Chitral Times

Oct 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعظم کی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصداضافہ اورایڈہاک ریلیف ضم کرنیکی ہدایت،مریم اورنگزیب

شیئر کریں:

وزیراعظم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصداضافہ اورایڈہاک ریلیف ضم کرنیکی ہدایت کی ہے،مریم اورنگزیب

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ )وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پچھلے چار سال ملک پر ایسا ٹولہ مسلط رہا جس نے سرکاری ملازمین اور عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیسا، وزیراعظم نے سرکاری ملازمین کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ان کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ اور ایڈہاک ریلیف ضم کرنے کی ہدایت کی ہے، آج بجٹ میں پنشنرز کے لئے بھی بڑا اعلان سننے کو ملے گا، مشکل حالات میں ایسا بجٹ پیش کر رہے ہیں جس سے ملک میں صنعت، کاروبار اور تجارت کو فروغ ملے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں احتجاج کرنے والے سیکریٹریٹ ملازمین سے ملاقات کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج اتحادی حکومت برسراقتدار ہے جس میں تمام جماعتیں غریب عوام اور متوسط طبقہ کی فلاح کا سوچ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں ایسا بجٹ پیش کر رہے ہیں جو غریب اور متوسط طبقے کے لئے ریلیف کا باعث بنے گا۔ بجٹ سے ملک کے اندر صنعت، کاروبار، تجارت اور زراعت کو فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی تھی جسے وزیراعظم نے مسترد کر دیا اور کابینہ کی منظوری سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم غریب عوام اور سرکاری ملازمین کو ریلیف فراہم کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے باوجود آج حکومت اور وزیراعظم غریب عوام کا سوچ رہے ہیں، آج پارلیمان میں جو بجٹ پیش کیا جا رہا ہے وہ غریب دوست بجٹ ہے، ملک میں نظر آئے گا کہ معاشی استحکام کس طرح پیدا کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2018ء میں جو معیشت عمران خان کو ملی تھی، اس نے اسے معاشی بدحالی میں بدلا، حکومت نے مشکل معاشی حالات کے باوجود عمران خان کی دی گئی مہنگائی اور بے روزگاری سے غریب عوام کو بچانا ہے۔یہ بجٹ ملک کو معاشی استحکام کی طرف لے جائے گا، غریب آدمی کو ریلیف ملے گا، صنعت، کاروبار اور تجارت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں زراعت، آئی ٹی، صنعت، فوڈ سکیورٹی اور نوجوانوں کے لئے تاریخی اعلانات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ وقت ختم ہو گیا جب سرکاری ملازمین سڑکوں پر ہوں اور وزیراعظم سکون کی نیند سو رہا ہو۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی نالائقی، نااہلی، چوری اور کرپشن کی وجہ سے آج ملک مشکل صورتحال سے گذر رہا ہے، ملک کو اس صورتحال سے نکالنے کے لئے عوام اور کاروباری حلقوں کو حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سرکاری ملازمین ثابت قدم رہیں، حکومت صرف اور صرف ان کی فلاح کا سوچ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج وزیراعظم سرکاری ملازمین کے ساتھ اس دکھ اور تکلیف میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف ملک میں معاشی استحکام کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اس موقع پر سیکریٹریٹ ملازمین نے موجودہ حکومت، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر اطلاعات کے حق میں نعرے لگائے اور تنخواہوں میں اضافے پر شکریہ ادا کیا۔

 

 

وفاقی بجٹ؛ سرکاری ملازمین کا علی الصبح پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج

اسلام آباد(سی ایم لنکس) وفاقی بجٹ میں اپنے مطالبات منظور کروانے کے لیے سرکاری ملازمین کا پارلیمنٹ ہاؤس تک احتجاج، وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی۔ مالی سال 2022-23 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہوں میں اضافے سمیت دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے سرکاری ملازمین نے احتجاجی مارچ کی کال دے رکھی تھی اور اس سلسلے میں ملک بھر کے سرکاری ملازمین کو آج وفاقی دارالحکومت پہنچنے کی کال دی گئی تھی۔مارچ کے سلسلے میں سرکاری ملازمین نے علی الصبح وزارت خزانہ سے پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کیا، جس کی وجہ سے انتظامیہ کو شاہراہ دستور کا ایک حصہ ٹریفک کے لیے بند کرنا پڑا۔ اس موقع پراسلام آباد پولیس کی جانب سے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش بھی کی گئی جب کہ سکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کو تعینات کردیا گیا ہے۔اس سے قبل سرکاری ملازمین نے مارچ کے تناظر میں رات وزارت خزانہ کے سامنے گزاری تاکہ صبح احتجاج کے لیے کسی رکاوٹ کا سامنا کرنا نہ پڑے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جاری احتجاج کے باعث مرکزی آہنی گیٹ بند کرکے ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے جب کہ اطراف میں رینجرز بھی بڑی تعداد میں گشت کررہی ہے۔

 

“ملک چھوڑ کر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا”سابق چیئرمین واپڈا

اسلام آباد(سی ایم لنکس)واپڈا کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل نے ملک میں رہ کر خود پر دائر مقدمے کے بھرپور دفاع کا اعلان کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے کہا کہ انٹرنیشنل کمیشن آن لارج ڈیمز نے اجلاس میں مدعو کیا ہے، آئی کولڈ میں شرکت کو وطن سیفرار کہنا گمراہ کن کوشش ہے، وطن چھوڑ کر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ملک میں موجود ہوں اور ہر الزام کا قانونی انداز میں جواب دوں گا۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل نے کہا کہ وطن عزیز کو بڑے آبی ذخائر درکار ہیں، معیشت شفاف اور سستی توانائی سے جڑی ہے، زرعی شعبیکی افزائش، قومی ضرورت کیلئے پانی کے ذخائر ناگزیر ہیں جبکہ ہمسایہ ملک میں آبی ذخائر کیلئے تعمیرات آبی جارحیت کا اشارہ ہے۔مزمل حسین کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ساٹھ کی دہائی کیبعد سے آبی ذخائر کی تعمیرپر خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہوئی، عمران خان حکومت نیآبی ذخائر کی دہائی کا منصوبہ متعارف کرایا، منصوبے کیتحت دس آبی ذخائر کی تعمیر کیلئے غیر معمولی تیزی آئی اور حکومت پاکستان کے آبی ذخائر کی دہائی منصوبے کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں سابق چیئرمین واپڈا کا کہنا تھا کہ تربیلا فور کی کامیابی پر ورلڈ بینک ہمیں تربیلا فائیو کیلئے تعاون کرنے جارہاہے یہ دنیا کی تاریخ کا واحد پراجیکٹ ہے جو وقت پر اور کم لاگت سے مکمل ہوا، تاریخی منصوبے پر ایسا پروپیگنڈا نہ کریں جس سے ملک کی ترقی متاثر ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سیاپمی ترقی کی راہ میں ہم خود سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، یہاں جھوٹ اور سچ میں فرق ختم ہوگیا ہے، تمام لوگوں سے کہتا ہوں کہ تربیلا فور جسیے تاریخی منصوبے پر پروپیگنڈا نہ کریں جس سے ملک کی ترقی متاثر ہو۔نیب کی جانب سے ان پر مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے تربیلا فور پراجیکٹ میں 753 ملین ڈالرز کی مبینہ کرپشن کی، چیئرمین واپڈا نے زبردستی کنٹریکٹرز کو غلط ادائیگیاں کروائیں۔نیب نوٹس کے مطابق 1410 میگا واٹ پراجیکٹ کی فی یونٹ تعمیر سب سیمہنگی ہوئی۔واضح رہیکہ چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے گزشتہ ماہ عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔یاد رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کو سابق وزیراعظم نواز شریف نے اگست 2016 میں چیئرمین واپڈا تعینات کیا تھا اور بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ان کی مدمت ملازمت میں توسیع کر دی تھی۔


شیئر کریں: