Chitral Times

Feb 28, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کندھوں پر جوان اولاد کی میت ۔ صوفی محمد اسلم

Posted on
شیئر کریں:

کندھوں پر جوان اولاد کی میت ۔ صوفی محمد اسلم

کٸی دنوں سے سوشل میڈیا میں ایک ویڈیو گردش کررہی جس میں ایک شخض سے پوچھا جا رہا ہے کہ سب سے بھاری بوجھ کیا ہے ۔ اس سوال پر بڑی دکھی انداز میں جواب دیتا ہے کہ تین بوجھ ایسے ہیں جو دنیا میں سب سے بھاری ہیں جسے اٹھا کر چلا نہیں جاسکتا
1۔والدیں کے کندھوں پر جوان اولاد کی میت
2۔ جوان بچیوں کی والد کے خالی جیب
3۔عورت کے ہاتھ میں طلاق کا کاغذ

غور کیا جاٸے اس شخض کے باتوں میں کمال کی حقیقت ہے۔ مگر افسوس آج کل ہم انسو بہاتے ہوٸے والدین کے کندھوں پر نوجوان کی میت دکھتے ہیں۔یہ مصدقہ سچ ہے کہ موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جان بوجھ کر اگ میں کھود کر مرنا حرام ہے۔

والدین اپنے اولاد کے بارے میں کیا کچھ نہیں کرتے۔ ان کے بچپن سے جوانی تک ہر چھوٹے بڑے خوشیوں سے لیکر ارام اساٸیش تک ، تربیت سے لیکر عالیٰ تعلیم تک سب کا خیال کرنے والے اور اس کے ہر زد کے اگے سر جھکا کر بغیر کسی شرمنگی کے ہارمانے والے صرف اور صرف والدین ہی ہیں۔ کٸی والدین اولاد کی خواہشات کے تکمیل کی کوشش میں صحراٸوں کی تبتی ہوٸ ریت چھانٹتے رہتے ہیں تو کوٸ سیاہ چین کے گلیشر میں سال بھر دھندلاسا موسم برداشت کررہے ہیں تاکہ اولاد کی روشن مستقبل دیکھ سکے۔ اولاد کے خاطر والدین کی قربانیاں بیشمار ہیں یہاں گننا میرے لٸے ناممکن ہے۔

گزشتہ مہینے میں بہت سے ایسے واقعات ہوٸے جسے دیکھ اس شخص کی وہ باتیں بار بار یاد ارہے ہیں۔ ایسے ایسے حادثے ہوٸے ہیں جسے سوچ کر دل افگار خون کے انسو بہا رہی ہے۔ کٸی والدین اپنے جگر گوشہوں کی میت کندوں میں اٹھاٸے سپرد خاک کیے ہیں ،کٸی اپنے لخت جگر کی تلاش میں دریاہ کے کناروں میں بے یار مددگار انسو بہارہے ہیں اور کٸی اپنے اولاد کو لہو لہاں دیکھ کر بے بسی میں ٹھنڈی آہیں بھر رہے ہیں۔والدیں اس قدر بے بس ہیں کہ اپنے دکھ بھی کسی کے ساتھ شٸیر نہیں کرسکتے۔ ہر باشعورشخض ان کے لڑکھڑاتے ہوٸے بدن اور ابلتے ہوٸے دل کی دھڑکنیں سن کر ،والدہ کی دوپٹہ میں پونچھتی ہوٸ انسوں کی داغ جمود دیکھ انکے عم کا اندازہ لگا سکتا ہے۔

نوجوان کو بھی یہ خیال رکھنا چاہٸے کہ زندگی باربار نہیں ملتی۔ یہ خدا کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ چھوٹی چھوٹی ریسوں میں زندگیاں ایسے نہیں کھو دینا چاہٸے۔ اس سے بھی بڑی بات یہ ہے ایک زندگی ضایع ہونے سے کٸ خانداں متاثر ہوتے ہیں۔ اولاد کی جدائی پر والدین زندگی بھر انسو بہاتے رہتے ہیں انہیں صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ان دلوں میں کیا گزرتی ہے اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔ والدین کی احساسات کی قدر کرے۔ انکے بڑھاپے کا سہارہ بنے۔ اگر انہیں خوش نہیں دے سکتے تو کم از کم پڑھاپے میں انکے عموں میں بھی اضافہ کے سبب بھی نہ بنے۔

ایسے بہت سے نگہانی افاد اور حادثات میں اولاد کی غفلت لاپروائی کے علاوہ کہی نہ کہی والدین بھی شریک ہیں۔ اس میں کوٸ شک نہیں کہ والدیں اپنے اولاد سے بے پناہ محبت کرتے ہیں انکے زد کے اگے ہار مانا پڑتا ہے مگر یہ بھی کوٸ محبت نہیں کہ اپنی نوجوان بچوں کو ایسی ہتیار تھمایا جاٸے جس کی استعمال میں اکثر ایسی عمر میں غفلت لاپروائی کا اندیشہ ہو۔ اور بچہ دیکھتے ہی دیکھتے لہو لہاں ہوکر سامنے تڑپنے کا خطرہ ہو۔اولاد کی ہر جاٸز فرماٸیش پورا کرنا محبت کی علامت ہے مگر ہر جاٸز ناجائز خواہشات پورا کرنا اس کے جان اور مستقبل داٶ پر لگانے کی مترادف ہے۔ اس کے ساتھ وہی رویہ رکھنا چاہٸے جو ایک استاد رکھتا ہے۔ والدیں کے صرف اولاد کی فرمائشیں پورا کرنا نہیں ہوتا بلکہ ایسے زندگی اہمیت اور احساس ذمہ داری کی تعلیم دینا ہوتا ہے۔

لہذا والدیں سے استدعا ہے کہ اپنے اور اپنے بچوں پر رحم کرے۔ موٹرساٸیکل جیسے مصدقہ الہ حادثہ سے اپنے بچوں کو محفوظ رکھیں۔اس کے استعمال میں اختیاط کی تلقین کرے۔ جوانوں سے گزارش ہے کہ ڈراٸیونگ کے دوران قانون اور اختیاطی تدابیر پر عمل کرے۔خوش رہے اپنوں کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرے۔ انتظامہ کو بھی چاہٸے کہ لوگوں کے جگر گوشوں کی جان کی حفاظت میں ان کے ساتھ دے۔ ایسے موٹر ساٸکلیسٹ جو عمر میں کم یا ڈراٸیونگ میں کسی طرح کے بھی غفلت لاپروائی برتتے ہیں۔ ان کے خلاف سخت سے سخت کارواٸں کرے۔ ایک انسان کی جان بچانا ساری انسانیت کی جان بچانے کی مترادف ہے۔ اللہ سب کو ایسی نوجوانی میں ناگہانی موت سے محفوظ رکھے۔

وما علینا الاالبلاغ۔۔۔۔
۔۔۔


شیئر کریں: