Chitral Times

Oct 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبرپختونخوا حکومت کے میگا ہاوسنگ منصوبے “نیو پشاور ویلی” کے حتمی ماسٹر پلان کی باضابطہ منظوری دیدی گئی

شیئر کریں:

خیبرپختونخوا حکومت کے میگا ہاوسنگ منصوبے “نیو پشاور ویلی” کے حتمی ماسٹر پلان کی باضابطہ منظوری دے دی گئی

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بورڈ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا حکومت کے میگا ہاوسنگ منصوبے “نیو پشاور ویلی” کے حتمی ماسٹر پلان کی باضابطہ منظوری دے دی گئی۔ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بورڈ کا آٹھواں اجلاس منگل کے روز وزیراعلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا،رکن صوبائی اسمبلی پیر فدا اوروزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان کے علاوہ دیگر بورڈ اراکین نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو نیو پشاور ویلی منصوبے کے حتمی ماسٹر پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ یہ ہاﺅسنگ اسکیم ایک لاکھ چھ ہزار چار سو کنال وسیع اراضی پر قائم کی جائے گی جس میں سے 41 فیصد رقبہ یعنی ساڑھے 43 ہزار کنال رہائشی پلاٹس اور اپارٹمنٹس پر مشتمل ہو گا جبکہ کل رقبے کا 28 فیصد سڑکوں کی تعمیر،16 فیصد رقبے پر پارکس اور اوپن سپیسز،7 فیصد رقبے پر سرکاری عمارات جبکہ 5 فیصد رقبہ کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔اس کے علاوہ دو فیصد رقبہ قبرستان کیلئے مختص ہو گا۔

ماسٹر پلان میںوہ تمام سہولیات رکھی گئی ہیں جو کسی بھی جدید ہاوسنگ سوسائٹی کے لیے ناگزیر ہیں۔تفصیلی ماسٹر پلان میں منصوبے کے تحت ابتدائی طور پرمختلف کیٹیگریز کے 62056 رہائشی پلاٹس تجویز کیے گئے ہیں جن میں تین مرلے کے 16312 پلاٹس، پانچ مرلے کے 17201 پلاٹس، سات مرلے کے 3402 ، دس مرلے کے 9526 ، ایک کنال کے 13415 ، دوکنال کے 1494 اور چار کنال کے 706 پلاٹس شامل ہیں ۔8 ہزار کنال رقبہ ریزرو رکھا گیا ہے جو ضرورت کے مطابق رہائشی پلاٹس کی فراہمی کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔ منصوبے کے دیگر اہم فیچرز میں سول سیکرٹریٹ، میڈیا انکلیو، سپورٹس سٹی اور ایجوکیشن اینڈ ہیلتھ سٹی بھی شامل ہیں جو بین الاقوامی معیار کی جدید ترین سہولیات پر مشتمل ہوں گی۔اس کے علاوہ خیبر پارک کے نام سے ایک میگا پارک بھی قائم کیا جائے گا جو گالف کورسز،جھیل،کلچرل ویلیج،گندھارا میوزم، تھیم پارک، فاریسٹ،ایڈونچر ایریا اور دیگر سٹیٹ آف دی آرٹ تفریحی سہولیات پر مشتمل ہو گا۔ سائیٹ تک رسائی کے لیے مین ایکسپریس وے کی تعمیر کے علاوہ مختلف اطراف میں پہلے سے موجود پانچ رسائی سڑکوں کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔ وزیراعلی نے صوبائی دارلحکومت پشاور میں بڑھتی ہوئی آبادی کے دباﺅ کو کنٹرول کرنے کیلئے نیو پشاور ویلی منصوبے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے پر عمل درآمد کے تمام مراحل کی مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق تکمیل یقینی بنائی جائے ۔

اُنہوں نے اب تک تصدیق شدہ زمین کے مالکان کو ایک ہفتہ کے اندر طے شدہ فارمولہ کے مطابق پلاٹس کے انٹیمیشن لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے لینڈ شیئرنگ فارمولے کے تحت درکار باقی ماندہ اراضی کے حصول اور تصدیق کا عمل تیز کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ حیات آباد کے بعد یہ ایک میگا اور سب سے اہم ہاو¿سنگ منصوبہ ہے جس کی تیز رفتار تکمیل صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔


شیئر کریں: