Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

الیکشن کا اعلان ہونے، حکومت جانے تک تحریک جاری رہے گی، عمران خان

Posted on
شیئر کریں:

الیکشن کا اعلان ہونے، حکومت جانے تک تحریک جاری رہے گی، عمران خان

پشاور(چترال ٹایمز رپورٹ)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ جو تحریک شروع ہو رہی ہے یہ انتخابات کا اعلان ہونے اور موجودہ حکومت کے جانے تک جاری رہے گی۔پشاور میں یوتھ ونگ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ امید ہے ہمارے یوتھ کو اپنی ذمے داری کا احساس ہے۔انہوں نے کہا کہ کل ہماری اٹیک فورس کی ذمہ داری راستے کی رکاوٹیں ہٹانے کی ہیں۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 26 سال میں جتنے بھی احتجاج کیے آئین اور قانون کے اندر کیے، کبھی پولیس اور اپنی عوام کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا۔عمران خان نے کہا کہ کل رات سے پنجاب اور سندھ میں کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے۔انہوں نے اپنی حکومت میں احتجاج سے متعلق کہا کہ ساڑھے 3 سال میں فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز نے ہمارے خلاف احتجاج کیے، ہم نے کبھی کسی کو نہیں پکڑا۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ پْرامن احتجاج کر رہے ہیں، اس کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدلیہ، پولیس اور نیوٹرل سب کا امتحان ہے۔ساتھ میں سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کل میں لانگ مارچ کی قیادت کروں گا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے کارکنان کو ہدایت کی کہ انہوں نے ہر چیز کی تیاری رکھنی ہے۔

حکومت کا پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ

اسلام آباد(سی ایم لنکس)حکومت نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو خونی مارچ قرار دیتے ہوئے اس کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ یہ لوگ پشاور سے لوگ لے کر وفاق پر حملہ کرنا چاہتے ہیں جس کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ کے نام پر فتنہ و فساد قوم کو تقسیم کرنے کی سازش ہے، یہ لوگ گالیوں سے گولیوں پر آگئے، لاہور میں پولیس اہلکار شہید ہوا، ویسے تو پی ٹی آئی قیادت بہت بہادر بنتی ہے اور اب ساری گھروں سے غائب ہوکر پشاور میں جابیٹھی ہے، یہ لوگ وہاں سے صوبائی فورسز لے کر بڑے جتھے کی صورت میں وفاق پر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں جس کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہو۔انہوں ں ے کہا کہ ایسا جتھہ جو وفاق پر حملہ اور ہونے والا ہو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ فتنہ و فساد پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس لیے حکومت نے انہیں لانگ مارچ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، نالائق ٹولہ خونی مارچ کے بیانات دیتا رہا جو کہ ریکارڈ پر ہیں، یہ لوگ جس آزادی مارچ کی بات کررہے ہیں وہ خونی مارچ ہے اس لیے انہیں لانگ مارچ سے روکا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے اگر یہ لوگ اسے خونی مارچ کا نام نہ دیتے تو ہم انہیں مارچ کرنے سے نہیں روکتے، یہ لوگ پرامن مارچ کے لیے نہیں آرہے بلکہ فتنہ و فساد پھیلانے آرہے ہیں، اب وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کا لانگ مارچ روکا جائے۔

قبل ازیں اپنے بیان میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اسلام آباد کی طرف خونی مارچ کا اعلان کرنے والوں کا حساب لیں گے۔رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ماڈل ٹاؤن میں فائرنگ کے باعث قتل ہونے والے پولیس اہلکار کے خون کے ذمہ دار عمران خان اور شیخ رشید ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پولیس پر فائرنگ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ یہ سیاسی سرگرمی نہیں، عمران خان اور انکے حواری پرامن مارچ نہیں چاہتے۔ گالیاں برسانے والوں نے اب گولیاں برسانا شروع کردی ہیں، قانون کو ہاتھ میں لیا گیا ہے جس کا جواب دینا ہوگا۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بے گناہ پولیس اہلکار کمال احمد کے سینے میں لگی گولی ثبوت ہے کہ عمران خان دہشت گرد ہے، وہ مارچ کی آڑ میں ملک میں خانہ جنگی کی سازش کررہے ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار کمال احمد کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے، ملک میں خانہ جنگی، افراتفری، فساد اور انتشار کو قانون کے راستہ روکنے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ شہید اہلکار کے اہلخانہ کی کفالت اور بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری حکومت لے گی، شہید کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں جبکہ عوام کے جان ومال کی حفاظت کا فرض پورا کریں گے۔یاد رہے کہ ماڈل ٹاؤن میں پاکستان تحریک انصاف کیخلاف پولیس کے کریک ڈاؤن کے دوران فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید ہوگیا تھا، کانسٹیبل کمال احمد کو سینے پر گولی لگی جنہیں طبی امداد کے لیے لاہور جنرل اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔

 

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کارکنان کو غیر ضروری ہراساں کرنے سے روک دیا

ا سلا م آ با د(چترال ٹایمز رپورٹ)اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کارکنان کو غیر ضروری ہراساں کرنے سے روک دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تحریک انصاف کی کارکنوں کی گرفتاریوں اور راستوں کی بندش کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ وکیل نے کہا کہ پرامن احتجاج آئینی حق ہے لیکن کل رات سے ملک بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کا دھرنا کیس کا فیصلہ ہے ہم اسی کے مطابق ہدایات دے دیتے ہیں، 2014 میں حکومت سے اجازت لیکر دھرنا ہوا تھا تب کورٹ نے آرڈر کیا تھا، اس وقت عدالت کے سامنے پٹیشن آئی تھی کہ گرفتاریاں کی جا رہی ہیں اس لیے آرڈر کیا تھا، کچھ عرصہ قبل پارلیمنٹ لاجز میں بھی ممبران قومی اسمبلیز کو ہراساں کیا گیا تھا، یہ تو حکومت کو دیکھنا چاہیے جو آئینی حق ہے پرامن طریقے سے کرنے دینا چاہیے، پرامن احتجاج آپ کا حق ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ 2014 کے آرڈر کے بعد پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ ہوا، ایک سینیر پولیس آفسیر کو زخمی کیا گیا تھا، اس وقت ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا گیا تھا، کیا 2014 کے دھرنے کے بعد جو ہوا اس کی ذمہ داری عدالت لے سکتی تھی؟ جس نے بھی کیا تھا اس کو آج تک کسی نے پکڑا نہیں ہے، اس لیے عدالت کو محتاط ہونا پڑتا ہے۔چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ریلی کی درخواست دے دی ہے؟۔ وکیل نے اثبات میں جواب دیا۔عدالت نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ بیان حلفی دے سکتے ہیں کہ کوئی واقعہ نہیں ہوگا اور اگر ہوا تو آپ ذمہ دار ہونگے؟ آپ بیان حلفی نہیں دے سکتے تو پھر عدالت کیسے عمومی آرڈر جاری کردے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کارکنان کو غیر ضروری ہراساں کرنے سے روکتے ہوئے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر اسلام آباد کو نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ڈپٹی کمشنر اور آئی جی اسلام کسی پی ٹی آئی کارکن کو غیر ضروری ہراساں نا کریں۔

 

جسٹس (ر) ناصرہ جاوید کے گھر پر چھاپہ، خواجہ ا?صف نے معافی مانگ لی

اسلام آباد(سی ایم لنکس)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے جسٹس (ر) ناصرہ جاوید کے گھر پر چھاپے پر قومی اسمبلی میں معافی مانگ لی۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کے دوران خواجہ محمد آصف نے کہا کہ مذمت سلیکٹڈ نہیں ہونی چاہیے، پوچھتا ہوں نور عالم کے گھر پر چھاپے کی کس نے مذمت کی؟انہوں نے کہا کہ میں جسٹس (ر) ناصرہ جاوید جو علامہ محمد اقبال کی بہو اور ہمارے معزز پارلیمنٹرین ولید اقبال کی والدہ ہیں، سے گھر پر چھاپہ مارے جانے پر معافی مانگتا ہوں۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ جب سیاسی ورکر دہشت گرد کی زبان بولتا ہے تو وہ اپنی سیاسی شناخت کی نفی کرتا ہے۔

 


شیئر کریں: