیم کررہے تھے  اور اب تسلیم کرتے ہیں۔ مسلم رہنماؤں کے سوچ اور انکے دوراندیشی پر نصف صدی گزرنے کے باوجود بھی کوئی سوال اٹھانے کی جرات نہیں کرسکتا۔ البتہ بعد میں پاکستانی نااہل حکمرانوں اور انکے غلط پالیسیوں کی وجہ  تقسیم پاکستان،  معاشی بدحالی، سیاست میں عدم استحکام، نظام میں بگاڑ،  اداروں کی غیر زمہ دارانہ روئے ، عوامی لاپرواہی،  کرپشن جیسے مسائل پیدا ہوئے۔ یہ سارے محرکات قومی رہنماؤں کی پاکستان کی خوابوں اور فیصلوں کی وجہ سے نہیں   بالکہ یہ سارے  ہمارے غلط فیصلوں اور ہمارے ذاتی مفاد پرستی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔
خلاصہ مضمون یہ کہ ہر سوچ یا خواب کی تعبیر جدوجہد کی محتاج ہوتی ہے ۔ خواب دیکھنا ضروری ہے بڑے لوگ عزیم خواب دیکھتے ہیں اور ہر عزیم  خواب کی تعبیر مال،جان،وقت ذاتی مفادات  کی قربانیوں کے بعد ملتی ہے۔  تعبیر کیلئے مضبوط منصوبہ بندی، ثابت  قدمی اور جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اقبال کا خواب قائد اعظم کے بہترین فیصلوں ،  بے انتہا جدوجہد اور لا ثانی  ثابت قدمی  سے تعبیر ہوئی ۔اگر قائداعظم اور اس کے ٹیم کی جدوجہد نہ ہوتی تو شاید اج ہم اس آزاد پاکستان کے باسی نہ کہلاتے۔  اسلئے مختصر وقت اور بگڑی ہوئی حالات ہم سے تقاضا کرتی  ہیں کہ اپنے وطن عزیز کے مستقبل کیلئے سوچے،بہترین پالیسیاں بنائے، اپنے سابقہ فیصلوں پر نظر ثانی کرے، اپنی زمہ داریوں پر توجہ دے، اپنی اپنی حصے کا کردار بہترین طریقے سے اداکرے تاکہ اپنے رب اور اپنے آباؤ اجداد کے سامنے شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔
وماعلینا الاالبلاغ ۔

شیئر کریں: