Chitral Times

Sep 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبرپختونخوا بجٹ مالی سال 2022-23 کے اہم نکات

Posted on
شیئر کریں:

خیبرپختونخوا بجٹ مالی سال 2022-23 کے اہم نکات

خیبرپختونخوا کا 1 ہزار 332 ارب روپے کا بجٹ اسمبلی میں پیش، بندوبستی اضلاع کیلئے 1108 ارب جبکہ ضم اضلاع کیلئے 223 ارب بجٹ میں مختص،صوبے کا کل کرنٹ بجٹ 913 ارب روپے رکھا گیا ہے جس میں بندوبستی اضلاع کیلئے 789 جبکہ ضم اضلاع کیلئے 124 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، صوبے کا کل ترقیاتی بجٹ 418 ارب روپے پر محیط ہے جسمیں 319 بندوبستی اضلاع کیلئے جبکہ 99 ضم اضلاع کی ترقی کیلئے مختص ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 16 % پنشن میں 15 % اضافہ، کنٹریکٹ اساتذہ، ایڈہاک ڈاکٹرز سابقہ فاٹا کے 128 پروجیکٹس کے ملازمین سمیت 63 ہزار ملازمین مستقل: وزیر خزانہ کا اسمبلی میں بجٹ سپیچ کے دوران اظہار خیال

پشاور (چترال ٹایمز رپورٹ) خیبر پختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے پیر کو خیبرپختونخوا اسمبلی میں مالی سال 2022-23 کا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ تقریر کے مطابق  خیبرپختونخوا کے بجٹ کا حجم 1 ہزار 332 ارب روپے ہے۔ بجٹ میں بندوبستی اضلاع کیلئے 1108 ارب جبکہ ضم اضلاع کیلئے 223 ارب بجٹ میں مُختص کئے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ صوبے کا کل کرنٹ بجٹ 913 ارب روپے رکھا گیا ہے جس میں بندوبستی اضلاع کیلئے 789 جبکہ ضم اضلاع کیلئے 124 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ صوبے کا کل ترقیاتی بجٹ 418 ارب روپے پر محیط ہے جسمیں 319 بندوبستی اضلاع کیلئے جبکہ 99 ضم اضلاع کی ترقی کیلئے مختص ہے۔ تیمور جھگڑا نے اپنی تقریر میں کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 16 % جبکہ پنشن میں 15 % اضافہ کیا گیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار کنٹریکٹ اساتذہ، ایڈہاک ڈاکٹرز سابقہ فاٹا کے 128 پروجیکٹس کے ملازمین سمیت 63 ہزار ملازمین بجٹ میں مستقل کردئیے گئے ہیں۔ بجٹ تقریر کے مطابق صوبے کیلئے کل محصولات کا تخمینہ 1332 ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں وفاق سے ٹیکس کی مد میں 5 سو 70 ارب روپے ملیں گے جبکہ صوبے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں 68 ارب 60 کروڑ روپے ملیں گے۔

اسی طرح وفاق سے آئل اورگیس رائلٹی کی مد میں 31 ارب روپے ملیں گے جبکہ بجلی کے خالص منافع اور بقایاجات کی مد میں 61 ارب 90 کروڑ ملنے کی توقع ہے۔ صوبائی ٹیکسوں کی مد میں 85 ارب روپے وصول ہوں گے۔ 88 ارب روپے سے زائد کی غیرملکی امداد بھی بجٹ میں شامل ہیں ضم اضلاع کیلئے بیرونی ترقیاتی امداد میں 4 ارب سے زائد کی رقم کی آمد متوقع ہے۔ قبائلی اضلاع کے لیے 208 ارب روپے کی گرانٹس ملیں گی۔ دیگر محاصل کا تخمینہ 212 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ صوبائی اخراجات بارے وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں بتایا کہ تنخواہوں کی مد میں بندوبستی اور ضم اضلاع کیلئے 447 ارب 90 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جس میں بندوبستی اضلاع کیلئے 372 ارب روپے اور ضم اضلاع کیلئے تنخواہوں کی مد میں 75 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

 

پنشن کی مد میں ادائیگیوں کیلئے امسال بمشول ضم اضلاع 107 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ضلعی و ہنگامی اخراجات کیلئے تنخواہ کے علاوہ  247 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ضلعی و دیگر کرنٹ اخراجات کیلئے بھی 111 ار ب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے اپنی تقریر میں صوبائی ترقیاتی بجٹ بارے بتایا کہ خوددار پختونخوا کے ترقیاتی پروگرام کا حُجم 418 ارب روپے ہے جس میں بندوبستی اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 319 ارب روپے جبکہ ضم اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 99 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ صوبائی ترقیاتی پروگرام بشمول ضم اضلاع کے اے آئی پی کیلئے 275 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ سالانہ ضلعی ترقیاتی پروگرام یعنی ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کیلئے 41 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ بیرونی ترقیاتی امداد کی مد میں 93 ارب سے زائد کی رقم مختص جبکہ پی ایس ڈی پی منصوبوں کیلئے 8 ارب سے زائد کی رقم بھی مختص کی گئی ہے۔


شیئر کریں: