Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صدر مملکت نے نیب اور الیکشن ترمیمی بلز بغیر دستخط واپس بھیج دیے

Posted on
شیئر کریں:

صدر مملکت نے نیب اور الیکشن ترمیمی بلز بغیر دستخط واپس بھیج دیے

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ) صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونے والے نیب اور الیکشن ترمیمی بلز منظوری کے بجائے واپس بھیجتے ہوئے ان پر نظرثانی کی ہدایت کردی۔ صدر مملکت اور وفاقی حکومت کے درمیان سرد جنگ برقرار ہے، صدر مملکت نے نیب اور الیکشن ترمیمی بلز بغیر منظوری کے واپس وزارت پالیمانی امور کو بھجوا دئیے اور ان دونوں بلز پر نظرثانی کی ہدایت کردی۔صدر مملکت نے دونوں بل آئین کے آرٹیکل 75 کی شق کے تحت واپس وزیر اعظم کو بھجوائے اور کہا ہے کہہ پارلیمنٹ اور اس کی کمیٹی/ کمیٹیاں دونوں بلوں پر نظر ثانی اور تفصیلی غور کریں، صدر مملکت کو قانون سازی کی تجاویز کے متعلق مطلع نہ کرکے آئین کے آرٹیکل 46 کی خلاف ورزی کی گئی۔صدر مملکت نے کہا کہ دونوں بل جلد بازی میں 26 مئی کو قومی اسمبلی اور 27 مئی کو سینیٹ سے منظور ہوئے، معاشرے کے لیے دور رس اثرات والی قانون سازی پر قانونی برادری اور سول سوسائٹی کے ساتھ مشاورت کی جانی چاہیے۔

 

انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی اپنی محنت سے کمائی دولت کے ذریعے ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار کرتے ہیں، سپریم کورٹ نے بھی 2018ء اور 2014ء میں سمندرپار پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کی توثیق کی، ٹیکنالوجی میں بہتری لا کر بیرون ملک سے پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جاسکتا ہے۔صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ آئی ووٹنگ کو تھرڈ پارٹیز کی جانب سے محفوظ، معتبر اور قابل بھروسہ قرار دیا جا چکا ہے، آئین کے آرٹیکل 17 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا گیا ہے، دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے ذریعے روزانہ 8.5 ارب ڈالر کے محفوظ لین دین کیے جاتے ہیں۔عارف علوی نے کہا کہ پاکستان کی ووٹنگ مشین میں پیپر ٹریل کا پورا سسٹم موجود ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین بیلٹ پیپر کی چھپائی اور گنتی میں مدد دیتی ہے، پاکستان میں ہر الیکشن کے نتائج کو چیلنج کیا جاتا ہے اور ہر حکومت پر الزامات لگتے ہیں، نئی ترامیم ایک قدم آگے جانے اور گھبرا کر دو قدم واپس پلٹ جانے کے مترادف ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ ترامیم الیکشن میں شفافیت اور بہتری لانے کے تکنیکی عمل میں غیر ضروری تاخیر لانے کے مترادف ہیں، پارلیمنٹ ان قوانین پر پیچھے کی جانب مت جائے، مزید بہتری لا کر نفاذ یقینی بنایا جائے۔صدر مملکت نے کہا کہ نیب قوانین میں ترمیم سے بارِ ثبوت استغاثہ پر ڈال کر اسے 1898ء کے فوجداری قوانین جیسا بنا دیا گیا ہے، نیب قانون میں ترامیم سے استغاثہ کے لیے کرپشن اور سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات ثابت کرنا ناممکن بنا دیا گیا ہے،

 

نیب قانون میں ترامیم سے پاکستان میں احتساب کا عمل دفن ہو جائے گا۔صدر مملکت نے کہا کہ نیب ترامیم اسلامی فقہ کی روح کے بھی خلاف ہیں، نیب ترامیم سے غیر قانونی اثاثوں کی منی ٹریل حاصل کرنا ناممکن ہو جائے گا، ترامیم منظور کرنے سے عدالتوں میں میگا کرپشن کے کیسز بے نتیجہ ہوجائیں گے، کرپشن کے خاتمے کے لیے احتساب کے عمل کو مزید مضبوط ہونا چاہیے تھا۔واضح رہے کہ وزارت پارلیمانی امور نے دونوں بلز منظوری کے لیے صدر مملکت کو بھجوائے تھے جب کہ یہ بلز قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہوئے تھے۔دریں اثنا حکومت کی جانب سے نیب اور الیکشن ایکٹ بلز مشترکہ اجلاس میں پیش کیے جانے پر کام شروع کردیا گیا۔ منگل کے روز ہونے والے مشترکہ اجلاس کے ایجنڈے میں معاشی صورتحال پر بحث کے ساتھ ان بلز کو بھی شامل کیا جائے گا۔اس حوالے سے حکومت نے وزارت پارلیمانی امور اور وزارت قانون کے ساتھ مشاورت شروع کردی۔ یہ مشاورت پی ٹی آئی کی بلز پر تنقید اور صدر عارف علوی کی جانب سے مقررہ 10 دنوں میں دستخط نہ کرنے اور واپس بھجوانے پر شروع ہوئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کو بلز 10 روز میں جائزے کے بعد واپس بھجوانے تھے، حکومت صدر مملکت سے معاشی صورتحال کے پیش نظر اجلاس طلب کراچکی ہے اور حکومت نے قانون سازی کی غرض سے اجلاس کو غیر معینہ کے لیے ملتوی نہ کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل 7 جون کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دونوں بلز کو پیش کرکے حکومت قانون سازی کا عمل مکمل کرے گی۔

 

 

شہباز شریف سازش کی ہے تو اب ذمہ داری لو اور معیشت ٹھیک کرکے دکھاؤ، عمران خان

دیر بالا(سی ایم لنکس) تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اچھی بھلی ہماری حکومت چل رہی تھی اسے کیوں گرایا، شہباز شریف سازش کی ہے تو اب ذمہ داری بھی لو اور معیشت ٹھیک کرکے دکھاؤ۔دیر بالا میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ امریکا، اسرائیل اور بھارت نے مل کر میرے خلاف سازش کی اور شہباز شریف کو ملک پر مسلط کردیا تاکہ اپنے احکامات پر عملدرآمد کرواسکیں، شہباز شریف نے پہلا حکم امریکا سے ملک میں مہنگائی کا لیا، پٹرول اور ڈیزل کی 60 روپے قیمت بڑھا دی، فضل الرحمان بھیس بدل کر عمرے پر گیا ہے تاکہ چور چور کے نعرے نہ سننے پڑیں، فضل الرحمن سمیت یہ لوگ عوام میں نہیں نکل سکتے انھیں منہ چھپانا پڑتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ہم پر بھی پٹرول اور بجلی مہنگی کرنے کا دباؤ ڈالا تھا لیکن ہم نے ریٹ بڑھانے کی بجائے اور کم کردیے، ہم نے اپنا پیٹ کاٹ دیگر ذرائع سے پیسے جمع کیے، ہم نے اپنے دور میں ٹیکس کی صورت میں سب سے زیادہ پیسہ اکٹھا کیا، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے، جبکہ نواز شریف، آصف زرداری اور شہباز شریف کی چوری کی دولت باہر پڑی ہوئی ہے۔

 

عمران خان نے پوچھا کہ اچھی بھلی حکومت چل رہی تھی اسے کیوں گرایا، اپوزیشن نے مہنگائی کا بہانہ بنایا، جبکہ 30 دن میں جو مہنگائی ہوئی اتنی ہمارے ساڑھے تین سال میں نہیں تھی، پیپلزپارٹی کی حکومتیں توکرپشن پرنکالی گئیں اورہمیں مہنگائی کم کرنے پر نکالاگیا، تاکہ غلاموں سے اپنے مطلب کیفیصلے کراسکیں، یہ ہندوستان اور اسرائیل کا ایجنڈا نافذ کرکے پاکستان کوغلام بنانا چاہتے ہیں جو ہمیں منظور نہیں۔چیرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف بہت گھبرایا ہوا ہے اور اس کے چہرے پر عجیب سا خوف ہے، کہتے ہیں کہ پتہ نہیں تھا کہ بارود کی سرنگیں بچھائی گئی ہیں، شہباز شریف آپ سے حکومت نہیں چلتی تو سازش کیوں کی تھی، نہ سازش کرتے اور مجھے رہنے دیتے، حالات کی ساری ذمہ داری میری ہوتی اور تم کہہ دیتے میری وجہ سے سب کچھ ہوا۔عمران خان نے زور دیا کہ اتنی بوٹ پالش کرکے اقتدار میں آگئے تو اب ذمہ داری لو، اب سازش کی ہے تو معیشت ٹھیک کرکے دکھاؤ اور ملک کو مشکل سے نکالو، راہ فرار اختیار نہ کرو، ہم بھی جب حکومت میں آئے تھے تو تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ تھا، لیکن ہم نے ملک کو مشکل سے نکالا، شہباز شریف جب سے تم آئے ہو ملک تیزی سے نیچے کی طرف جا رہاہے، معیشت کمزور ہوگی، تو ہماری سیکیورٹی بھی کمزور ہوگی، تم صرف اپنی چوری بچانے حکومت میں آئے تھے۔


شیئر کریں: