Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہندو کُش کے دامن سے چرواہے کی صدا ۔ تجربہ کاروں کی حکومت ۔ عبدالباقی چترالی

Posted on
شیئر کریں:

ہندو کُش کے دامن سے چرواہے کی صدا ۔ تجربہ کاروں کی حکومت ۔ عبدالباقی چترالی

اس وقت ملک میں با صلاحیت اور تجربہ کارسیاسی لوگوں کی حکومت ہے۔ نا اہل نا تجربہ کار لوگ اقتدار سے رخصت ہوچکے ہیں۔ اس وقت حکومت دو وزرائے آعظم چلا رہے ہیں۔ اصل وزیر آعظم لندن میں بیٹھ کر شاہی فرمان جاری کررہا ہے اور خادم پاکستان اسلام آباد میں بیٹھ کر قوم کی خدمت انجام دے رہا ہے۔پاکستانی قوم کی خوش قسمتی ہے کہ اس وقت دو ماہریں معاشیات وزارت خزانہ کو چلارہے ہیں۔ ان دونوں تجربہ کار ماہریں معاشیات نے اپنی بے پناہ قابلیت اور صلاحیتوں سے دن رات محنت کرکے قلیل مدت میں تیل کی قیمتوں میں تیس روپے فی لیٹر اضافہ کرکے قوم کو خوش خبری سنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ پوری پاکستانی قوم کو ان تجربہ کار ماہرین معاشیات کی بے پناہ قابلیت اور صلاحیتوں کی داد دینی چاہییے اور امید رکھنی چاہیے کہ یہ عالمی شہرت یافتہ ماہرین مستقبل میں بھی قوم کو ایسی ہی خوش خبریاں سناتے رہیں گے۔ پاکستانی قوم خوش نصیب ہے کہ ان کو ایسے عالمی شہرت یافتہ اور تجربہ کار وزرائے خزانہ ملے ہیں۔ان ماہرین معاشیات کی ٹیم نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا ہے کہ وہ قلیل مدت میں تیل، گیس اور بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ کرنے میں کامیات ہوجائیں گے۔سابق وزیر آعظم اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے ان عالمی شہرت یافتہ ماہرین معاشیات کی خدمات حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اگر سابق وزیر آعظم صاحب بروقت ان ماہرین معاشیات کی خدمات حاصل کرتے تو اس وقت پاکستان میں تیل کی قیمت دو سو پچاس روپے فی لیٹر تک پہنچانے میں کامیاب ہو جاتے۔

جو کام سابقہ حکومت ساڑھے تین سالوں میں انجام نہیں دے سکی، تجربہ کاروں کی ٹیم نے قلیل مدت میں تیل کی قیمتوں میں تیس روپے فی لیٹر اضافہ کرکے کارہائے نمایان انجام دیے۔ قلیل مدت میں اتنے شاندار کارنامے انجام دینے پر وزیر خزانہ کو قومی ایوارڈ ملنا چاہیے۔ ان دونوں تجربہ کار ماہرین معاشیات کی مہارت کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔اس وجہ سے ہمارے ملک کے سابق مفرور وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈار صاحب کو برطانیہ کی حکومت نے وہاں روک رکھا ہے تاکہ ان کی ماضی کے تجربے اور مہارت سے استفادہ کرکے برطانیہ کی معیشت کو مزید ترقی دے سکے۔تجربہ کاروں کی ٹیم پاکستانی عوام سے مہنگائی میں کمی لانے کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئی تھی اور اقتدار میں آنے کے بعد جلد ہی عوام سے کیے گئے اپنے سارے وعدے بھول گئے اور مہنگائی میں کمی لانے کی بجائے قلیل مدت میں ہی تیل اور دوسری اشیاء ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ کرکے مزید مہنگائی کا دروازہ کھول دیاہے۔ تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے اب ملک میں مہنگائی کا طوفان آئے گا۔اس وقت خادم پاکستان مہنگائی میں کمی لانے کی بجائے نیب قوانین میں ترامیم کرکے اپنے اور اپنے خاندان کے دوسرے افراد کے خلاف کیسز کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آرہے ہیں۔خادم پاکستان کو ملک کے غریب عوام کی مشکلات کا کوئی فکر نہیں ہے۔ بدترین مہنگائی کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت ایک کلو گھی کی پرچون قیمت پانچ سو روپے سے اوپر ہوگیا ہے۔دوسری اشیائے خوردو نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔تجربہ کاروں کی حکومت بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے۔ اگر ملک کی موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے تو دوسری اشیائے ضرورت میں عوام کو فوری طور پر سبسڈی دینی چاہیے تاکہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔ موجودہ حکومت مہنگائی میں کمی لانے کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئی ہے۔ اگر مہنگائی میں کمی نہیں لاسکتی ہے تو اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا۔

موجودہ حکومت کے لوگ جب اپوزیشن میں تھے تو مہنگائی کو سابقہ حکمرانوں کی نااہلی اور ناقص معاشی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے رہے تھے۔ اب جبکہ تجربہ کار، اہل اور باصلاحیت لوگ اقتدار میں آئے ہیں تو مہنگائی کنٹرول کیوں نہیں ہورہی ہے؟

تجربہ کاروں کی حکومت میں عوام کے مسائل میں کمی آنے کی بجائے مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اتحادی حکومت بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے۔ اگر مہنگائی کا سیلاب اسی طرح جاری رہا تو مستقبل میں اتحادی جماعتوں کے لیے عوام کا سامنا کرنا مشکل ہوجائے گا۔حکومت اپنے شاہانہ اخراجات کم کرنے کی بجائے سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال رہی ہے۔ حکمران عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ حکمرانوں کے کتے بھی جراثیم سے پاک پانی پیتے ہیں اور ڈبل روٹی سے ناشتے کرتے ہیں جبکہ ملک کی غریب عوام کو دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی بھی میسر نہیں ہے۔ سابقہ حکومت میں جب بھی تیل کی قیمتیں بڑھائی گئیں تو اس وقت کے حزب اختلاف اور آج کے حزب اقتدار اسے عوام پر ظلم قرار دیا کرتے تھے اور اسے عمران خان کی نا اہلی اور ناتجربہ کاری کا نتیجہ قرار دیتے تھے۔ موجودہ وزیر خزانہ سمیت حکومت کے تمام اتحادی رہنما یہ دعوے کرتے تھے کہ ہمیں اقتدار ملا تو ہم ہر صورت عوام کو ریلیف دیں گے مگر اقتدار میں آتے ہی نئے حکمرانوں نے غریب عوام پر پٹرول بم گرا دیا۔


شیئر کریں: