Chitral Times

Jul 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

امتحانات میں نقل کی روک تھام – محمد اشفاق خان 

Posted on
شیئر کریں:

امتحانات میں نقل کی روک تھام – محمد اشفاق خان 

میٹرک کےحالیہ امتحانات میں نقل کی روک تھام اور امتحانات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے لیے گئے کچھ اقدامات کی خبریں نظروں سے گزریں تو دل میں خیال آیا کہ میٹرک کے امتحانات میں نقل کی روک تھام کب سے ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری بن گئی ہے ؟

اگر ایسا ہے تو پھر اتنے ڈھیر سارے تعلیمی  بورڈز ، ممتحنین (سپرنٹنڈنٹ ، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ، انویجیلیٹرز )، ریزیڈنٹ انسپیکٹر ، متعلقہ بورڈ کی طرف سے بھیجے جانے والے انسپکٹرز اور کئی دفعہ بورڈز کی انتظامیہ کی طرف سے سرپرائز وزٹس، ان سب کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے پھر؟

پچھلے سالوں میں تو یہ بھی سننے میں آیا تھا کہ مختلف بورڈز  کی طرف سے کمرہ امتحانات میں کیمرے بھی لگائے گئے ہیں اور ان کیمروں کی مدد سے متعلقہ بورڈ سے براہ راست امتحانی ہالوں کو مونیٹر بھی کیا جا سکتا ہے ، ایسے میں مزید کسی اقدام کی ضرورت راقم کی فہم سے بالاتر ہے ۔

راقم  تو سرے سے تعلیمی اسناد دئیے  جانے کے لیے امتحانات کے انعقاد کا ہی قائل نہیں ، لیکن یہاں تو ان امتحانات کی شفافیت پر بے تحاشا پیسہ اور وسائل  خرچ کئے جا رہے ہیں ۔

دنیا کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی ہے اور ہم ہیں کہ ابھی تک وہی پرانے دقیانوسی سوچ سے بندھے ہوئے ہیں ۔

میں تو یہ بھی سمجھتا ہوں کہ جب میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹیز میں  داخلے ایٹا ٹیسٹ کی بنیاد پر ہوتے ہیں تو پھر بورڈ لیول پر امتحانات کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟ اسی طرح دیگر یونیورسٹیز میں بھی اگر داخلہ، یونیورسٹی انتظامیہ / متعلقہ شعبہ جات  کی طرف سے لیے جانے والے ٹیسٹ کی بنیاد پر دیا جاتا ہے تو پھر ان  امتحانات کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟

آخر ہمیں یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی کہ ہمیں اپنے نظام تعلیم کو جدید دور کے تقاضوں کے موافق اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔

اگر شفافیت ہی یقینی بنانی ہے تو حصول روزگار یعنی بھرتیوں کے لئے ہونے والے امتحانات اور انٹرویوز میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے ۔ اگر ایسا ممکن ہو سکا تو آپ یقین کیجیے کہ تعلیمی اسناد کی حصول کے لیے لئے جانے والے ان تمام امتحانات کے انعقاد  کی  سرے سے  ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی۔

یہ سارا نظام انتہائی پرانا اور بوسیدہ ہو چکا ہے ۔ اس پورے نظام کو ہی بدلنا ہوگا اور اپنی ساری توانائیاں اور وسائل ،اس پورے تعلیمی نظام کے ڈھانچے کو بدلنے اور  جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور اسے جدید خطوط پر  استوار  کرنے  میں   صرف کرنے ہونگے ۔

میں اگرچہ بارہا سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے گریز کرتا ہوں لیکن کبھی کبھار  رہا نہیں جاتا۔ میں جب بھی ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی نظام کو دیکھتا ہوں ، جن خطوط پر ان کا نظام تعلیم چل رہا ہے اور جس طریقے سے یہ مزید اس میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس لیول پر یہ اپنے نظام تعلیم کو لے آئے ہیں جب بھی اپنے نظام تعلیم سے   اس کا موازنہ کرنے کا سوچتا ہوں  تو یقین جانیے دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے ۔ اور سونے پر سہاگا جب ان کی سوچ اور اپنے ہاں کی سوچ کا موازنہ کرتا ہوں تو  غم و غصے ،بے قراری ،دکھ، افسوس اور مایوسی کے ملے جلے جذبات کی وجہ سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے خود کو روک نہیں پاتا ۔

نہ جانے کب ہماری سوچ ان خطوط پر پرواز کرنے کے لائق ہوگی جو کسی بھی قوم کو ترقی کے منازل طے کرانے کے لیے انتہائی ضروری ہیں ۔

بلکہ المیہ تو یہ ہے کہ ہماری سوچ ان خطوط پر تو کیا سرے سے پرواز کرنے کی لائق ہی نہیں ہوئی ابھی ۔

ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے لئے سفر ابھی بہت لمبا ہے  ۔ منزل ابھی  بہت دور ہے ، بلکہ ہم نے تو ابھی اپنے لیے کسی راہ کا تعین ہی نہیں کیا ۔ ابھی تو ہمیں سوشل میڈیا پر غیر  ضروری  بحث و مباحثہ سے فرصت  نہیں۔

ہم غیر ضروری رسمی کاروائیوں کی تکمیل ، غیر ضروری بحث و مباحثہ اور محض دکھاوے کی سرگرمیوں   میں اس بری طرح سے محو ہیں کہ ہمیں اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ ہم جدید دور کے تقاضوں سے نا آشنا رہ کراپنا اور اپنی قوم کا کتنا نقصان کر رہے ہیں ۔

بس اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس قابل بنائے کہ اپنے وطن کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے اپنے حصے کی ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے پورا کر سکیں ۔

 

از

 محمد اشفاق خان 

پی ایچ ڈی اسکالر

جارج اگست یونیورسٹی

گوٹینگن، جرمنی


شیئر کریں: