Chitral Times

Oct 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ ترکی، سٹرٹیجک تعلقات اور مضبوط اقتصادی شراکت داری کے فروغ پر زور

Posted on
شیئر کریں:

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ ترکی، سٹرٹیجک تعلقات اور مضبوط اقتصادی شراکت داری کے فروغ پر زور

انقرہ(سی ایم لنکس)وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور ترکی کے درمیان سٹرٹیجک تعلقات کے مرکزی جزو کے طور پر مضبوط اقتصادی شراکت داری کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا ہے، دونوں ممالک کے عوام کے درمیان صدیوں پرانے تعلقات محبت، پیار، مشترکہ زبان، ثقافت اور مذہبی ورثہ کی مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہیں، پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے یوکرائن کے تنازعہ کے جلد از جلد حل کا خواہاں ہے۔ بدھ کو جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی۔انقرہ میں صدارتی محل آمد پر صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر تجارت سید نوید قمر، وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، فہد حسین اور سینئر اعلیٰ حکام ان کے ہمراہ تھے۔ وزیراعظم کا صدارتی کمپلیکس پہنچنے پر گارڈ آف آنر کے ساتھ پرتپاک استقبال کیا گیا۔ دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے اپنے وفود کا تعارف کرایا۔دونوں رہنماؤں نے وفود کے بغیر ملاقات کی جس کے بعد فریقین کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک رواں سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان صدیوں پرانے تعلقات محبت، پیار، مشترکہ زبان، ثقافت اور مذہبی ورثہ کی مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک مشکل کی ہر گھڑی میں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے اور یہ دوستانہ تعلقات آئندہ نسلوں کو منتقل ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اعتماد، مفاہمت اور باہمی تعاون کے ذریعے منفرد رہے۔ فریقین نے تجارت، سرمایہ کاری اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان ایسے سٹرٹیجک تعلقات کی اہمیت پر زور دیا جس کا مرکزی نقطہ معاشی شراکت داری کو فروغ دینا ہو۔ اعلیٰ سطحی سٹرٹیجک تعاون اور سٹرٹیجک اقتصادی فریم ورک، باہمی تعاون کے فروغ میں اہم ذریعہ قرار دیا گیا۔دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطحی سٹرٹیجک تعاون (ایچ ایل ایس سی سی) ستمبر میں پاکستان میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا تاکہ اس عمل میں مزید پیش رفت ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جون 2022ء میں ترکی کے تجارتی وفد کے خیر مقدم کا منتظر ہے۔ انہوں نے ترکی کے سرمایہ کاروں کو پاکستان بالخصوص پن بجلی اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ یقینی بنائیں گے کہ ترکی کی کمپنیوں کو موجودہ اور مستقبل کے سرمایہ کاری کے منصوبوں میں ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

ترکی کی تنازعہ جموں و کشمیر پر غیر متزلزل اور اصولی موقف کی حمایت پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس تنازعہ پر صدر رجب طیب اردوان کا موقف کشمیریوں اور پاکستانی عوام کیلئے باعث تقویت ہے۔انہوں نے اس منصفانہ جدوجہد کیلئے ترکی کی قیادت اور عوام کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خطے اور خطے سے باہر امن اور سلامتی کیلئے ترکی کی شراکت داری کو سراہا اور ترکی کے اہم مفادات کے امور پر پاکستان کے تعاون اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ افغانستان سے متعلق شہباز شریف نے ترکی کی انسانی امداد اور تعمیری بات چیت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کا ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے موجودہ چیلنجز بالخصوص انسانی بحران کی صورتحال اور معاشی بدحالی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے مدد کرے گا اور افغان عوام کا ساتھ دے گا۔فریقین نے پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کے مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔وزیراعظم نے روس اور یوکرائن تنازعہ کے سفارتی حل کیلئے مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر صدر طیب اردوان کی تعریف کی اور زور دیا کہ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے یوکرائن کے تنازعہ کے جلد از جلد حل کا خواہاں ہے۔

دونوں رہنماؤں نے یوکرائن تنازعہ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے تحفظ خوراک کے چیلنج پر بھی تبادلہ خیال کیا اور ملکر اس سے نمٹنے کیلئے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی 6 یادداشتوں کی تقریب میں شرکت کی ان میں سرکاری قرضوں کا انتظام، ایس ایم ای فنانسنگ، ہاؤسنگ کیلئے کریڈٹ گارنٹی انسٹیٹیوشن کے درمیان تعاون، نجی سرکاری شراکت داری ماڈلز بالخصوص ٹرانسپورٹیشن، صحت، معیشت اور سماجی پالیسی منصوبہ بندی میں نالج شیئرنگ اور ہائی وے انجینئرنگ میں تکنیکی تعاون کی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت اور معاشی تعلقات کے فروغ سے متعلق مشترکہ وزارتی بیا ن سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے۔ جس میں دونوں ممالک نے 3 سال کے دوران باہمی تجارتی حجم 5 ارب ڈالر تک لیجانے کے ہدف کے حصول کا عزم کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر مشترکہ لوگو جاری کیا گیا۔دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک میں یہ سالگرہ شایان طریقے سے منائی جائے گی۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ان کا اور ان کے وفد کا پرتپاک استقبال اور شاندار میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے صدر طیب اردوان کو دورہ پاکستان کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام ان کے بھرپور استقبال کے منتظر ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکی کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں پر لیجانے کیلئے قریبی رابطے پر اتفاق کیا۔

 


شیئر کریں: