Chitral Times

Oct 5, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کالاش ویلی کی قدیم ترین گاؤں بڑان کورو رمبور میں سڑک کی الائنمنٹ کو تبدیل کرکے ہزاروں سالہ کالاش تہذیب و ثقافت کے ایک بڑے ورثے کو تباہی وبربادی سے بچایا جائے۔عمائدین علاقہ

شیئر کریں:

کالاش ویلی کی قدیم ترین گاؤں بڑان کورو رمبور میں سڑک کی الائنمنٹ کو تبدیل کرکے ہزاروں سالہ کالاش تہذیب و ثقافت کے ایک بڑے ورثے کو تباہی وبربادی سے بچایا جائے۔عمائدین علاقہ

چترال (نمائندہ چترال ٹایمز ) کالاش وادی رمبور کے عمائیدین سابق ممبر ضلع کونسل سیف اللہ جان، ثراوت شاہ، نورمحمد، کونسلر نور شالی اورکوسل خان نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے پرزورمطالبہ کیا ہے کہ وادی کے قدیم ترین گاؤں بڑان کورو میں سڑک کی الائنمنٹ کو تبدیل کرکے ہزاروں سالہ کالاش تہذیب و ثقافت کے ایک بڑے ورثے کو تباہی وبربادی سے بچایا جائے جبکہ شنوائی نہ ہونے پر شدید احتجاج کرنے کے ساتھ ساتھ وہ عدالت سے بھی رجوع کرنے کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں۔

 

انہوں نے کہاکہ وہ رمبور ویلی کے لئے سڑک کی تعمیر پر حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن الائنمنٹ کے بارے میں ان کے شدید نوعیت کے تحفظات کو بھی مدنظر رکھے جائیں جوکہ حقائق پر مبنی ہیں لیکن نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے سروے کے وقت سے اب تک ان کی موقف سننا گواراکیا اور نہ ہی ان کو اہمیت دے دی۔ انہوں نے موجودہ الائنمنٹ کے بارے میں تحفظات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہاکہ بڑان کورو میں موجود 55گھرانے سڑک کی زد میں آئیں گے جہاں ڈیڑھ سو سالہ پرانے اورماڈل گھرانے اب بھی اصلی حالت میں موجود ہیں جنہیں منہدم کرنا پڑے گا جس کے نتیجے میں کالاش تہذیب وثقافت ایک قیمتی ورثے سے محروم ہوگا۔ کالاش عمائیدین نے کہاکہ سڑک کی الائنمنٹ کو تبدیل کرکے پہاڑی سلسلے سے گزارنے سے سڑک کی طوالت بھی گھٹ جانے کے ساتھ سڑک کی مضبوطی میں اضافہ ہوگا اور ساتھ ہی گھروں، زرعی زمینوں اور باغات کے لئے دی جانے والی معاوضہ بھی حکومت کو بچ جائے گا۔

 

انہوں نے کہاکہ این اے ایچ کے حکام عنانیت پر اتر آکر ہزاروں سالہ قدیم تہذیب کے نشانات کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں جبکہ اسے اقوام متحدہ کی یونیسکو کی تحفظ بھی حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگر سڑک کو اسی مقام سے گزاری گئی تو پورا گاؤں کو دوسرے مقام پر منتقل ہونا پڑے گا اور یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ہر پرانے گھر میں کالاش عقیدہ کے مطابق دیوتا کا ایک بت رکھا جاتا ہے جسے نئی تعمیر کردہ گھرمیں نہیں رکھا جاسکتا اور یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف بے گھر کئے جارہے ہیں بلکہ وہ اپنے مذہب کے لازمی جزو سے بھی محروم ہونے جارہے ہیں۔ کالاش عمائیدین نے کہاکہ اگر این ایچ اے نے روڈ کی الائنمنٹ تبدیل نہ کی تو وہ خواتین اور بچوں کے ساتھ احتجاج کرنے کے ساتھ عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔ انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس سے کالاش مذہبی و ثقافتی ورثے کو بچانے کے لئے سوموٹو ایکشن لینے کامطالبہ کی

chitraltimes kalash rumbur elites press confrence

 


شیئر کریں: