Chitral Times

Jul 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حقیقی آزادی مارچ کا افسانہ- پروفیسرعبدالشکورشاہ

Posted on
شیئر کریں:

حقیقی آزادی مارچ کا افسانہ – پروفیسرعبدالشکورشاہ

 آزادکشمیر کی امپورٹڈ حکومت جو اسلام آبادسے منتخب کی جاتی ہے وہ بھی حقیقی آزادی مارچ کے لیے اسلام آباد کی طرف نکل پڑی۔بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ پہلے خود کو تو آزادکرلیں۔چونکہ ہمارے خطہ کا نام آزادکشمیر ہے اس لیے ہم اپنے آپ کو آزادتصور کرتے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ہماری آزادی بھی بس کچھ افسانوی نوعیت کی ہے جیسے چپل کباب میں چپل نہیں ہوتی،کشمیری پلاو میں کشمیر نہیں ہوتاایسے ہی آزادکشمیر میں کچھ آزاد نہیں ہے۔ہماری نام نہاد کابینہ اسلام آباد میں فائنل ہوتی اور پورے آزادکشمیر کو ایک چیف سیکریڑی کنٹرول کرتا حتی کے صدر اور وزیراعظم بھی اس کے سامنے بے بس ہوتے۔حقیقی آزادی اور امپورٹڈ حکومت نامنظور کا نعرہ لگانے والے نیازی صاحب یہ کیوں بھول گئے ہیں
آزادکشمیر و گلگت بلتستان الیکشن کے دوران عوامی خواہشات، توقعات اور رائے کے برخلاف ہم پر پی ٹی آئ کو مسلط کیا گیا۔جو کردار بقول عمران نیازی امریکہ نے پاکستان میں پی ٹی آئ کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے ادا کیا جناب عالی یہی کردار تو آپ امریکہ سے پہلے آزادکشمیر و گلگت بلتستان کے الیکشن اور حکومت سازی میں ادا کرچکے ہیں۔ہم کیا غلام ہیں جو آپ کریں گے ہم چپ کر کے مان لیں گے؟ پی ٹی آئ نے آزادکشمیر و گلگت بلتستان پر امپورٹڈ حکومت مسلط کرنے کے لیے وہ تمام حربے استعمال کیے جو امریکہ دنیا بھر میں اپنے مفادات کی خاطر استعمال کرتا ہے۔جناب عمران نیازی صاحب اگر گراں نہ گزرے تو کیا آپ نے آزادکشمیر و گلگت بلتستان حکومت بنانے کے لیے وفاداریاں تبدیل نہیں کیں؟
کیا آپ نے دوسری پارٹیوں کے ایم ایل ایز کو بھاری رقوم اور وزارتوں کی پیشکش سے نہیں خریدا؟ کیا آپ نے ہارس ٹریڈنگ نہیں کی؟ کیا آپ نے بیوروکریسی اور نیب کو استعمال نہیں کیا؟ سب کچھ کیا ہے مگر تب یہ خیال کیوں نہیں آیا آپ ایک قوم پر اپنی مرضی کی حکومت مسلط کر رہے ہیں۔یہ دوغلا پن اور منافقانہ چالیں صرف اپنے اقتدار کے لیے چلتے ہیں اس ملک یا قوم کی بہتری کا اس سے کوئ تعلق نہیں ہے۔حقیقی آزادی کے نام نہاد علمبردار نیازی صاحب زرا قوم کو یہ بتانا پسند کریں گے آزادکشمیر کے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے انٹرویو لینا اور اپنی مرضی کا بندہ مسلط کرنا کیا یہ امریکی سامراجی ذہنیت نہیں ہے؟
اس قوم پر رحم کھائیں اس ملک پر رحم کھائیں۔اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف بین الاقوامی قانونی ماہرین اور فرمز کی خدمات عوامی ٹیکسوں کے پیسوں پر حاصل کیں مگر وکیل کشمیر کا دعوی کرنے والے نیازی صاحب آپ نے کشمیری رہنما یاسین ملک پر بھارتی کی جانب سے 25 مئی کو سنائ جانے والی سزاء سے توجہ ہٹانے کے لیے 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کردیا۔بھارت کلبھوشن کے لیے عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے تو پاکستان یاسین ملک کے لیے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیوں نہیں کرتا؟!۔پاکستان کی جانب سے مسلہ کشمیر پر زبانی جمع خرچ کی وجہ سے نظریہ الحاقیت اپنی اہمیت کھو چکا ہے اور نظریہ آزادریاست اور خودمختاری تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔آزادکشمیر کی امپورٹڈ حکومت سرکاری اور بین الاقوامی سطح پر یاسین ملک کے حق میں آواز بلند کرنے کے بجائے اپنے آقا نیازی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد کی طرف دھکے کھاتے خوار ہورہی ہے۔جو خود آزاد نہیں ہیں وہ آزادی دلوانے کے لیے اسلام آباد مارچ کا حصہ بن رہے۔
آزادکشمیر کی امپورٹڈ حکومت حکومت پاکستان سے یاسین ملک کے حق میں آواز بلند کرنے اور بھرپور موثر احتجاج کرنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے اپنی کرسی بچانے کے چکروں میں مگن ہے۔عالمی عدالت انصاف میں جانا تو درکنار آزادکشمیر کی امپورٹڈ حکومت اسمبلی اجلاس بلا کر ایک متفقہ مزمتی قرارداد بھی پاس نہیں کرواسکی۔یہ کھٹ پتلی حکومت ہے جو وفاق کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے انہیں کشمیری عوام یا تحریک آزادی کشمیر سے کوئ غرض نہیں۔یہ اقتدار کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔کشمیر کاذ کے نام پر دہائیوں اقتدار کے مزے لینے والے اب منوں مٹی کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور اقتدار کے بچاری موجودہ بھی وہیں چلے جائیں گے۔تحریک آزادی کشمیر نہ ختم ہونے والی جدوجہد ہے یہ کشمیر کی آزادی تک ہر صورت جاری رہے گی۔عوامی سطح پر تمام مکتبہ فکر نے یاسین ملک کے ساتھ اظہاریکجہتی کا اظہار کیا ہے اور آزادی کشمیر کے حق میں ریلیاں نکالی گئ۔آزادکشمیر کی عوام اور حکومت دوالگ راستوں پر گامزن ہیں۔
عوام آزادی کشمیر جبکہ حکومت اسلام آباد کی خوشنودی کے لیے مگن ہے۔آزادکشمیر کی عوام اور حکومت کو چاہیے وہ وفاق کی مسلط کردہ امپورٹڈ حکومت کے خلاف حقیقی آزادی مارچ کا اعلان کرے اور تمام امپورٹڈ پارٹیوں کو مسترد کرتے ہوئے ریاستی پارٹیوں کو برسراقتدار لائیں۔آزادکشمیر کی امپورٹڈ حکومت اتنی فرمانبردار ہے کہ اپنے ہی منتخب کردہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا کر وزیراعظم بدل لیا تب عمران خان نیازی کے ذہن میں یہ سوال پیدا کیوں نہیں ہوا کے میں امریکی سامراجی ذہنیت اور طریقہ کے زریعے ایوان پر اپنی مرضی کا فرد بطور وزیراعظم مسلط کر رہا ہوں؟ ساری قوم کو حقیقی آزادی کے جعلی نعرے کے زریعے اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہوئے آزادکشمیر پر اپنی من پسند امپورٹڈ حکومت مسلط کر رکھی ہے۔موجودہ سیاسی صورتحال بھی بہت دلچسپ ہے سیاسی پارٹیاں اندرونی طور پر سب آپس میں ملی ہوئ ہیں اور یہ سب باری باری عوام کو بیوقوف بنا کر اپنے سیاسی مفادات کو حاصل کر لیتے ہیں۔
آزادکشمیر کی امپورٹڈ حکومت بھی شش و پنج کا شکار ہے کیونکہ اسے یہ معلوم نہیں کب آزادکشمیر میں پی ڈی ایم طرز کا اتحاد بن جائے اور حکومت تبدیل ہوجائے۔آزادکشمیر و گلگت بلتستان کی حکومت ہمیشہ سے وفاق کی مرعون منت رہی ہے۔یہ عجیب سیاست ہے ایک طرف عوام کو حقیقی آزادی کے لیے سڑکوں چوراہوں چوکوں پر ڈنڈے مروائے جاتے،آنسو گیس کے شیلز کا سامنا کرنا پڑتا جبکہ دوسری جانب ان کا محبوب لیڈر خفیہ طور پر معاہدہ کرنے کے لیے رابطوں میں مگن ہے،اپنے بچے برطانیہ میں رکھ کر ہمارے بچوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔حقیقی آزادی مہنگائ سے آزادی ہے، بے روزگاری سے، بیماری سے،افلاس سے،کرپشن سے،دہشت گردی سے،لسانیت سے،اقربہ پروری سے،رشوت ستانی سے،سمگلنگ سے،ملاوٹ سے،ذخیرہ اندوزی سے،جعل سازی سے،ناانصافی سے،ظلم سے،حق تلفی سے۔سماجی برائیوں سے،معاشرتی ناانصافیوں سے اور حق تلفی سےمگر ہم حقیقی آزادی کے بجائے عوام کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کررہے ہیں۔حکومت جس بھی پارٹی کی ہو یہ اپنے اقتدار کے لیے آتے نہ کے عوام کی بہتری کے لیے۔اگر یہ واقعی عوام اور ملک کی بہتری کے خواہش مند ہیں تو اپنی فرعونی اور قارونی دولت ملک کا قرض اتارنے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے کیوں نہیں استعمال کرتے۔یہ ہاتھی کے دانت ہیں کھانے کے اور دکھانے کے اور۔

شیئر کریں: