Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ پائیدار ترقی کی تلا ش ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

داد بیداد ۔ پائیدار ترقی کی تلا ش ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

پائیدار ترقی مو جود دور کا اہم مسئلہ ہے ترقی یا فتہ قو موں نے ہزار سال پہلے پائیدار ترقی کے لئے منصو بہ بندی کی تھی، ترقی پذیر مما لک اس وقت منصوبہ بندی میں لگے ہوئے ہیں وطن عزیز پا کستان دونوں گروپوں سے باہر ہے ہم اُس گروپ میں شا مل ہیں جو اب تک پائیدار ترقی کی منصو بہ بندی بھی نہیں کر پائے بر طا نیہ، امریکہ، جر منی، سوئٹزر لینڈ، جا پا ن اور چین میں جنگلات، با غات اور انا ج اگا نے والی زمینات کو پائیدار ترقی کا ایک ستون قراردیا گیا ہے اس کا دوسرا ستون تاریخی عما رات، ثقا فتی ورثہ اور ما حولیاتی تحفظ ہے، تیسرا ستون افرادی قوت کی ترقی مر دوں اور عوتوں کے مسا وی حقوق کو قرار دیا جا تا ہے اس کا چو تھا ستون سما جی تحفظ اور بنیا دی ڈھا نچہ کی فراہمی ہے ان تما م کا موں میں منا سب توازن اور اعتدال کو پائیدار ترقی کہا جا تا ہے اگر کسی جگہ تاریخی قلعہ، یا مزار یا عبادت گاہ کو منہدم کر کے سکول بنا یا گیاتو اس کو پائیدار ترقی کا نا م نہیں دیا جا ئے گا،

اگر کسی جگہ جنگل کو کا ٹ کر سڑک بنا ئی گئی تو اس کو پائیدار ترقی نہیں سمجھا جا ئے گا، اگر کسی مقام پر معدنی وسائل کو ضا ئع کر کے ہسپتال یا کا لج بنا یا گیا تو اس کو پائیدار تر قی نہیں کہا جائیگا اگر کسی جگہ بہت بڑا ہو ٹل یا پلا زہ بن گیا اور اس کا نکا سی پا نی دریا میں ڈالا گیا تو اس کا شمار پائیدار ترقی میں نہیں ہو گا اگر کسی مقا م پر بڑا ہسپتال بن گیا اور اس کی ساری غلا ظتیں قریبی آبادی کو جا نے والے راستے پر ڈال دی گئیں تو یہ پائیدار ترقی کے بر عکس کا م ہو گا یہ ایک نا زک اور لطیف مو ضوع ہے اس کو پہلی بار 1971ء میں برازیل کے شہر ریوڈی جنیرو (Rio De Genero) میں منعقد ہ ما حو لیا تی کا نفرنس میں زیر غور لا یا گیا گذشتہ نصف صدی کے اندر اس پر بہت زیا دہ کا م ہوا ہے ما حو لیا تی تحفظ کے ما ہرین کہتے ہیں کہ جس طرح سڑ ک، سکول، پل اور ہسپتال انسا نی آبا دی کی ضروریات ہیں اس طرح مٹی، پا نی اور ہوا کو آلو دگی سے بچا نا دوسری مخلو قات کی ضروریات کا در جہ رکھتی ہیں دنیا کے حسن کو بر قرار رکھنے کے لئے پو دوں اور جڑی بو ٹیوں کا تحفظ بھی لا زم ہے پر ندوں اور کیڑے مکوڑوں کا تحفظ بھی ضروری ہے،

جنگلی حیات، شیر، چیتے، بندر، لنگور، بھیڑیے اور ریچھ کا تحفظ اور ان کی افزائش نسل کا ساما ن بھی لازم ہے یہ سب مل کر ہمارا ماحو لیاتی نظام تشکیل دیتے ہیں یہ سب ہمارے ایکو سسٹم (Eco system) کے اجزار ہیں 1982میں ایک بار پھر ریوڈی جنریرو میں ما حو لیاتی کا نفرنس ہوئی 1992میں بیجنگ میں ریو پلس کے نا م سے ما حو لیاتی کا نفر نس ہوئی 2000ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اگلے 15سالوں کے لئے پائیدار ترقی کے اہداف مقرر کر کے ممبر ملکوں کو ان اہداف کے حصول کا پابند بنایا ان کا نا م میلینم ڈیو لپمنٹ گو لز (MDGs) رکھا گیا 2016ء میں جا ئزہ رپورٹ آنے کے بعد اگلے 15سالوں کے لئے نئے اہداف رکھے گئے ان کو پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کا نا م دیا گیا انگریزی میں پائیدار ترقی کو سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ (Sustainable development) کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی قوم اپنے قدرتی ماحول، اپنے تاریخی ورثے اور اپنے قدرتی وسائل کو بر باد کر کے کا رخا نے پلا زے اور عما رتیں کھڑی کرنے کو ترقی کا نا م نہ دے سڑک، ہسپتال، کا لج اور سکول بے شک بنا ئے مگر قدرتی ما حول کو سب سے پہلے تحفظ دے، سر ی لنکا، بنگلہ دیش، تا جکستا ن اور نیپال جیسے مما لک نے پائیدار ترقی کے اہداف کو حا صل کر لیا ہے پا کستان اور افغا نستا ن اب تک اس معا ملے میں سب سے پیچھے ہیں 2030 کے لئے جو اہدف رکھے گئے ہیں ان کو حا صل کرنے کے لئے ہمیں سرکا ری اور عوامی سطح پر آگا ہی پھیلا نے کی ضرورت ہے۔


شیئر کریں: