Chitral Times

Feb 28, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش میں غیرقانونی تارکین وطن کی اموات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، اقوام متحدہ

شیئر کریں:

 

بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش میں غیرقانونی تارکین وطن کی اموات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، اقوام متحدہ

جنیوا( چترال ٹایمز رپورٹ) اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے(یواین ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش میں غیرقانونی تارکین وطن اور مہاجرین کی ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔چینی خبر رساں ادارے نے یو این ایچ سی آر کی ترجمان شبیہ منٹو کے پریس بریفنگ کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ سال2021 میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 23ہزار300 غیرقانونی تارکین وطن اور مہاجرین نے بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس عبور کرنے کی کوشش کی جس کے دوران 3ہزار231افراد ہلاک اور لاپتہ ہوگئے تھے۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح بتدریج 2020 میں مجموعی طور پر 95ہزار800 غیرقانونی تارکین وطن میں ایک ہزار 881افراد ہلاک اور لاپتہ ہوگئے تھے، 2019میں ایک لاکھ 23ہزار700جن میں ایک ہزار 510ہلاک ہوئے، 2018 میں ایک لاکھ 41ہزار500 میں سے 2ہزار 277ہلاک اور لاپتہ ہوگئے تھے۔انہوں نے کہا کہاقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے تمام مہاجرین اور غیر قانونی تارکین وطن کو بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس عبور کرنے کی کوشش کے دوران درپیش خطرات سے مسلسل خبر دار کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ غیر قانونی تارکین وطن تشدد اور تنازعات کے واقعات سے تنگ آکر اپنے ملکوں سے بھاگ کر ان پر خطرراستوں کا انتخاب کرکے یورپ پہنچنے کی کوشش میں لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

 

تائیوان پر جنگ شروع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے: چین

بیجنگ(سی ایم لنکس)چین کے وزیر دفاع نے اپنے امریکی ہم منصب کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تائیوان نے آزادی کا اعلان کیا تو بیجنگ جنگ شروع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعے کو چین کے وزیر دفاع وی فینگ کی جانب سے یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انہوں نے سنگاپور میں سکیورٹی اجلاس ’شنگری لا ڈائیلاگ‘ کے موقعے پر امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن سے براہ راست ملاقات کی۔چینی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ’اگر کوئی تائیوان کو چین سے الگ کرنے کی جرات کرتا ہے تو چین کی فوج کسی بھی قیمت پر جنگ شروع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گی۔‘چین کی وزارت دفاع کے مطابق وزیر دفاع وی فینگ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بیجنگ ’تائیوان کی آزادی‘ کی سازش کو ناکام بنا دے گا۔بیجنگ جمہوری اور خودمختار تائیوان کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے اور اس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو طاقت کے استعمال سے ایک دن تائیوان پر قبضہ کر لے گا۔حالیہ مہینوں میں چین اور امریکہ کے درمیان تائیوان کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔امریکی وزیر دفاع نے لائیڈ آسٹن نے آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا اور تاائیوان کی موجودہ حیثیت میں یک طرفہ تبدیلیوں کی مخالفت کی۔امریکی محکمہ دفاع کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’چین تائیوان کے خلاف مزید عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات سے باز رہے۔‘تائیوان کے دفاعی زون میں چینی جنگی طیاروں کی دراندازی کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔گذشتہ ماہ جاپان کے دورے کے موقعے پر امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ ’اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو واشنگٹن تائیوان کی فوج کا دفاع کرے گا۔‘چین نے اس پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ’امریکہ آگ سے کھیل رہا ہے۔‘چین کی کونسل برائے تائیوان امور کے ترجمان ڑو فینگلین کہا تھا کہ ’امریکہ چین پر قابو پانے کے لیے تائیوان کارڈ کھیل رہا ہے، مگر وہ خود جل جائے گا۔‘

 

مغربی ممالک کا تیل و گیس کے لیے کئی سالوں تک روس پر انحصار رہے گا، صدر پوتن

ما سکو(چترال ٹایمز رپورٹ)روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ مغربی ممالک کا آئندہ کئی سالوں تک روسی توانائی کے ذرائع پر انحصار رہے گے، لہٰذا روسی کمپنیاں اپنے تیل کے کنوؤں کو کنکریٹ سے ڈھکنا نہ شروع کریں۔عرب نیوز کے مطابق صدر پوتن نے نوجوان کاروباری طبقے کے ایک گروپ سے گفتگو میں کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی مجموعی مقدار کم ہو رہی ہے جبکہ قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایسے میں کمپنیوں کا منافع بڑھ رہا ہے۔یورپی یونین 40 فیصد کے قریب گیس روس سے درآمد کر رہا ہے تاہم یورپی ممالک نے وعدہ کیا تھا کہ وہ سال 2022 کے آخر تک روسی تیل پر انحصار 90 فیصد تک کم کر دیں گے۔یورپی یونین نے روس سے گیس کی درآمد میں کمی لانے کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔امریکہ کی روس سے توانائی کی مصنوعات کی درآمدات پر پابندی اور تیل و گیس کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود روسی کمپنیوں کے منافع میں اضافہ ممکن ہے۔امریکی عہدیداروں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ توانائی کی مصنوعات پر روس کے منافع میں اضافہ ہوا ہے۔امریکی مشیر برائے انرجی سکیورٹی ایموس ہوشٹین سے سینیٹ کمیٹی کی سماعت کے دوران سوال ہوا کہ کیا جنگ کے بعد سے روس ایندھن سے زیادہ منافع کما رہا ہے، تو اس پر انہوں نے جواب دیا کہ وہ ’اس سے انکار نہیں کر سکتے۔‘علاوہ ازیں روسی بادشاہ پیٹر دا گریٹ کی 350 ویں سالگرہ کی ایک تقریب کے موقع پر صدر پوتن نے یوکرین جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عظیم بادشاہ نے سویڈن کے ساتھ جنگ لڑتے ہوئے اپنا علاقہ واپس لیا تھا اور ’یہ ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنا (علاقہ) واپس لیں اور اسے مضبوط کریں۔‘


شیئر کریں: