Chitral Times

Feb 27, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال معدنی وسائل اور قدرتی حسن سے مالامال۔ تحریر عبدالباقی چترالی

Posted on
شیئر کریں:

.ہندوکش کے دامن سے چروائے کی صدا – چترال معدنی وسائل اور قدرتی حسن سے مالامال ۔ تحریر عبدالباقی چترالی

اللّٰہ تعالیٰ چترال کو بےشمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ان میں سے چند اہم قدرتی وسائل پانی، سیاحت اور معدنیات یہ تینوں قدرتی وسائل کسی بھی ملک اور علاقے کی ترقی میں اہم کردار اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ چترال میں یہ تینوں وسائل وافر مقدار میں ہونے کے باوجود چترال خیبر پختونخوا کے پسماندہ ضلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ حکومت کی عدم توجہی اور عوامی نمائندوں کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے گزشتہ چوہتر (74)  سالوں میں ان قیمتی قدرتی وسائل کو استعمال میں نہیں لایا گیا ۔چترال میں دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کے فراوانی کے باوجود حکومت چترال میں سوائے گولین گول پاور پراجیکٹ کے اور کوئی بڑے بجلی گھر تعمیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ۔چترال کے بیشتر علاقے اب بھی بجلی کے نعمت سے محروم اور تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔چترال میں ایسے بےشمار مقامات موجود ہیں ۔جہان بجلی گھر تعمیر کر کے نہ صرف مقامی آبادی کی بجلی کی ضرورت کو پوری کی جاسکتی ہے ۔بلکہ پورے ملک کو بجلی فراہم کی جا سکتی ہے لیکن حکمرانوں کے عدم دلچسپی اور چترال کے عوامی نمائندوں کی بے توجہی کی وجہ سے چوہتر سالوں میں ان قیمتی آبی وسائل سے استفادہ نہیں کیا گیا ۔
سابقہ فوجی صدر پرویز مشرف کے حکومت میں گولین گول بجلی گھر پر کام کا آغاز ہوا ۔اور دو ہزار اٹھارہ کے اختتام پر بجلی گھر پایا تکمیل کو پہنچا ۔گولین گول بجلی گھر سے پیدا ہونے والا بجلی زیادہ تر ضلع سے باہر علاقوں کو دیا جاتا ہے ۔اور لوئیر چترال کو قلیل مقدار میں بجلی فراہم کی جاتی ہے ۔جو کہ لوئیر چترال کی بجلی کی ضرورت کو پوری کرنے کے لئے ناکافی ہے ۔جبکہ اپر چترال کے عوام کو ٹی بی کی دوائی کی طرح صبح وشام بجلی فراہم کی جاتی ہے ۔باقی دونوں میں بجلی غائب رہتی ہے ۔اگرچہ اپر چترال میں ریشن کے مقام پر چھوٹے پن بجلی گھر موجود ہے مگر اس کے پیداواری صلاحیت کم ہونے کی وجہ سے اپر چترال کے عوام کو مناسب مقدار میں بجلی دستیاب نہیں ہوتا ۔ریشن پاؤر ہاؤس سے گرمیوں کے موسم میں صرف چار میگاواٹ بجلی پیدا ہوتا ہے ۔جبکہ اپر چترال کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سات میگاواٹ واٹ بجلی درکار ہے ۔تین میگاواٹ واٹ کی شرٹ فال کی وجہ سے اپر چترال کے عوام کو طویل اور بدترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
چترال میں ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے مواقع موجود ہیں ۔اے این پی کے دورے حکومت میں کئی مقامات پر بجلی گھروں کی سروے کی گئی تھی ۔اور سابقہ وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان نے ڑاوی بجلی گھر کے سنگ بنیاد کا افتتاح کیا تھا ۔ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود فنڈ کی کمی کی وجہ سے ڑاوی بجلی گھر میں کام سست رفتاری سے جاری ہے ۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اپنے نو سالہ اقتدار کے دوران بجلی گھروں کے سروے شدہ منصوبوں پر عمل درآمد کرنے میں کامیاب نہیں ہوا ۔اگر چترال کے عوامی نمائندے صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کے توجہ ان آبی وسائل کی طرف مبذول کرانے میں کامیاب ہوئے تو اسے چترال کی پسماندگی دور کرنے میں مدد ملے گی ۔اور پورے ملک کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات مل جائے گا ۔غربت اور بےروزگاری میں کمی آئے گی اور لوگوں کے معاشی حالت بہتر ہونگے اور ملک ترقی کرے گا ۔
چترال کی ترقی کا دوسرا اہم شعبہ سیاحت کا ہے۔چترال قدرتی حسن سے مالامال ہے ۔یہان بلند وبالا برف پوش پہاڑ ،گلئیشیر،جنگلات ،دریا ،ندی نالے سرسبز شاداب وادیاں ،قدرتی جڑی بوٹیاں اور اعلی نسل کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں ۔اس کے علاؤہ دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور اور ہندوکش کا بلند ترین چوٹی تریچ میر بھی چترال میں واقع ہے ۔چترال قدرتی طور پر سیاحوں کے لئے پر کشش جگہ ہے۔ وادی بمبوریت چترال کا مشہور سیاحتی مقام ہے ۔جہان کیلاش قبیلے کے لوگ صدیوں سے آباد ہیں ۔ان کے منفرد رسم و رواج ، ثقافت اور مذہبی تہوار دنیا بھر میں مشہور ہیں ۔ان دلکش سرسبز شاداب سیاحتی مقامات کے نظارے کرنے کے لئے ملکی اور غیر ملکی سیاح ان خوبصورت وادیوں کا رخ کرتے ہیں ۔لیکن ان وادیوں میں بنیادی سہولتوں کی فقدان کی وجہ سے ایک بار یہاں آنے والے سیاح دوبارہ آنے کا نام نہیں لیتا ہے۔بمبوریت کے علاؤہ بھی چترال میں کئی دلکش سرسبز وادیاں موجود ہیں ۔جو ذرائع آمدورفت اور دیگر سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے پسماندہ گی کا شکار ہیں ۔چترال کا سابقہ ایم این اے شہزادہ محی الدیں مرحوم کئی سال وزیر سیاحت رہنے کے باوجود چترال میں سیاحت کے شعبے کو ترقی دینے میں کامیاب نہیں ہوئے
موجودہ صوبائی حکومت سیاحت کے شعبے کو ترقی دینے کی زبانی جمع خرچ تو بہت کر رہی ہے ۔لیکن اپنے نو سالہ دورے حکومت میں چترال میں سیاحت کے شعبے کو ترقی دینے کے لئے کوئی ٹھوس عملی اقدامات کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ۔
سیاحت کے شعبے کو ترقی دینے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے ۔غربت اور بےروزگاری میں کمی آئے گی ۔ان پسماندہ علاقے کے لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہو جائے گی ۔اور حکومت کے آمدنی میں بھی اضافے کا باعث بنے گا ۔ لہذا صوبائی حکومت اور ٹورازم کارپوریشن کو ان پسماندہ اور ترقی سے محروم سیاحتی مقامات کو ترقی دینے کے لئے کردار ادا کرنا چاہیے ۔
چترال کی ترقی کے لئے تیسرا اہم شعبہ معدنیات کا ہے ۔چترال کے پہاڑوں میں وافر مقدار میں قیمتی معدنی ذخائر موجود ہیں ۔لیکن چترال کے عوامی نمائندوں اور حکومت کے عدم دلچسپی کی وجہ سے گزشتہ چوہتر سالوں میں ان قیمتی معدنیات سے استفادہ نہیں کیا گیا ۔معدنیات کے شعبے کو ترقی دے کر چترال کی پسماندگی کو دور کی جا سکتی ہے ۔معدنیات کے شعبے کو ترقی دینے سے غربت اور بے روزگاری میں کمی آئے گی اور مقامی لوگوں کے معاشی حالت بہتر ہو جائیں گے ۔یہ قدرتی وسائل کسی بھی ملک اور علاقے کی ترقی میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں ۔چترال میں قدرتی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں۔لہذا حکومت کو اللّٰہ تعالیٰ کی دی ہوئی ان نعمتوں سے فائیدہ اٹھانا چاہئے ۔

شیئر کریں: