Chitral Times

Jul 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صنفی مساوات اور خواتین کا کردار – پروفیسر عبدالشکور شاہ

Posted on
شیئر کریں:

صنفی مساوات اور خواتین کا کردار – پروفیسر عبدالشکور شاہ

 

دنیا میں مردوں اور عورتوں کی تعداد تقریبا برابر ہے۔اگرچہ مردوں کو عورتوں پر معمولی عددی برتری حاصل ہے جس کا تناسب50.4% مرد اور49.6% خواتین شامل ہیں۔اس معمولی عددی برتری کے ساتھ ایک بیانک خطرہ بھی منڈلا رہا ہے۔ نوجوان لڑکیوں کی نسبت نوجوان لڑکوں میں مرنے کا تناسب زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں زراعت کے شعبے میں 43%خواتین کام کر تی ہیں۔اس سے یہ بات عیاں ہو تی ہے،اگر خواتین مردوں کے برابر کام کریں تو وہ زراعت کے شعبے میں 20 سے 30فیصد اضافہ کر سکتی ہیں۔نہ صرف اٖضافہ بلکہ خواتین کوزراعت کے شعبے میں مردوں  کے برابر مواقع مہیا کر کہ دنیا سے 2.5% بھو ک کم کر سکتے ہیں جو کے 4% بنتا ہے۔ سب نعروں اور فلسفوں کے باوجود ابھی بھی دنیا کے ناخواندہ لوگوں میں سے دو تہائی اکثریت خواتین کی ہے جن کی تعداد 796ملین ہے۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق دیہاتی علاقوں کی 39% لڑکیاں سیکنڈری سکول میں داخلہ نہیں لے پاتی۔ پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے آدھا کلو میڑ کے فاصلے پربھی اگر سکول بنا دیا جائے پھر بھی لڑکیوں کے سکولوں میں داخلے نہ لینے کی شرح20%سے بڑھ جاتی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک لڑکیوں میں خواندگی بڑھانے کے لیے دیہی سکول قائم کر رہے ہیں جن میں مصر، انڈونیشیا اور بہت سارے افریکی ممالک سرفہرست ہیں۔ بچوں کی محفوظ زندگی کے لیے خواتین کا تعلیم یافتہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔

 

ایشیا میں دیہی کونسلز میں خواتین کی شمولیت 1.6% ہے۔جہاں پوری دنیا میں خواتین کے حقوق اور انکی بہتری کے اقدامات کو سراہا جا رہا ہے وہاں پر دنیا میں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں خواتین کو انکے بنیادی حقوق بھی میسر نہیں اور ان خطوں میں آزادکشمیر سرفہرست ہے۔ خواتین کا عالمی دن بھی منایا جا تا ہے جس کی ابتداء 1911میں ہو ئی تھی۔ دنیا میں مردوں اور عورتوں کے حقوق اور معاشرے میں انکے کردار کا جو فرق موجود ہے ایک تحقیق کے مطابق اسے پر کرنے مین مزید 108سال لگیں گے۔ دنیا میں صرف 6ممالک ایسے ہیں جو خواتین کو مردوں کے برابر حقوق دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ دنیا میں پیشہ وارانہ شعبوں میں خواتین کا تناسب 6.22% ہے۔زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح شوبز میں بھی خواتین کو مردوں کے برابر کام کرنے کا موقعہ دستیاب نہیں ہے۔ فلموں پر کی جانے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کسی بھی فلم میں ایک خاتون کردار کے مقابلے میں 2.24 مرد کردار ہیں۔اس وقت مردوں کے مقابلے میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد بھی انتہائی کم ہے۔ دنیا کے مقابلے میں ہم جب آزادکشمیر کی بات کریں تو حالت انتہائی افسوسناک ہے۔ آزاد کشمیر کے سب سے بڑے ضلع نیلم میں جہاں خواتین کی آبادی 51% ہے وہاں پر خواتین بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ وادی نیلم میں ایک ااندازے کے مطابق 1000میں سے 54بچے پیدائش کے وقت فوت ہو جاتے ہیں۔ خواتین کی 51%آبادی کے لیے کوئی گائیناکالوجسٹ موجود نہیں ہے۔ 2014میں ایک این جی او Save the Children  کی جاری کر دہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پیدائش کے بعد فوت ہونے والے بچوں کی تعداد انتہائی زیادہ ہے اور آزادکشمیر میں تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت دنیا میں پیدائش کے ایک دن بعد بچوں کی شرح اموات کا تناسب1000  میں 40.7% ہے جبکہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں یہ تناسب 54% ہے۔ متذکرہ بالا رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک میں 1000میں سے صرف 5.9فیصد بچے  ایک ماہ کی عمر کو نہیں پہنچ پاتے۔حتی کے ہمارا پڑوسی جنگ زدہ ملک افغانستان ہم سے کہیں بہتر ہے جہاں پر پیدائش کے بعد بچوں کی شرح اموات کا تناسب 29فیصد ہے۔ جب ہم خواتین کی تعلیم پر توجہ نہیں دیں گے تب تک بچوں میں شرح اموات کم ہونا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

 

تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پڑھی لکھی ماوں کے بچوں میں شرح اموات ناخواندہ ماوں کی نسبت انتہائی کم ہے۔ آزاد کشمیر کی آبادی 2017کی مردم شماری کے مطابق 4.045 ہے اور اس میں 1.64% کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔آزاد کشمیر میں 49% مر د آباد اور 51%خواتین آبادی ہے۔وادی نیلم میں آزاد کشمیر کے تمام اضلاع کی نسبت  بچوں اور خواتین میں بیماریوں اور اموات کی شرح کہیں زیادہ ہونے کے باوجود نہ تو بچوں کے سپیشلسٹ ڈاکٹرز ہیں اور نہ ہی خواتین کے لیے۔ آزاد کشمیر میں بے روزگاری کی شرح 10.26%ہے جبکہ وادی نیلم میں یہ شرح 29.7%ہے۔ آبادی کے اعتبار سے 3893 افراد کے لیے ایک ڈاکٹر دستیاب ہے۔ خواتین کے تمام تر مسائل کی جڑ انکی ناخواندگی ہے۔ اگر حکومت صرف خواتین کی تعلیم پر توجہ مرکوز کر دے تو بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ ضلع نیلم میں جہاں 51% خواتین آبادی ہے وہاں صرف 379خواتین اساتذہ تعینات ہیں جو کہ مرد اساتذہ کی نسبت نصف سے بھی کم ہیں اور یہی صورتحال پورے ملک میں ہے۔ خواتین اساتذہ کی تعداد مر اساتذہ کی نسبت بہت کم ہے۔

 

دنیا بھر کے  ماہرین تعلیم اس بات پر زور دیتے  ہیں کہ پرائمر ی اور مڈل سطح پر خواتین اساتذہ ہو نی چاہیے اور ہم خود بہت بڑے ماہر ہیں ہم اس کے برعکس چلتے۔یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ خواتین اساتذہ کی تعداد میں اضافہ ہونے کے بجائے ان کی تعداد میں کمی واقع ہورہی ہے۔داخلہ لینے والی طالبات کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور خواتین اساتذہ کی تعداد میں کمی واقع ہو تی جا رہی ہے۔2016 وادی نیلم میں صرف 11لڑکیوں نے ڈگری کالج میں داخلہ لیا۔پوری وادی میں کوئی پوسٹ گریجویٹ کالج موجود نہیں ہے۔ اعلی تعلیم کے لیے وادی سے باہر جانا پڑھتا ہے اور جو انٹر میڈیٹ اور ڈگری کالج ہے وہاں بھی نہ تو پڑھائی کا معیار ہے اور نہ ہی اساتذہ موجود ہیں۔یہی صورتحال پاکستان کے دور دراز پسماندہ اضلاع کی بھی ہے جس میں جنوبی پنجاب، کے پی کے، بلوچستان، دیہی سندھ، گلگت بلتستان اور آزادکشمیرشامل ہیں۔ملکی ترقی میں خواتین کا کردار ایک اٹل حقیقت ہے مگر ہم اس حقیقت سے روگردانی کر رہے ہیں۔ہم نے خواتین کو پس پشت ڈالا ہوا ہے جو کہ اس قوم کے زوال کا سبب بن رہا ہے۔ ہم نے خواتین کو ہر میدان میں سائید لائن پر لگایا ہوا ہے چاہے وہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو خواتین کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔وادی نیلم میں تو خواتین کو اپنی مرضی سے ووٹ کا حق بھی حاصل نہیں ہے اور نہ ہی آج تک کوئی خاتون سوائے ایک مخصوص نشست کے سامنے آئی اورنہ ہی ہم نے آنے دیا ہے۔ اگر خواتین  کے بارے سیاست میں آنے کی بات کر یں تو ایک نام نہاد طبقہ ڈھال بن کر سامنے آکھڑا ہو تا ہے۔ جمہوریت کو ایک طرف رکھ دیں ہم نے تو اسلام کے مطابق بھی خواتین کو حقوق سے نابلد رکھا ہو ا ہے۔

 


شیئر کریں: