Chitral Times

Feb 24, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اشرافیہ کا پاکستان . پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

 

اشرافیہ کا پاکستان . پروفیسرعبدالشکورشاہ

 

پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتیں کوہ قاف کی پہاڑی پر چڑھ چکی ہیں اور عام آدمی کے پاوں حیرت سے زمین میں گڑھ چکے ہیں۔ مہنگائی اور قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے باوجود حکومت اشرافیہ کو مفت بجلی اور پٹرول مہیا کر رہی ہے۔ عجب منطق ہے غریب کا نعرہ لگا کر ایوانوں تک پہنچنے والے غریب کے خون پسینے کی کمائی پراشرافیہ کو نوازتے ہیں۔ سہولیات کی حقدار عوام ہے ناکہ ایک مخصوص طبقہ جو عام آدمی کی کمائی سے تنخواہ لیتا ہے، مراعات لیتا ہے، مفت علاج کرواتا ہے، مفت بیرون ملک کے دورے کر تا ہے، مفت تعلیم حاصل کر تا ہے، مفت گیس، بجلی، پانی، پٹرول، گاڑیاں، فون، رہائش، مہمان الاونس، مہنگائی الاونس، سفری الاونس اور اس طرح کی بے شمار مراعات سے لطف اندوز ہوتا ہے اور یہ سب اخراجات غریب آدمی کے ٹیکسوں سے ادا کیے جاتے۔ ہم نے ایسا یزیدی نظام ترتیب دے رکھا ہے جس میں غریب کی کمائی پر اشرافیہ کو پالا جاتا ہے اورستم در ستم یہ کہ غریب آدمی اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر، اپنے بچوں کو ان پڑھ رکھ کر، اپنے خاندان کا علاج روک کر، اپنی بیٹیوں کا جہیز بیچ کر،روکھی سوکھی کھا کر بھی اس حرام خور طبقے کی سہولیات اور مراعات کے لیے ٹیکس ہر صورت دیتا ہے اور یہی طبقہ اس غریب کے مسائل حل کرنے کے بجائے اس پر آقا بن کر مسلط ہو جاتا ہے۔ سہولیات اور مراعات تو اس شہری کو ملنی چاہیے جو انہیں حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا مگر یہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے۔

ایک مزدور جس کی دیہاڑی لگے یا نہ لگے وہ کوئی بھی چیز خریدتا ہے تو ٹیکس ادا کر تاہے۔ صبح جب گھر سے نکلتا ہے تو 400کا پٹرول جلا کر جب دیہاڑی کے بغیر شام کو واپس پلٹتا ہے تو اس کے پاس واپسی کے پٹرول کے پیسے نہیں ہوتے۔ عام آدمی یا چھوٹا سرکاری یا پرائیویٹ ملازم اب مزدور بن کر رہ گیا ہے۔ جس مزدور کو دیہاڑی ہی 600روپے ملتی وہ گھی لے گا تو آٹا نہیں آتا، آٹا لے گا تو گھی نہیں آتا۔ دوسری جانب ان غریبوں کے خون پسینے کی کمائی پر پلنے والے پسو مفت میں بجلی، پٹرول، گیس، پانی، علاج اور تعلیم جیسی کئی مراعات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ایک عام شہری کی حیثیت سے میرا یہ سوال ہے کیا مہنگائی صرف عام آدمی اور غریب طبقے کے لیے ہے یہ اشرافیہ کے لیے کیوں نہیں ہے؟ اگر ایک مزدور صبح210روپے کا لیٹر پٹرول ڈلوا کر دیہاڑی لگانے نکلتا ہے تو یہ جج، یہ بیوروکریٹ، یہ کیپٹن، یہ میجر،یہ کرنل، یہ برگیڈئیرز،یہ  جنرل، یہ سیکریٹری، آئی جی، ڈی آئی جی، وزیر، مشیر، ایم این ایز، ایم پی ایز، وزیر اعظم، صدرکس بات کا مفت پٹرول اور بجلی استعمال کر رہے؟ کیا یہ مزدور سے زیاد ہ پس ماندہ اور بدحال ہیں، کیا یہ یتیم مسکین ہیں، کیا یہ بے بس و بے آسرا ہیں،

کیا یہ اپاہج و محتاج ہیں جو غریب ایک لیٹر پٹرول 210کا لے اور یہ ماہانہ سینکڑوں لیٹر پٹرول مفت میں استعمال کریں اور اس کی قیمت بھی عام آدمی ادا کرے۔ کیا یہ انصاف ہے کہ غریب آدمی پنکھا چلانے سے بھی قاصر ہو چکا ہے اور اشرافیہ اے سی سے یخ بستہ کمروں میں کمبل اوڑھ کر خواب خرگوش کے مزے لے اور ان کے بجلی کے بلوں کے پیسے بھی عام آدمی ادا کرے۔ایک جانب غریب آدمی اپنے بچوں کو سکول چھڑوا کر محنت مزدوری پر مجبور کر رہا ہے، بیٹوں کو موٹرسائیکل مکینک کی منتیں کر کے دکان پر کام پر لگوا رہا ہے، گلی کی درزن کی منتیں کر کے بیٹی کو سلائی پر لگا رہا ہے جبکہ دوسری جانب اشرافیہ کی اولاد اسی عام آدمی کی دن رات کی کمائی سے مہنگے ترین سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیز میں نہ صرف مفت تعلیم حاصل کر رہی ہے بلکہ یہ نظام عام آدمی کی آنے والی نسلوں کے لیے نئے آقا بھی تیار کر رہا ہے۔ غریب آدمی کے پاس علاج کروانے کے پیسے نہیں ہیں خود اور اس کا خاندان بیماریوں سے تڑب تڑب کر بلک بلک کر جان دے دیتا ہے مگر یہ غریب آدمی اس حال میں بھی اس یزیدی اشرافیہ کی سہولیات اور مراعات کے لیے ٹیکس ادا کر تا ہے۔

غریب کی کمائی پر امیر کا علاج، غریب کی کمائی پر امیر کی پڑھائی، غریب کی کمائی پر امیر کے سیر سپاٹے، غریب کی کمائی پر امیر کے مفت دورے، غریب کی کمائی پر امیر کی عیش و عشرت کی زندگی۔یہ ظلم کا نظام ہے اور اس ظلم کا بدلہ اس دنیا میں بھی ملے گا اور آخرت میں بھی۔ غریب سائیکل پر جاتا ہے مگر اس غریب کے پیسوں سے اشرافیہ کوشیفرڈ کارز لے کر دی جاتی ہیں، غریب پنکھا چلانے کے بجائے چھت پر سوجاتا مگر اسی غریب کی کمائی سے اشرافیہ اے سی سے یخ بستہ کمروں میں کمبل اوڑھ کر سوتی، غریب گیس کے بجائے گوبر، لکڑی یا کوئی متبادل سستا زریعہ استعمال کرتا ہے تو امیر کو غریب کے پیسوں سے مفت گیس فراہم کی جاتی ہے۔ غریب بیماری سے مر جاتا ہے مگر اسی غریب کی کمائی سے اشرافیہ کا بیرون ملک مفت علاج کر وایا جاتا ہے۔ غریب سال بعد اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے جانے کا کرایہ بھی جمع نہیں کر پاتا مگر اشرافیہ اسی غریب کی کمائی سے بیرون ملک دورے، عمرے اور حج کر تا ہے۔ غریب اپنے بچوں کو قریبی پارک تک لیکر جانے کی سکت نہیں رکھتا جبکہ اشرافیہ اسی غریب کے پیسوں سے مری، سوات، کالام، ناراں، کاغان، گلگت بلتستان اور ملک اور بیرون ممالک کے کونے کونے میں گھومتا ہے۔ غریب اپنے بچوں کی سرکاری سکول کی فیس بھی ادا نہیں کر سکتا مگر اسی غریب کی کمائی سے امیر اشرافیہ کے بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ اس یزیدی، فرعونی، قارونی اور نمرودی نظام نے غریب کو اتنا پیس دیا ہے کہ اب اس کے اندر امید تک ختم ہو چکی ہے۔ یوں لگتا ہے غریب اس بات کو کلے کے ساتھ بندھے ہاتھی کی طرح ذہن نیشن کر چکا ہے کہ یہ چھوٹا ساطبقہ جسے ہم اشرافیہ کہتے ہیں ان کے چنگل سے نکلنا محال ہے جیسے ہاتھی یہ بات ذہن نشین کر چکا ہے کہ یہ چھوٹا سا لکڑی کا کلا اس سے کئی گنا مضبوط ہے اور وہ اسے اکھاڑ نہیں سکتا۔

ظلم کی زنجیریں چاہیے کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہوں آزادی، حق سچ اور اپنے حقوق کی جدوجہد کے آگے کوئی حیثیت نہیں رکھتی ہیں۔جج انصاف دینے میں تو مکمل ناکام ہو چکے ہیں مگر غریب کی خون پسینے کی کمائی سے مفت پٹرول، بجلی، تعلیم، علاج، گیس پانی اور دیگر مراعات لینے میں کامیاب ترین ہیں۔ ہماری فورسسز تحفظ مہیا کرنے میں تو بری طرح ناکام ہو چکی ہیں مگر غریب آدمی کی کمائی سے مراعات اور سہولیات لینے میں کامیاب ترین ہیں۔ ہمارے ایم این ایز اور ایم پی ایز، وزراء اور مشیران جو غریب کے نام پرغریب آدمی کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ایوانوں تک پہنچے ہیں وہ اپنے، اپنے خاندان اور رشتہ داروں کے لیے مفت پٹرول، بجلی، گیس، پانی، تعلیم،علاج و دیگر مراعات لے رہے ہیں جبکہ غریب آدمی کے لیے جینا محال کر دیا ہے۔ہمارے سول سروس کے افسران غریب کے ٹیکسوں سے مراعات سے تو لطف اندوز ہو رہے ہیں مگر غریب آدمی کی خدمت کرنے کے بجائے ان کے لیے سب سے بڑی زحمت بن چکے ہیں۔ عجب تماشہ ہے جس کی کمائی سے تنخواہ لیتے اس کا احسان مند اور شکر گزار ہونے کے بجائے اس کے آقا بن بیٹھے ہیں۔

اگر عام آدمی پٹرول، بجلی، گیس، پانی، تعلیم، علاج، سفر، مواصلات، رہائش اور دیگر ضروریات زندگی کے لیے پیسے ادا کر تا ہے تو یہ جج، یہ آرمی افسران، یہ سول سرونٹ، یہ بیوروکریٹس،یہ پولیس آفیسران، یہ ایم این ایز، ایم پی ایز، وزراء، مشیران اور دیگر اشرافیہ کیوں مفت میں پٹرول، بجلی، گیس، پانی، تعلیم، علاج، سفر، موبائل فون، مہنگائی الاونس، سفری الاونس، گاڑیاں، رہائش اور دیگر مراعات مفت میں لے رہے ہی؟ کیا ہم نے پارلیمینٹ اس لیے بنائی ہے کہ وہ غریب کے خون پسینے کی کمائی پر اشرافیہ کو نوازنے کے قوانین بنائے، کیا ہم نے عدلیہ اس لیے بنائی ہے کہ وہ غریب کو انصاف دینے کے بجائے اشرافیہ کو تحفظ فراہم کرے اور انصاف کے بجائے غریب آدمی کی کمائی پر ناانصاف بلکہ ظلم کرتے ہوئے مفت مراعات لے جب غریب آدمی پٹرول، بجلی، گیس کی قیمتوں کے پہاڑ تلے پس رہاہے اس وقت سوموٹو لینے کے بجائے امراء، وزراء، اشرافیہ اور دیگر طاقتور حلقوں کے ساتھ مل کر غریب کو مہنگای کی اس چکی میں پیسنے میں معاون و مددگار بن جائے۔ اگر اس ملک میں مہنگائی کم کرنی ہے تو اشرافیہ کو دی جانے والی مراعات بند کی جائیں وہ بھی بجلی کا بل دیں، وہ بھی پٹرول خریدیں، وہ بھی گیس کا بل دیں، وہ بھی سکول کی فیسیں دیں، وہ بھی علاج کے پیسے دیں، وہ بھی فون کالز کے پیسے دیں نہ کہ 22کروڑ عوام کواشرافیہ کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔


شیئر کریں: