Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گولین ویلی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی بھر پور کوشش کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنرانوارالحق

شیئر کریں:

گولین ویلی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی بھر پور کوشش کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر کا کھلی کچہری سے خطاب

چترال (نمائندہ چترال ٹایمز ) ڈپٹی کمشنر لویر چترال انورالحق نے کہا ہے کہ گولین ویلی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی بھر پور کوشش کی جائے گی جوکہ نہ صرف چترال شہر کے قریب واقع معروف سیاحتی مقام ہے بلکہ یہ قدرتی وسائل کا خزانہ ہے جہاں آبی وسائل سے لے کر معدنی وسائل اور حیاتیاتی تنوع موجود ہے اور یہ وادی گزشتہ سالوں قدرتی گلوف جیسی قدرتی آفت سے بھی دوچار ہوئی تھی۔

 

منگل کے روز گولین وادی میں کھلی کچہری میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت نے عوام کے مسائل کو ان کے گھروں کی دہلیز پر حل کرنے کی خصوصی ہدایت دے ان کے جملہ مسائل ان کی تسلی کے مطابق حل کرنے کی پالیسی بنارکھی ہے جس پر عملدرامد جاری ہے اوراس بات کو یقینی بنائی جائے گی کہ ہر افسراپنے آپ کو عوام کا خادم تصور کرے اور اسے عملی جامہ بھی پہنائے۔ اس موقع پر انہوں نے وادی کے عوام سے ان کے اجتماعی مسائل معلوم کرنے کے بعدبعض مسائل کے حل کے لئے موقع پر موجود مختلف محکمہ جات کے افسران کو احکامات جاری کردئیے جبکہ دوسرے مسائل کو متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھاکر جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے موقع پر موجود اسسٹنٹ کمشنر چترال وقاص چودھری کو پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، سی اینڈ ڈبلیو اور لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مقامی افراد کے نشاندہی کردہ مسائل پر محکمہ کے افسران کے ساتھ مل کر حل کرنے کی ہدایت کردی۔

 

کھلی کچہری میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسرڈاکٹر فیاض رومی، ڈسٹرکٹ ڈائرکٹر فشریز شکیل احمد اور اسسٹنٹ ڈائرکٹر لوکل گورنمنٹ لویر چترال جواد خان موجود تھے جبکہ دیگر محکمہ جات کی طرف سے کم رینک کے افسران اور اہلکار شریک ہوئے۔ وادی کے مسائل بیان کرنے والوں میں مقامی رہنما صفدر علی کاش، ولی الرحمن، سفیر اللہ اور دوسرے نمایان تھے جنہوں نے واپڈا، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، سی اینڈ ڈبلیو، ایریگیشن، یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن، فشریز، زراعت، معدنیات اور ٹی ایم اے سے متعلق مسائل کا ذکرکیا۔ انہوں نے اس موقع پر بتایاکہ ایک طرف تو حکومت نے1998میں گولین گول کو کمیونٹی گیم ریزرو ڈیکلئیر کیا تھا لیکن اس کے باوجود یہاں معدنیات کی لیز دینا اور باہر سے یہاں آکر چراگاہ میں بکریاں چرانے کی اجازت دینا سمجھ سے بالا تر ہے جس سے سیلاب کی صورت میں قدرتی آفات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

chitraltimes Golen valley khuli kachri chitral lower chitraltimes Golen valley khuli kachri chitral lower2 chitraltimes Golen valley khuli kachri chitral lower1

chitraltimes Golen valley khuli kachri chitral lower 6


شیئر کریں: