Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

 غذائی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

Posted on
شیئر کریں:


 غذائی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

غذائی تحفظ کو بہتر بنانے کے لئے موثر زرعی خوراک کی پالیسیاں اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا انتہائی ضروری اقدام تصور کیا جاتا ہے۔ بھوک اور غذائی قلت انسانیت کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔ ایک شخص کامحفوظ خوراک حاصل کرنا اس کا بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس صحت مند اور اپنی غذائی ضروریات اور ترجیحات کو پورا کرنے کے لئے محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک حاصل کرنے کا جسمانی، سماجی اور معاشی امکان ہو۔ فعال زندگی کے لئے غذائی تحفظ کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی فوری ضرورت ناگزیر رہتی ہے۔ کئی دہائیوں سے بھوک کے شکار لوگوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، 2015کے بعد اس میں مسلسل اضافہ ہوا، موجودہ اندازوں کے مطابق قریباََ 690ملین افراد بھوک کا شکار ہیں یا 8.9فیصد دنیا کی آباد ی۔ ایک اندازے کے مطابق ایک برس میں 10ملین افراد اور پانچ برسوں میں قریباََ 60ملین افراد غذائی قلت کا سامنا کرتے ہیں، 2030تک غذائی قلت پر قابوپانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا لیکن اس میں کامیابی کے امکانات نظر نہیں آتے بلکہ اب خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ 2030تک بھوکے افراد کی تعداد 840ملین سے تجاوز کر جائے گی۔ بالخصوص وبائی امراض کے بعد سے یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، ورلڈ فوڈ پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق 2020کے آخر تک 135ملین افراد شدید غذائی عدم تحفظ کے خطرے سے دوچار ہوئے۔
دنیا کے ایک چوتھائی سے زیادہ افراد فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں،

سب سے خطرناک خطوں میں غذائی قلت کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے، عالمی خوراک اور غذائی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے تاکہ820ملین لوگوں کو غذائی قلت کے بحران سے نکالا جاسکے، جو کہ2050میں دوبلین افراد تک پہنچ سکتی ہے، زرعی پیدا واری صلاحیتوں میں اضافہ اور غذائی قلت کے مسئلے کو کم کرنے کے لئے خوراک کی پیداوار کے پائدار نظام کو بنانا انتہائی ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ دنیا میں ہر 9میں ایک شخص غذائی قلت کا شکار ہے، دنیا میں غذائی قلت کی اکثریت ترقی پزیر ممالک میں رہتی ہے جہاں کی12.9فیصدآبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔ ایشیا دنیا کا وہ براعظم ہے جہاں سب سے زیادہ غذا کی کمی کا شکار افراد رہتے ہیں، ایک اندازے کے مطابق 281ملین افراد غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ہر سال 3.1ملین سے کم عمر بچوں کی قریباََ نصف (45فیصد) اموات غذائی قلت کے باعث ہوئی، دنیا میں ہر چار میں سے ایک بچہ نشوونما میں کمی کا شکار ہے، ترقی پزیر ممالک میں یہ تناسب تین میں سے ایک تک ہوسکتا ہے، ترقی پذیر ممالک میں پرائمری سکول کی عمر کے66ملین بچے کلاس میں بھوکے رہتے ہیں۔ صرف افریقہ میں یہ تعداد23ملین بتائی جاتی ہے۔ یونیسیف نے کہا ہے کہ بچوں کو جو طبی لحاظ سے ضروری تیار غذا مہیا کی جاتی ہے اس کے اجزاء کی قیمتیں خوراک کے اس عالمی بحران کی وجہ سے ایک دم بڑھ گئی ہیں۔ بچوں کے عالمی ادرے کا مزید کہنا ہے کہ آئندہ چھ ماہ میں 600,000 بچے مونگ پھلی، تیل، شکر اور دیگر ضروری غذائی اجزاء کی عدم فراہمی کے باعث علاج کی کئی سہولتوں سے محروم رہ سکتے ہیں۔

دنیا کا سب سے بڑا روزگار فراہم کرنے والا  شعبہ زراعت ہے، یہ موجودہ دنیا کا40فیصد آبادی کا ذریعہ معاش ہے اور غریب دیہی گھرانوں کی آمدنی اور روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے۔ 500ملین چھوٹے فارم ترقی پذیر ممالک میں استعمال ہونے والی خواراک کا 80 فیصد فراہم کرتے ہیں۔ سرمایہ کاری غریب ترین لوگوں کی غذائی تحفظ اور غذائیت کو بہتر بنانے اور مقامی و عالمی منڈیوں کے لئے خوراک کی پیداوار بڑھانے کا ایک اہم طریقہ ہے۔ 1900کی دہائی سے قریباََ 75فیصد فصلی تنوع کسانوں کے کھیت سے غائب ہوگیا ہے، زرعی حیاتیاتی تنوع کا بہتر استعمال، زیادہ غذائیت سے بھرپور خوراک، کاشت کاروں کے لئے بہتر معاشی نظام کواز سرنو تشکیل دینے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ اگر دیہی خواتین کو زمین، ٹیکنالوجی، معاشی خدمات، تعلیم اور بازاروں تک مردوں کی طرح سائی دی جائے تو بھوک کے شکار لوگوں کی تعداد150 ملین سے کم ہو کر100ملین ہوسکتی ہے۔ اسی طرح 1.4بلین لوگ اب بھی بجلی تک رسائی نہیں رکھتے، اب میں زیادہ تر ترقی پزیر ممالک کے دیہی علاقوں میں رہتے ہیں، بہت سے خطوں میں توانائی کے ذرائع کی کمی کی وجہ سے غربت میں اضافہ اور خوراک کی کمی کے مسا ئل ہیں، جنہیں مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے درکار خوراک پیدا کرنے میں ایک بنیادی رکاؤٹ تصور کیا جاتا ہے۔

اگر غذائی تحفظ کو حاصل کرنا ہے تو غریبو ں کی قوت خرید کو بڑھانا اور ترقیاتی مسائل کو حل کرنا ضروری ہے لیکن یہ بھی لازم ہے کہ جہاں درکار ہو اس بات کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں کہ آمدنی میں اضافہ ہی غذائیت کو بہتر بنانے کے لئے معاون ثابت ہوسکتا ہے، جس کا واضح مطلب خاص طور پر صحت، تعلیم اور غذائی کمی کو دور کرنے کے لئے حوصلہ افزائی، حکومتی اور این جی اوز کی سطح پر ضروری تصور کی جاتی ہے۔ حکومت اور غیرسرکاری حلقوں کی جانب سے زرعی پالیسیوں میں خوراک کی پیداوار بڑھانے اور خوراک کی حفاظت کو بہتر بنانے کے لئے ترجیحات اپنانے کی ضرورت ہے، زرعی منڈیوں میں حکومتی مداخلت (سبسڈی یا برآمدی پابندیوں کی شکل میں) اکثر اہم اشیائے خوردنوش کی قیمتوں میں اضافے کا موجب بن جاتی ہے، جس سے غریب گھرانوں کو خوراک کی مناسب فراہمی میں نقصان پہنچتا ہے، اس کے علاوہ ایسے کسان بھی پائے جاتے ہیں جو ان کے خالص صارفین ہیں، اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام ہونے کے علاوہ امدادی اقدامات سے عوامی وسائل کو دوسری کوششوں سے  حل کیا جاسکتا ہیجو درحقیقت فوڈ سیکورٹی کو بہتر بنانے میں مدد کرسکتے ہیں۔ دیہی انفراسٹرکچر اور اسٹوریج کی سہولیات کی تعمیر، تربیتی سرگرمیاں اور زرعی مشاورتی خدمات میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے آگاہی فراہم کرنا ضروری خیال کیا جاتا ہے کیونکہ اس پر عمل کرنے سے خوراک کی پیدوار میں اضافے اور دستیابی کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے، زرعی شعبے میں لچک پیدا کرنے اور رسک منجمنٹ کے قابل مضبوط اور موثر نظام کا ہونا بھی ضروری خیال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ قومی اور عالمی سطح پر غذائی تحفظ کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلوں سے بھی غذائی پیدوار بری طرح متاثر ہو رہی ہے بلخصوص گندم کی فصل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

دنیا بھر میں گندم کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے اور ان حالات میں گندم پیدا کرنے والے ممالک کو بھی غذائی قلت کا سامنا ہے۔ غذائی قلت سے نہ صرف قیمتیں بڑھ رہی ہیں بلکہ بھوک کا شکار ہونے والے لوگوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے، اگر اس کا جلد متبادل تلاش نہیں کیا جاتا تو اس کے بعد کھانے کی مقدار جہاں کم ہوگی وہاں فاقہ کش افراد کی تعداد لاکھوں میں بڑھتی چلی جائے گی۔ ترقی پزیر ممالک کے لئے اناج پرا نحصار کا مطلب درآمدات پر انحصا ر کرنا ہے، جس کے واضح معنی معاشی طور پر استحکام کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ اس کی ادائیگیاں بھی کی جاسکیں، اس وقت گندم برآمد کرنے والے بعض ممالک نے قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اناج کی بیرون ملک فروخت پر پابندی بھی عائد کی ہوئی ہیں تو دوسری جانب روس۔یوکرین جنگ کی وجہ سے دنیا کو بڑھتی قیمتوں کے ساتھ بدترین غذائی بحران کا سامنا بھی ہے۔ کیونکہ خطے میں بڑے زرعی برآمد کنندہ ممالک ہیں، لیکن سپلائی کی محفوظ فراہمی میں دشواریوں سے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے حکومت مستقل پالیسیوں پربھی مکمل توجہ نہیں دے پاتی۔ایک اندازے کے مطابق دنیا کے50فیصد اناج کا ذخیرہ صرف چین میں ہے اور دوسرا بڑا زرعی ملک بھارت ہے۔ دیگر حکومت کو موثر حکمت عملی کے لئے سوچ بچار کرنا ہوگی کہ غذائی قلت کے بحران کو کس طرح مساوی بنیادوں پر حل کیا جاسکتا ہے۔


شیئر کریں: