Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مقامی ادب کے گوہرگراں مایہ ۔ محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

مقامی ادب کے گوہرگراں مایہ ۔ محمد شریف شکیب

موجودہ ملکی حالات کو دیکھ کر کہوار زبان کے نامور شاعر، موسیقار اور صداکار بلبل چترال امیرگل امیر کے کلام کا ایک قطعہ یاد آتا ہے۔”دوش پھک جم اوشوئی، ہنونو سار پنگاچھوئی پھک خور، دنیو مثال ازیزانہ نیگیرو شوغور،، فلک کوسوم وفا کوری شیر،وا کوسوم بہچور“بلبل چترال کہتے ہیں کہ گذرا ہوا کل آج کے دن سے بہتر تھا اور آج کا دن آنے والے کل سے بہتر ہوگا۔ اس جہاں فانی کی مثال اس مخصوص چھلنی سے چھانی ہوئی ریت جیسی ہے جس میں سے سونے کے ذرات الگ کئے جاتے ہیں۔دنیا نے آج تک کسی سے وفا نہیں کی اور نہ ہی آئندہ کسی کو اس سے وفا کی آس لگانی چاہئے۔

 

قارئین کرام امیرگل امیر کے ان الفاظ سے ان کے خیالات کی بلندی اور گہرائی کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ادب میں ان کے رتبے اور مقام کا اندازہ ان کے کلام سے چند منتخب اشعار سے لگایاجاسکتا ہے۔کہتے ہیں ”خوشی دی عبث،اللہ کہ نودیاک بیرائی رویان۔ نصیب، روزی، اجل ازالہ شک بیرائی رویان، تن خوش رویوتے، گلہ بہچاک بیرائی رویان“ یعنی کسی سے محبت ہونا اس کے وصل کی ضمانت نہیں جب تک خدااس محبت کی کشتی کو پار لگاناچاہے۔انسان اپنی قابلیت سے کچھ نہیں کرسکتا، نصیب، رزق اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہیں تاہم جن سے آپ کو محبت کا جواب محبت سے نہ ملے ان سے گلہ تو ہمیشہ رہتا ہے۔ایک اور موقع پر امیرگل کہتے ہیں کہ ”کیڑیمان چھوئی انوس تہ جداگیو وسوسہ، صفت تہ تھانو کومان تن ہردیو دلاسہ“ یعنی تیری جدائی نے مجھے یہ روگ لگادیا کہ دن رات میری آنکھوں سے آنسو رواں رہتے ہیں

 

۔تیرے سراپے کی تعریفیں کرکے اپنے دل کو دلاسہ دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ایک اور جگہ یوں گویاہوتے ہیں ”ہاوو رخ اوچے انگارو خوو، معشوقو طبیعتو کیہ قرارا۔ دریاہ چوچھو بونی زوم نیشپوڑینی، تہ عشق ہردیار نو بیر پائیدارہ“یعنی ہوا کے رخ، آگ کے شعلوں کی خو او ر معشوق کے مزاج کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ یہ تینوں کسی بھی وقت اپنا رخ تبدیل کرسکتے ہیں لیکن دریا بھی خشک ہوجائیں، پہاڑ بھی روئی کے گالے بن جائیں یعنی قیامت برپا ہوجائے،تب بھی تیرا عشق اتنا پائیدار ہے کہ میرے دل سے نہیں اتر سکتا۔عشق کو جان کاروگ گردانتے ہوئے امیرگل کہتے ہیں کہ ”ای موش اریر مجنونو سار سوال، لیلو جداگیا تہ کیہ حال، مو وصلوچے فراقو کیچہ خال، موغار خلاص عقل کویا کہ مال، مجنون ریتائی خدائی لایزال“یعنی ایک شخص نے مجنون سے سوال کیا کہ لیلیٰ سے جدائی میں تجھ پر کیابیت رہی ہے۔

 

محبوب کے ساتھ میلاپ اور پھر جدائی کے جذبات کیسے ہوتے ہیں۔مرض عشق سے مال و دولت خرچ کرکے جان چھڑائی جاسکتی ہے یا عقل کے پاس اس کا کوئی حل ہے؟مجنون نے جواب دیا کہ اس کا حل صرف خالق لایزال کے پاس ہے۔امیرگل نے اردو اور فارسی میں بھی طبع آزمائی کی ان کی ایک غزل سے احمد ندیم قاسمی اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے امیرگل کو ادب کا قومی ایوارڈ دینے کی سفارش کی۔اس غزل میں امیرگل کہتے ہیں۔ہے دامن گل چاک کھڑا لالہ زار میں۔بلبل پہ بجلیاں نہ گراؤ بہار میں۔ میری نظر میں تخت سلیمان بھی ہیچ ہے۔ منظور ہے دریوزہ گری کوئے یار میں۔

 

ہے غوطہ زن سمندر الفت میں صد ہزار، سب بے قرار ہیں تو میں ہوں کس شمار میں۔دور افتادہ پہاڑوں کے دامن میں بسنے والے کہوار زبان کے اس شاعر کے کلام کا اردو، فارسی، عربی اور انگریزی کے کسی بھی بڑے شاعر کے کلام سے موازنہ کیاجاسکتا ہے ان کے خیالات کی گہرائی ورڈز ورتھ، شکسپئر،جان کیٹس، مومن، داغ، غالب، جالب اور فرازسے بڑھ کر نہیں تو ان سے کم بھی نہیں، پشتو، ہندکو،سرائیکی اور گوجری ہر زبان میں ایسے نابغہ روزگار اور ادب کے خزانے موجود ہیں لیکن ہمیں ہمیشہ دور کے ڈھول ہی سہانے نظر آتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی ادب کے ان شہسواروں کے افکار اور شاہکاروں کو منظر عام پر لایاجائے، انہیں نصاب میں شامل کیاجائے تاکہ آئندہ نسل بھی ان سے متعارف ہو۔ ان کی تخلیقات کی مختلف زبانوں میں ترجمے کرنا بھی ادبی انجمنوں کی ذمہ داری بنتی ہے تاکہ ان شاہکاروں کو محفوظ کیاجاسکے۔


شیئر کریں: