Chitral Times

Oct 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی کابینہ نے چترال یونیورسٹی کیلئے200ملین روپے گرانٹ ان ایڈ، ارزان آٹا اور 675 کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی مستقلی کی منظوری دیدی

شیئر کریں:

صوبائی کابینہ نے چترال یونیورسٹی کیلئے200ملین روپے گرانٹ ان ایڈ، ارزان آٹا، ،675 کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی مستقلی اور  کی منظوری دیدی

صوبائی کابینہ نے عوام کو ارزاں نرخوں پر آٹے کی فراہمی کی منظوری دیدی ہے جس پر تقریبا 30بلین روپے سے زائد لاگت آئے گی
صوبائی کابینہ نے محکمہ صحت میں 675 کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی مستقلی کے بل کی منظوری دی
کابینہ نے یونیورسٹی آف چترال کیلئے200ملین روپے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دیدی

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ نے عوام کو ارزاں نرخوں پر آٹے کی فراہمی کی منظوری دیدی ہے جس پر تقریبا 30بلین روپے سے زائد لاگت آئے گی۔اس منصوبے کے تحت عوام کو 20کلو آٹے کاتھیلا980روپے جبکہ 10کلو آٹے کا تھیلا 490روپے میں فراہم کیا جائے گا۔عوام کو سبسیڈائزڈ آٹے کی فراہمی کا اجراء رواں مہینے سے کیا جائے گاجبکہ صوبہ بھر میں ارزاں نرخوں پر آٹے کی فراہمی کیلئے سیل پوائنٹس /دکانیں مختص کی جائیں گے اور فلور ملز کو گند م کی فراہمی اسی مہینے سے کی جائے گی۔صوبائی کابینہ کا 72واں اجلاس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت جمعرات کے روزسول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہواجس میں متعددفیصلے کئے گئے۔اجلاس میں صوبائی کابینہ کے اراکین،چیف سیکرٹری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور انتظامی سیکرٹریزنے شرکت کی۔اجلاس کے بعد صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران خان بنگش نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے محکمہ صحت میں 675 کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی مستقلی کے بل کی منظوری دی۔

یہ ڈاکٹرز عرصہ دراز سے صوبے کے مختلف علاقوں میں بطور میڈیکل آفیسرز کو کورونا کے دوران خدمات انجام دے رہے تھے۔صوبائی کابینہ نے محکمہ لائیوسٹاک میں سابقہ فاٹا کے باقی ماندہ 4پراجیکٹس کے 210ملازمین کو مستقل کرنے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں آئی ٹی کیڈر کیلئے 34آسامیاں تخلیق کرنے جن میں ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹربھی شامل ہیں، کی منظوری دیدی۔صوبائی کابینہ نے ملاکنڈ میں کمیونٹی کے اشتراک سے کام کرنے والے CDLD پراجیکٹ کے 296ملازمین جن میں انجینئرز، سب انجینئرز اور دیگر عملہ شامل ہیں، کو محکمہ بلدیات میں خالی آسامیوں پر مستقل /ایڈجسٹ کرنے کی بھی منظوری دیدی۔کابینہ نے ضلع جنوبی وزیرستان کے 33خاصہ داروں اور ضلع لکی مروت کے77لیویز اہلکاروں کو پولیس فورس میں باقاعدہ طور پر ضم کرنے کی منظوری دیدی ہے۔کابینہ نے خیبر پختونخوا سیٹیز ایمپرومنٹ پراجیکٹ (Cities Improvement Projedct)کے تحت جاری منصوبوں گریٹر واٹر سپلائی سکیمز مینگورہ اور کوہاٹ کیلئے265 ملین روپے کے ایڈیشنل فنڈ کی منظوری دیدی۔کابینہ نے سال2022-23 کیلئے وائلڈ لائف اور نیشنل پارکس کی ترقی، عوام کی شعور و آگہی، وائلڈ لائف کے شعبے میں ریسرچ وغیرہ کیلئے فنڈ کے قیام کیلئے200ملین بطور سیڈ رقم فراہم کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ کابینہ نے یونیورسٹی آف چترال کیلئے200ملین روپے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دیدی ہے۔

کابینہ نے خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کی نشستیں کم کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ آبادی کے تناسب سے نشستیں کم کرنے کی بجائے زیادہ کرنی چاہئے تھیں۔کابینہ نے ووٹرز لسٹوں میں مبینہ طور پرگڑ بڑ اور ہیرا پھیری کی عوامی شکایات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور فیصلہ کیا کہ صوبائی حکومت یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے ساتھ اٹھائے گی اور اگر اس کا تدارک نہ ہوا تو عدالت سے بھی رجوع کیا جائے گا۔کابینہ نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت نے ابھی سے دھاندلی کیلئے راستے ڈھونڈنا شروع کر دئیے ہیں۔اگر ہماری پارٹی کی وفاقی حکومت کی طرف سے کی گئی قانون سازی کو ختم نہ کیا جاتاتو ملک میں شفاف انتخابات کی راہ ہموار ہو سکتی تھی۔ کابینہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسد علی کو جج اینٹی ٹیرارزم کورٹ سوات تعینات کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ کابینہ نے پاکستان ہنٹنگ اینڈ سپورٹنگ ڈویلپمنٹ کمپنی کو صوبے کے حوالے کرنے اور سمیڈا میں ضم کرنے کیلئے معاملہ وفاقی حکومت کے متعلقہ ڈویژن کے ساتھ اٹھانے کی بھی منظوری دیدی۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں چھوٹے اسلحے کے کاروبار کی 150سالہ پرانی تاریخ ہے اور پشاور اور درہ آدم خیل میں 300سے زائد مینو فیکچرنگ یونٹس قائم ہیں اور ہزاروں افراد اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔ اس کمپنی کی خیبر پختونخوا منتقلی سے ہزاروں افراد مستفید ہوں گے اور یہ صنعت مزید ترقی کرے گی۔مذکورہ منصوبے سے 7بلین روپے سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔

کابینہ نے خیبر پختونخوا وائلڈ لائف بورڈ کے 7غیر سرکاری ممبران کی منظوری دیدی ہے جن سول ڈویژنز کو نمائندگی دی گئی ہے ان میں پشاور، مردان، ہزارہ، کوہاٹ، ڈی آئی خان، بنوں اور مالاکنڈ سول ڈویژنز شامل ہیں۔ کابینہ نے دِگر راج درگئی ملاکنڈ، چمبہ گل ضلع ہنگو اور قیمت منجی لکی مروت کے علاقوں کو کمیونٹی گیم ریزرو علاقے قرار دینے کی منظوری دیدی ہے۔کابینہ نے شکردرہ ضلع کوہاٹ میں عوام کو پینے کی صاف پانی کی فراہمی کیلئے محکمہ جنگلات کی اراضی استعمال کرنے کی اجازت دیدی۔کابینہ نے کالام میں جنگلات کے تحفظ و ترقی کیلئے آپریشن اور سائنسی بنیادوں پر جنگلات کے انتظام و انصرام کیلئے محکمہ جنگلات کو ضروری اقدامات کرنے کی منظوری دیدی ہے۔کابینہ نے پشاور میں بڑھتی ہوئی آلودگی کو کنٹرول کرنے کیلئے کابینہ کی ایک اوورسائٹ(oversight) اور ایک عمل درآمدی کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری بھی دیدی ہے جس میں پشاور سے تین وزراء،تین ایم پی ایز،متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور انوائرمنٹل اتھارٹی شامل ہوں گے۔ علاوہ ازیں محکمہ صنعت انڈسٹریل اسٹیٹ حیات آباد اور شاہ کس ضلع خیبرسمیت مختلف مقامات کے دورے کرے گی اورفضائی آلودگی کے بارے میں تجرباتی بنیادوں پرڈیٹا اکٹھا کریں گے جس سے کوالٹی اسٹینڈرڈز یقینی بنائے جا سکیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی چیکنگ کریں گی۔ ساتھ ہی ساتھ عوامی آگہی کیلئے میڈیا میں تشہیر ی مہم چلائی جائے گی تاکہ پشاور کے باسیوں کو صاف ستھرا اور آلودگی سے پاک ماحول فراہم کیا جا سکے۔

کمیٹی میں صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا،وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش اور وزیر جنگلات اشتیاق ارمڑ شامل ہوں گے۔لوکل گورنمنٹ کے الیکشن کے انعقاد کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات کو حل کرنے میں الیکشن کمیشن کے کردار/ ذمہ داریوں کو سہل بنانے کیلئے لوکل کونسل(Conduct of Elections) رولز2021میں ترمیم کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے ضلع بٹگرام میں 4نئے فیلڈ قانون گو سرکلزکے قیام کی منظوری دی۔کابینہ نے ضلع شانگلہ کے سب تحصیل کانہ کو مستقل تحصیل کا درجہ دینے کی منظوری بھی دی اور ضم شدہ ضلع کرم میں نئی تحصیل صدہ کے قیام کی منظوری دی۔کابینہ نے مردان میں سائنس میوزیم کے قیام کیلئے زمین لیز پر حاصل کرنے اور یونیورسٹی آف شانگلہ کو باقاعدہ شیڈول یونیورسٹی کا درجہ دینے کی بھی منظوری دی ہے۔

chitraltimes kp cabinet meeting 72 chaired by cm kpk


شیئر کریں: