Chitral Times

Oct 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قومی اسمبلی نے قومی احتساب (دوسری ترمیم) بل 2021ء کی منظوری دے دی

Posted on
شیئر کریں:

قومی اسمبلی نے قومی احتساب (دوسری ترمیم) بل 2021ء کی منظوری دے دی

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ)قومی اسمبلی نے قومی احتساب (دوسری ترمیم) بل 2021ء کی منظوری دے دی ہے’وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ نیب کے نئے قانون میں ترامیم آئین’انسانی حقوق اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہیں،نئے قانون کے تحت ہائی کورٹ کا حاضر سروس جج نیب کے چیئرمین کے طور پر لگایا جائیگا اگر کسی مقدمے میں عدالت نے یہ ریمارکس دیئے کہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے تو مقدمہ بنانے والے کے خلاف بھی کارروائی کی جاسکے گی’واضح ثبوت اور مقدمے کے بغیر کسی کا میڈیا ٹرائل نہیں کیا جاسکے گا’ہر قسم کے مقدمات میں عدالت کو ضمانت کا اختیار حاصل ہوگا’ریمانڈ کی مدت 90 دن سے کم کرکے 14 دن کی گئی ہے’پہلے اپیل ہائی کورٹ میں 10 دن بعد داخل کرنا ہوتی تھی اب اسے 30 دن کردیا گیا ہے۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں قومی احتساب (دوسری ترمیم) بل 2021ء کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ملک کی حالیہ یا ماضی قریب کی تاریخ ہے جس میں ایک قانون ایسا ہے جس کو برے طریقے سے استعمال کیا گیا ہے۔

اس پر سب سے زیادہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے آئے’اس کو سیاسی انتقام کے لئے استعمال کیا گیا۔ عدلیہ نے اس کو پارلیمان کی طرف بھجوایا تاکہ بنیادی انسانی حقوق کی شقیں مناسب ترامیم کے لئے شامل کی جائیں۔ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں سابق وزیراعظم نے بہت سی ترامیم ایوان کے ذریعے کرنے کی بجائے آرڈیننسوں کے ذریعے کیں۔چیئرمین نیب کی مدت ملازمت کو آرڈیننس کے ذریعے توسیع کی ترمیم کی گئی۔ سرونٹس کا بارہا یہ مطالبہ آیا کہ ان کے ساتھ بہت زیادتیاں ہوئی ہیں ’انہیں بغیر ثبوت کے جیل میں ڈالا گیا۔ سیاست دانوں کی افکار’نظریات اور آواز کو دبانے کے لئے نیب کا قانون استعمال کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے فل کورٹ ریفرنس میں اس وقت کے چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کا قانون سیاسی مخالفین کو دبانے کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اس بل میں مختلف اراکین اسمبلی نے محنت کرکے ترامیم ڈالی ہیں۔ پہلے نیب کے قانون میں سرکاری ملازم کو بغیر ثبوت کے گرفتار کیا جاسکتا تھا۔ اب ہم نے ترمیم کی ہے کہ جب تک اختیارات کا غلط استعمال یا بدعنوانی ثابت نہ ہو جائے تو انہیں گرفتار نہیں کیا جاسکے گا۔اس قانون میں ترمیم لائی جارہی ہے کہ میڈیا ٹرائل بھی نہیں ہوگا۔

اگر دہشتگردی‘ قتل اور زنا بالجبر کے قانون میں ضمانت ہے تو نیب کے قانون میں بھی ضمانت ہونی چاہیے۔ نیب کے قانون کے تحت ارکان پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر سیاسی زعما کے خلاف کارروائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اثاثہ جات کے حوالے سے بھی مفصل ترامیم کی گئی ہیں تاکہ کسی بے گناہ کو اپنی انا کی تسکین یا مخالفین کو سبق سکھانے کے لئے اس قانون کو استعمال کیا جائے۔ ہم نے حلف لیا ہے کہ پاکستان کے آئین کے تابع قانون سازی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم تو یہ قانون بھگت چکے ہیں ’اب آئندہ جنہوں نے مختلف منصوبوں میں پھل کھائے ہیں انہیں بھی اس نئے قانون کا فائدہ ہوگا۔ تاجر بینکار’سیاسی ورکر اور عام آدمی کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے۔ ہم نے پہلے استادوں کو ہتھ کڑیاں لگتے ہوئے دیکھا۔ لوگوں کو خودکشیاں کرتے ہوئے دیکھا۔ جن جن پارلیمنٹرینز نے عرق ریزی کی ہے اور ترامیم لے کر آتے ہیں وہ بھی لاحق تحسین ہیں۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے تحریک پیش کی کہ قومی احتساب (دوسری ترمیم) 2021ء قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لایا جائے۔

احتساب بل میں دوسری ترمیم پر بات کرتے ہوئے مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ چور جوبھی ہو اس کا احتساب ہونا چاہیے۔غوث بخش مہر نے کہا کہ اگر سزائیں قانون کے مطابق ملیں گی تو حکومت کی نیک نامی ہوگی’سزائیں شریعت کے مطابق رکھی جائیں۔ قادر خان مندوخیل نے کہا کہ اس کالے قانون کی وجہ سے کرپشن ختم ہونے کی بجائے بڑھی ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 8 نومبر 2021ء کو بل ایوان میں پیش کیا گیا جو کمیٹی کو بھجوا دیا گیا تھا’کمیٹی کی رپورٹ کو مدنظر رکھ کر ترامیم لائی گئی ہیں۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے حاضر سروس جج صاحبان کو لگایا جائے گا۔ اسلامی قوانین کے منافی ہم کوئی قانون نہیں بنا سکتے۔ نیب صاف ہو تو منزل آسان ہو جاتی ہے۔ ایوان سے تحریک کی منظوری کے بعد سپیکر نے بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع کیا۔بل میں محسن شاہ نواز رانجھا نے‘ سید جاوید حسنین’شزہ فاطمہ خواجہ’شاہدہ اختر علی’سید حسین طارق’آغا سید رفیع اللہ اور دیگر کی طرف سے بھی ترامیم پیش کی گئیں ’وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ان ترامیم کی مخالفت نہیں کی اس بنا پر انہیں بل کا حصہ بنا دیا گیا۔

شاہدہ اختر علی نے کہا کہ نیب کے قانون کا بہت غلط استعمال کیا گیا’یہ قانون ہم ختم کرنے کے حق میں ہیں مگر سیاسی جماعتوں نے ترامیم کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ تحریک انصاف نے شخصی بنیاد پر اس قانون کا غلط استعمال کیا۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بڑی محنت سے یہ ترامیم کی گئی ہیں۔ ریمانڈ کی مدت 90 دن سے کم کرکے 14 دن کی گئی ہے۔ یہ بھی نہیں ہوگا کہ ادھر کیس ہوا ادھر گرفتاری کر لی جائے۔ اسلم بھوتانی کی طرف سے اٹھائے گئے نکتہ اور بل میں پیش کردہ مختلف ترامیم کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین سے انحراف کرکے کوئی ترمیم نہیں لائی گئی۔ مناسب جواز کا مطلب ہے کہ کسی بھی الزام یا گرفتاری سے قبل نوٹسز سمیت تمام قانونی تقاضے پورے کئے جائیں۔پلی بارگین اور رضاکارانہ رقوم کی واپسی کے حوالے سے بھی قانون کو بہتر بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اپیل ہائی کورٹ میں دس دن بعد داخل کرنا ہوتی تھی اب اسے 30 دن کردیا گیا ہے۔ ضمانت کا ہائی کورٹ کو اختیار دیا گیا ہے’اگر ہائی کورٹ ضروری سمجھے تو سزا معطل بھی کر سکتی ہے۔ باقی مقدمات میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25 کہتا ہے کہ تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کسی پر عدالت کہے کہ یہ مقدمہ بدنیتی پر بنایا گیا ہے تو نئے قانون کے تحت بدنیتی پر مقدمہ بنانے والوں پر بھی نظر رکھی جاسکے گی۔ وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے تحریک پیش کی کہ قومی احتساب (دوسری ترمیم) بل 2021ء منظور کیا جائے۔ قومی اسمبلی نے بل کی منظوری دے دی۔

 


شیئر کریں: