Chitral Times

Sep 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پشاور میں مقیم سپریم کورٹ کے وکیل غفران اللہ شاہ پر  تشدد اورحبس بے جا میں رکھنے کے خلاف چترال کے وکلاء برادری کا احتجاجاً عدالتوں کا بائیکاٹ, اے۔اے۔سی کے خلاف کاروائی کا مطالبہ

شیئر کریں:

پشاور میں مقیم سپریم کورٹ کے وکیل غفران اللہ شاہ پر  تشدد اورحبس بے جا میں رکھنے کے خلاف چترال کے وکلاء برادری کا احتجاجاً عدالتوں کا بائیکاٹ, اے۔اے۔سی کے خلاف کاروائی کا مطالبہ

چترال (نمائندہ چترال ٹایمز) پشاور میں گزشتہ روز ایڈیشنل اے سی پشاور صدر کا سپریم کورٹ کے وکیل غفران اللہ شاہ پر مبینہ تشدد اور حبس بے جا میں رکھنے کے خلاف چترال کے تینوں مقامات چترال شہر، بونی اور دروش میں وکلاء برادری نے احتجاجاً عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور وکیل پر تشدد میں ملوث ایڈیشنل اے سی اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او اور علاقے کے ایس ڈی پی او کے خلاف سخت کاروائی کامطالبہ کیا۔ڈسٹرکٹ کچہری چترال میں واقع بار روم میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا اجلاس صدر ظفر حیات ایڈوکیٹ کے زیر صدارت منعقد ہوا جس میں متفقہ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ قانون کی دھجیاں اڑانے والے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر اور دوسروں کے خلاف کے خلاف قانونی اور محکمانہ کاروائی فوری طور پر کاروائی عمل میں لائی جائے اور آئندہ کے لئے ایسے واقعات کے رونما ہونے کے سلسلے کو موثر طور پر روکا جائے۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ عدالت عالیہ پشاور نے مجسٹریسی کے خاتمے کا فیصلہ کیا ہے جس کے خلاف انتظامیہ کی اپیل سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے اور متذکرہ اپیل کے فیصلہ ہونے تک چترال کے وکلا ء چترال میں قائم ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی عدالتوں میں فوجداری مقدمات کی پیروی کے لئے پیش نہیں ہونگے۔ قرارداد میں اس بات کا بھی مطالبہ کیا گیاکہ انتظامی افسران اپنے پروٹوکول کا ناجائز استعمال کر کے عام شہریوں میں خوف پھیلانے لگے ہیں حالانکہ بارڈر پولیس کو اپنے سیکیورٹی پر مامور کرنے کا انتظامی آفیسران کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے اور یہ افسران اپنے ہمراہ موجود لیویز اہلکاروں کو لے کر عوام الناس پررعب ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں لہذا ان سے لیویز کی سیکورٹی واپس لی جائے۔


شیئر کریں: