Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیِ کے زیر صدارت اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹیز سے متعلق اجلاس 

Posted on
شیئر کریں:

وزیراعلیِ کے زیر صدارت اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹیز سے متعلق اجلاس

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت پیر کے روزاربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹیز سے متعلق اجلاس منعقد ہواجس میں اتھارٹیز کے انتظامی اُمور ، مالی معاملات اور اتھارٹیز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ان اداروں کے انتظام و انصرام کو مزید بہتر اور موثر انداز میں چلانے کیلئے اہم فیصلے کئے گئے ۔سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ظہیر الااسلام ، وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن محمد خالق، اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ز اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹیز ایکٹ 2020 کے تحت قائم کی گئی اربن اتھارٹیز کے بورڈ کی تشکیل ، بورڈ کے اختیارو افعال اور بورڈ کے اب تک فیصلوں پر بھی بریفنگ دی گئی ۔

اجلاس کوبتایا گیا کہ اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹیزکیلئے متعلقہ ایکٹ کے تحت مختلف کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں جن میں آکشن کمیٹی ، جنرل رولز کمیٹی، آڈٹ، فنانس اور بجٹ کمیٹی ، ہیومین ریسورس کمیٹی شامل ہیں۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھاٹیز کیلئے آکشن ریگولیشنزبھی بنا دی گئی ہیں جبکہ سروس ریگولیشنزکی تیاری پر کام جاری ہے ۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ جس مقصد کیلئے یہ اتھارٹیز قائم کی گئی ہیں اس مقصد کے سو فیصد حصول کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھائے جائیں اور اتھارٹیز کے تحت قائم کی گئی ہاﺅسنگ سوسائٹیز کے رہائشیوں کو تمام شہری سہولیات کی فراہمی کوہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے ۔

اُنہوں نے مزید ہدایت کی کہ جن ہاﺅسنگ اسکیموں میں کھیلوں کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں وہاں پر کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی کیلئے سکیم شروع کی جائے تاکہ رہائشیوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر کھیلوں کی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے اربن اتھارٹیز کو مالی لحاظ سے خود مختار بنانے اور اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ان اتھارٹیز کیلئے بزنس ماڈل تیار کرنے پرکام کیا جائے اور اس مقصد کیلئے ایک سنٹرلائزڈ کنسلٹنسی کیلئے منصوبہ آئندہ اے ڈی پی میں شامل کیا جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اربن ایریازڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے قیام سے بلڈنگ پلانز کی منظوری سمیت دیگر معاملات میں کافی بہتری آئی ہے ۔


شیئر کریں: