Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا نے آئندہ مالی سال 23-2022کیلئے 1 ہزار 332 ارب روپے مالیت حجم کا بجٹ پیش کر دیا

شیئر کریں:

وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا نے آئندہ مالی سال 23-2022کیلئے 1 ہزار 332 ارب روپے مالیت حجم کا بجٹ پیش کر دیا

پشاور (نمایندہ چترال ٹایمز) خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا نے آئندہ مالی سال 23-2022کیلئے 1 ہزار 332 ارب روپے مالیت حجم کا بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 16 فیصد اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے سالانہ صوبائی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کا شکار صوبہ تھا جو اب سرمایہ کاری کا مرکز بن چکا ہے، یہ وہ ترقی کا سفر ہے جو خیبرپختونخوا نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت میں طے کیا ہے۔تیمور سلیم جھگڑا نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کیلئے صوبے کا بجٹ 1ہزار 332 ارب روپے رکھا گیا ہے، بندوبستی اضلاع کے اخراجات کا تخمینہ 1109 ارب روپے لگایا ہے جبکہ ضم اضلاع کے اخراجات 223 ارب ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاق کے ٹیکس محصولات کا تخمینہ 570 ارب 90 کروڑ لگایا گیا ہے جبکہ وفاق سے آئل اور گیس رائلٹی کی مد میں 31 ارب روپے ملیں گے، بجلی کے خالص منافع اور بقایاجات کی مد میں 61 ارب 90 کروڑ ملنے کی توقع ہے۔خیبرپختونخوا حکومت نے بجٹ میں جنگلات میں لگی آگ بجھانے میں شہید ریسکیو اہلکاروں کیلئے شہدا پیکیج اور 10,10 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ یہ اضافہ گریڈ 1سے 19 تک کے ملازمین کیلئے DRA کے علاوہ ہے جس میں پولیس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ بجٹ میں صوبے کے 10لاکھ مستحق خاندانوں کیلئے رعایتی نرخوں پر راشن مہیا کرنے کیلئے انصاف فوڈ کارڈ کے تحت 26 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ 63 ہزار ملازمین کی مستقلی کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

 

یکم جولائی سے مستقل ہونے والے ملازمین میں 675 ڈاکٹر، 58 ہزار اساتذہ اورضم اضلاع کے128 منصوبوں کے 4079ملازمین شامل ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت نے گریڈ 7 سے16 تک پولیس اہلکاروں کے الاونس میں ڈی آر اے کے برابر اضافہ کرنے کے علاوہ ایگزیکٹو الاونس کو پرفارمنس الاونس میں تبدیل کر دیا ہے جبکہ جمعہ کے دن ورک فراہم ہوم کی پالیسی متعارف کرانے کیساتھ ساتھ کنٹری بیوٹری پنشن سکیم میں موجودہ ملازمین کو بھی شامل ہونے کا اختیار دیدیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 16 فیصد اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ کر رہے ہیں، بجٹ میں تنخواہوں کیلئے 447 ارب 90 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ سرکاری ملازمین کی پنشن کیلئے 107 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ پنشن پروگرام ختم نہیں کیا جا رہا بلکہ پنشن فنڈ قائم کر رہے ہیں جس میں فی الحال نئے ملازمین کو ڈال رہے ہیں۔بجٹ میں گزشتہ سال کم کئے گئے ٹیکس نرخ اگلے مالی سال بھی برقراررکھنے کا فیصلہ کیا، ابتدائی وثانوی تعلیم میں طلباوطالبات سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی جبکہ اگلے مالی سال لائبریری اینڈ آرکائیوز اور ہاسٹل فیس بھی ختم کر دی گئی ہے۔ وزیر خزانہ خیبر پختونخواہ نے بتایا کہ وفاق کی ٹیکس محصولات کا تخمینہ 570 ارب 90 کروڑ لگایا گیا ہے جبکہ وفاق سے آئل اینڈ گیس رائلٹی کی مد میں 31 ارب روپے ملیں گے، بجلی کے خالص منافع اور بقایہ جات کی مد میں 61 ارب 90 کروڑ ملنے کی توقع ہے جبکہ قبائلی اضلاع کیلئے 208 ارب روپے کی گرانٹس ملنے کی توقع ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں 68 ارب 60 کروڑ روپے ملیں گے جبکہ صوبائی ٹیکسوں کی مد میں 85 ارب روپے وصول ہوں گے، اس کے علاوہ 93 ارب روپے کی غیر ملکی امداد بھی بجٹ میں شامل ہے، دیگر محاصل کا تخمینہ 212 ارب روپے لگایا گیا ہے۔تیمور خان جھگڑا نے بتایا کہ پچھلے سال کے مقابلے میں صحت کے بجٹ میں 55 ارب کا اضافہ کیا گیا ہے، صحت کارڈ پلس میں سرکاری ملازمین کیلئے بھی او پی ڈی کی سہولت ہو گی۔ وزیر خزانہ خیبرپختونخواہ کے مطابق گزشتہ سال 8 لاکھ افراد نے صحت کارڈ کے ذریعے علاج کرایا، اس سال صحت کارڈ کا بجٹ 25 ارب روپے رکھا گیا ہے اور جگر کی پیوندکاری سمیت مزید 5 بیماریوں کا علاج صحت کارڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ میں 10 ارب روپے مفت ادویات کی فراہم کیلئے بھی مختص کئے گئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے مالی سال 2022-23 کیلئے پیش کئے جانے والی بجٹ تقریر میں کہا ہے کہ صوبے کے مختلف اداروں، ڈیپارٹمنٹس کو ترقیاتی و جاری فنڈ کی مد میں خاطر خواہ رقوم مختص کی گئی ہیں۔پچھلے سال کی نسبت امسال بجٹ میں صحت، ابتدائی تعلیم، پولیس اور توانائی و برقیات کے بجٹ میں خاطرخواہ اضافہ کیا گیا ہے۔صحت کے بجٹ میں 55 ارب، ابتدائی و ثانوی تعلیم 47 ارب، پولیس 14 ارب اور توانائی و برقیات کے بجٹ میں گیارہ ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کیلئے 29 ارب سے زائد،محکمہ اوقاف کیلئے چار ارب، محکمہ شُماریات کیلئے سات کروڑ سے زائد جبکہ محکمہ مواصلات اور تعمیرات کیلئے 71 ارب 65 کروڑ سے زائد کی رقم مُختص کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں ابتدائی و ثانوی تعلیم کے منصوبوں اور انتظامی ڈھانچے کو مزید مظبوط بنانے کیلئے 227 ارب کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ صوبے میں توانائی کے منصوبوں اور جاری سکیموں کیلئے محکمہ برقیات و توانائی کیلئے 29 ارب، محکمہ ایکسائز کیلئے ایک ارب 60 کروڑ جبکہ محکمہ فنانس کیلئے 32 ارب روپے کی رقم مُختص کی گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کیلئے چھ ارب سے زائد کی رقم اور عمومی انتظامیہ کیلئے ساڑھے چھ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔تیمور جھگڑا نے کہا کہ صوبے میں صحت کی معیاری سہولیات کو عام آدمی تک پہنچانے کیلئے 205 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ اعلٰی تعلیم کیلئے 34 ارب روپے کی تخصیص کی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کیلئے 101 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ  ہاوسنگ کیلئے 82 کروڑ سے زائد کی رقم جبکہ محکمہ صنعت کیلئے  4 ارب 92 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کیلئے ایک ارب 80 کروڑ، محکمہ سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے تقریبا تین ارب روپے مختص جبکہ محکمہ آبپاشی کیلئے 25 ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔ محکمہ محنت و

 

افرادی قوت کے لئے ایک  ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ قانون و انصاف کیلئے14 ارب اور بلدیات کیلئے 22 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔محکمہ کان کنی و معدنیات کیلئے تقریبا ڈیڑھ ارب کیساتھ ساتھ محکمہ ترقی و منصوبہ سازی کیلئے 64 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ بہبود آبادی  کیلئے 3ارب روپے سے زائد کی رقم اور اسی طرح محکمہ آبنوشی کیلئے 23 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ بجٹ تقریر کے مطابق محکمہ بحالی و آبادکاری کیلئے 30 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔محکمہ ریونیو و سٹیٹ کیلئے 30 ارب، محکمہ سماجی بہبود کیلئے ساڑھے چھ ارب، محکمہ کھیل ثقافت و سیاحت کیلئے 22 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اسی طرح محکمہ پیشہ ورانہ تعلیم کیلئے تقریبا تین ارب، محکمہ نقل و حمل کیلئے 12  ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ زکوٰۃ و عُشر کیلئے 39 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

 

 

 


شیئر کریں: