Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایسا چترال والوں کے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے؟۔۔احتشام الرحمن چترال 

شیئر کریں:

ایسا چترال والوں کے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے؟۔۔احتشام الرحمن چترال

اکثر دیکھا گیا ہے کہ چترال کے لوگ شرافت اور کھٶ روایات کے نام پر اپنے جائز حقوق سے دستبردار ہونے میں ذرا بھی دریغ نہیں کرتے ہیں. اس کی ماضی میں بھی کئی مثالیں موجود ہیں (حکومت کے پاس بندوقیں جمع کرانا, لینڈ سیٹیلمنٹ, وغیرہ) اور آج بھی ہم اسی چَکی میں پِس رہے ہیں.
بونی میں حالیہ واقعہ جس میں ایک آفیسر  نے اپنے سپاہی کی نہ صرف تذلیل کی بلکہ اس پر فخر کرتا ہوا بھی نظر آیا جبکہ سپاہی انصاف کی بھیک مانگتے دکھائی دیا. اگر یہ کام دیر یا سوات میں کسی اے اے سی (نوٹ: یہ فل اسسٹنٹ کمشنر بھی نہیں بلکہ ایک ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر جنہیں ماضی میں سیکشن آفیسر کہا جاتا تھا) نے کیا ہوتا تو وہاں اس کی کیا حالت ہوتی اس کا اندازہ لگانا کسی عام چترالی کے لئے ممکن بھی نہیں ہے.
 ایک دوست نے ایک ویڈیو بھیجی جس میں اناونسر یہ اعلان کر رہا ہے کہ پولو گراونڈ چترال میں چترال کے لوگ اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے گراونڈ کی صفائی کر رہے ہیں. میں بھی خوش ہو کر ویڈیو دیکھنے لگا. حیران بھی تھا کہ چترالی (سوائے جعفر دوست صاحب کے جو کہ ماحول دوست انسان ہیں) اتنے باشعور کب سے ہو گئے ہیں کیونکہ سیوریج پائپوں کو تازہ پانی کے نالوں میں پھینکنے کی وجہ سے جو حالت چترال ٹاون کے گرد و نواح کی ہوئی ہے وہ کسی گندی سے گندی جگہ کی بھی نہیں ہو سکتی ہے. ویڈیو دیکھی تو مجھے ہنسی بھی آئی اور افسوس بھی ہوا کیونکہ وہ صفائی کسی کچرے یا پلاسٹک ریپرز کی نہیں بلکہ حالیہ بنے ہوئے پولو گراونڈ چترال کی کارپیٹڈ مٹی میں سے پتھروں کو نکال کر ڈمپر میں ڈال کر ہو رہی ہے.
تیسری ایک خبر جو مجھے ایک میسیج کی صورت میں موصول ہوئی وہ یہ تھی کہ چترال میں 4 گھنٹے لوڈشیڈنگ کے خلاف ایک تحریر میں کمانڈانڈ چترال سکاوٹس سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ اس لوڈ شیڈنگ کے خلاف وہ کاروائی کر کے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کریں. ایسی درخواست کی جا رہی ہے جیسے وہ سکاوٹس کے سپہ سالار نہیں بلکہ واپڈا کے چیرمین یا پیسکوکے ہیڈ ہیں.
ان تین واقعات کا اگر جائزہ لیا جائے تو یوں لگتا ہے کہ ہم یا تو انتہائی شریف اور سادہ لوح لوگ ہیں یا پھر غلام یا پھر ابھی تک ہم میں عقل ہی نہیں آئی ہے.
پہلے واقعے کا جائزہ لیں تو ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ اپر چترال میں اے سی کو بگوان کا درجہ دیا جاتا ہے. سابقہ ڈپٹی کمشنر اپر چترال جب کوشٹ کے دورے پر آیا تو اس سے یہ گزارش کی گئی کہ آپ ہماری سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کریں. اس نے کئی ایک اعلانات کئے. وہ بھی عجیب انسان تھا. ایک محفل میں یہ تک وعدہ کر بیٹھا کہ کوشٹ میں پولو کا زبردست ٹیلنٹ ہے اس لئے وہ سرکاری خزانے سے نوجوانوں کو دس گھوڑے خرید کر دے گا. اس پر کوشت کے کچھ پڑھے لکھے لال لوگ اس کے گرویدہ ہو گئے اور اس کو ایک نیک دل اور عوامی لیڈر کا درجہ بھی دے بیٹھے. کہنے کا مقصد یہ ہے کہ لیویز کے سپاہی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں اس اے اے سی کا اتنا قصور نہیں جتنا عوام کا ہے. وہ عوام کی ذہنیت دیکھ کر ہی وار کرتے ہیں.
دوسرے واقعے کو دیکھ کر مجھے افسوس بھی ہوا اور دکھ بھی کیونکہ اس ویڈیو میں میرے دل کے قریب, میرے انتہائی قابل قدر اور واجب احترام معیز الدین بہرام بھائی بھی تھے. اس احترام اور محبت کی وجہ آپ کی شاعری, ادب سے محبت اور دوستی اور چترالی روایات کا امین ہونا ہے. ان کے ساتھ اس صفائی مہم میں ایک اور معزز شخصیت جناب سکندر الملک صاحب بھی موجود تھے. بحیثیت ذمہ دار پولو ایسوسیشن چترال,  یہ دونوں محترم شخصیات پولو گراونڈ چترال کی تعمیر نو کو شروع سے مانیٹیر کرتے آرہے ہیں. معیز الدین بہرام صاحب کی ان تھک محنت اور کوششوں کا میں خود چشم دید گواہ ہوں. عدنان اور معیز اکثر دفتروں کے چکر کاٹتے اور کام کو وقت پر مکمل کرانے کے لئے کوشش کرتے ہوئے نظر آتے. لیکن ان کی شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹھیکدار نے جو کام کیا ہے وہ نہ صرف ناقص ہے بلکہ اس میں زبردست کرپشن بھی ہوئی ہے. بجائے اس ٹھیکیدار اور اس کے حواری آفیسرز کو اس جگہ لا کر ان سے یہ پتھر صاف کرائے جاتے,ادھر عوام ہی چترالی اور کھوو روایات کے نام پر ٹھیک میچ کے دوران پتھروں کی صفائی کر رہی ہے.
تیسرے واقعے کو دیکھ کر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ چترالی قوم کی ذہنی سطح اور نا پختگی کس لیول پر ہے. بجلی کی لوڈشیڈنگ سے کمانڈنٹ چترال سکاوٹس کا کیا تعلق! یا تو عوام بے وقوف ہے یا پھر ان کو عوامی نمائندوں پر کوئی اعتبار نہیں یا پھر عوامی نمائندے ہی نا اہل ہیں.
ان تینوں واقعات کو دیکھ کر ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ افسر شاہی کے لئے چترال سب سے موزوں جگہ ہے. ایک آفیسر چترال آکر ہی اپنی افسر شاہی چمکا سکتا ہے. ورنہ پشاور یا اس کے ملحقہ دیہات میں ایک اے سی یا ڈی سی کو پوچھتا ہی کون ہے! (اس پر تفصیلی بات پھر کبھی ہوگی)
دوسری بات یہ واضح ہو جاتی ہے کہ چترالی عوام کی اکثریت اب بھی ریاست چترال کے دور میں زندگی بسر کر رہی ہے. جس طرح ایک عام پاکستانی انگریزوں کی غلامی سے نہیں نکل پایا ہے وہی حالت ایک عام چترالی کی بھی ہے.
تیسری اور اہم بات یہ کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے چترال میں پرائمری سکول کی سطح پر ایک الگ کورس متعارف کرانے کی اشد ضرورت ہے. اس کورس میں ان کو یہ سکھایا جائے کہ ان کے حقوق کیا ہیں؟ افسروں کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ حق کے لئے آواز کیسے اٹھانی ہے؟ کھٶ روایات کے نام پر اپنے جائز حقوق سے دستبرداری شرافت نہیں بلکہ ڈرپوک ہونے کی علامت ہے. حق حاصل کرنا اور نا حق کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونا ہی بہادری کی علامت ہے.

شیئر کریں: