Chitral Times

Jul 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پی ٹی آیی کا لانگ مارچ اور مسلہ کشمیر. پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

پی ٹی آئ کا لانگ مارچ اور مسلہ کشمیر. پروفیسرعبدالشکورشاہ

مسلہ کشمیر پر ہر سیاسی پارٹی اپنی سیاست چمکاتی آئ ہے خواہ وہ پارٹی پاکستان سے ہو،بھارت سے یا آزادکشمیر سے۔پی ٹی آئ سربراہ نے اپنے آپ کو سفیر کشمیر اور وکیل کشمیر قرار دیا تواس بات پرنظریاتی اور سیاسی الحاقی پھولے نہیں سماتے تھے۔کشمیر کی موجودہ صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے مگر اس مسلہ پر تقریبا سبھی نمبر گیم،سیاست اور تشہیر کے لیے سرگرم ہیں۔حریت رہنما یاسین ملک کو بھارت نے 25 مئ کو سزاء سنانے کی تاریخ مقرر کی ہے اور نام نہاد وکیل کشمیر نے 25 تاریخ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔اسے کشمیری عمران خان نیازی اور پی ٹی آئ قیادت کی لاعلمی سمجھیں، مک مکا سمجھیں،بھارت نوازی سمجھیں یا مسلہ کشمیر پر عدم دلچسپی؟ کشمیریوں کے اذہان میں ان گنت سوالات اور شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔پوری کشمیری قوم پریشانی اور ہیجانی کیفیت کا شکار ہے حتی کے الحاق پاکستان کے حامی بھی سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔نواز شریف کو مودی کا یار کہنے والے نیازی نے عملی طور پر ثابت کردیا کہ وہ کسی دوسرے سے کم نہیں اور ان کا محور و مرکز ریاست نہیں سیاست ہے اور اپنی سیاست کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کی جڑ کشمیر کو بھی اپنی کرسی پر قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔یاسین ملک نے آزادی کشمیر کے لیے ساری زندگی جیلوں کی نظر کر دی اور سید علی گیلانی اس جدوجہد میں اس دنیا سے کوچ فرما گئے اور دیگر کشمیری قیادت بھی قیدوبند کی اذیتیں برداشت کر رہی ہے۔یاسین ملک کی معصوم گڑیا کی درخواست بھی عمران نیازی کے دل کو بسیچنے میں ناکام رہی نہ ہی اسے آنسو کام آئے نہ ہی والد کی جدائ کا درد اور نہ ہی سر سے چھت کے چھن جانے کا دکھ والم۔اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا جو بھی نتیجہ نکلے پی ٹی آئ نے مسلہ کشمیر کو اپنی اس لانگ مارچ کے زریعے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
بجائے اس کے کہ پی ٹی آئ حریت رہنما یاسین ملک کی سزاء کے خلاف بھارت کے ظلم و جبر اور بربریت کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج کرتی اس نے یاسین ملک کے حق میں ہونے والے احتجاج،دھرنوں اور آوازوں کو مودی سے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے دبا دیا اور ساری توجہ مسلہ کشمیر اور حریت رہنما کی سزاء سے ہٹا کر اپنی لانگ مارچ پر مرکوز کر دی۔کشمیریوں کو اس سے سبق سیکھنے کی ضرورے ہے ہمیں بیساکھیوں کے بجائے اپنی جنگ آزادی خود لڑنی ہے۔اگر ہم ابھی بھی اس مخمصے کا شکار ہیں کہ کوئ ہمیں آزادی دلوانے میں مخلص ہے تو ہم بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔آزادکشمیر میں اس وقت پی ٹی آئ کی حکومت ہے اور مقام افسوس صد افسوس یہ ہے یہ حکومت اتنی جرت بھی نہیں رکھتی کہ پی ٹی آئ قیادت سے درخواست کرتی کہ بہترین قومی ونظریاتی مفاد میں لانگ مارچ کو 25 کے بجائے کسی اور دن رکھ لیا جائے۔غلام ابن غلام کا نام آزاد خان بھی رکھ لیا جائے وہ رہتا غلام ہی ہے کچھ یہی حال نام نہاد آزادکشمیر کی حکومت کا بھی ہے۔اپنی کرسی بچانے اور اپنے سیاسی آقاوں کو ناراض کرنے کے بجائے وہ کشمیر اور یاسین ملک دونوں کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔عوامی ٹیکسوں پر بیرونی دورے کرنے والی آزادکشمیر کابینہ متفقہ طور پر اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے جاکر احتجاج کرتی پیسہ تو کشمیری قوم کا ہے اگر اپنے ذاتی دوروں پر خرچ کرتے شرم محسوس نہیں ہوتی تو مسلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں ہچکچاہٹ کس بات کی۔مگر ایسا کبھی ہونے والا نہیں کیونکہ یہ سب کھٹ پتلی ہیں یہ حکم بجا لانے کے لیے ہیں ان کی مثال کشمیری پلاو جیسی ہے جس میں کشمیر نہیں پایا جاتا۔
پاکستان اور آزادکشمیر کی اپوزیشن پارٹیاں بھی دم سادھے ہوئے ہیں۔کشمیر یا یاسین ملک کے لیے نہیں تو کم از کم اپنے سیاست چمکانے کے لیے ہی سہی اس موقعہ پر کشمیر کے نام پر سیاست ہی کر لیں مگر یوں محسوس ہوتا ہے یہ سب مودی نواز ہیں اور ہر موقعہ پر مسلہ کشمیر کو نقصان پہنچانے اور پس پشت ڈالنے کے لیے ایسے اقدامات کرتے جس سے بھارت کے نقطہ نظر کو تقویت ملتی ہے یا مودی کے اقدامات سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے اقدامات کیے جاتے جس سے مسلہ کشمیر سے توجہ ہٹ جاتی۔حکومت آزادکشمیر اگر اقوام متحدہ کی اسمبلی کے سامنے احتجاج کی جرت نہیں رکھتی کم از کم اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کر کے حکومت پاکستان بالخصوص اپنی پارٹی قیادت کو تو احساس دلا سکتی تھی۔مان لیا یاسین ملک سے ہمارا نظریاتی اختلاف سہی مگرمسلہ کشمیر کے حل پہ تو کوئ اختلاف نہیں ہے۔کشمیر کی تمام جماعتوں کا بنیادی نظریہ آزادی کشمیر ہے اوراس نظریہ پر کوئ اختلاف نہیں ہے۔انفرادی اختلاف کی وجہ سے بنیادی نظریہ آزادی کشمیر سے روگردانی ناقابل معافی ہے۔پی ٹی آئ نے 25 مارچ کو لانگ مارچ کر کے اپنی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے بالخصوص آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں اسے ایک سیاسی دھچکا لگنے کا قوی امکان ہے۔موصوف وزیر امور کشمیربھی چپ سادھے ہوئے ہیں انہیں شاید یہ بھی معلوم نہ ہو یاسین ملک کون ہے لبریشن فرنٹ کا نظریہ کیا ہے وہ بس ہمارے ٹیکسوں پر پلنے کے لیے بنائے جاتے انہیں کشمیر کابنیادی جغرافیہ تک معلوم نہیں ہوتا۔
 آزادکشمیر کی واحد ریاستی پارٹی ہونے کا دعوی کرنے والی مسلم کانفرنس دہائیوں نعرہ الحاق پاکستان کے نام پر اقتدار کے مزے لینے کے بعد اس وقت سیاسی فٹ پاتھ پر بے بسی کے عالم میں بیٹھی ہے۔لبریشن فرنٹ کے ساتھ نظریاتی اختلاف کی وجہ سے مسلم کانفرنس بھی چپ سادھےہوئے ہے۔ارے کمبختو بنیادی نظریہ تو سب کا یکساں ہے اس کے لیے تو میدان میں نکلو آزادی کشمیر کے لیے تو آواز بلند کرو۔۔۔۔۔۔۔اگر یہی حال رہا تو کشمیری ایک ایک کر کے کٹتے جائیں گے گروہوں میں بٹتے جائیں گے آزادی کے قافلے لٹتے جائیں گے۔نقصان صرف اور صرف کشمیر کا ہوگا۔چھوٹی سیاسی جماعتیں بھی تذبذب کا شکار ہیں۔جماعت اسلامی جس کی سیاست ہی اسلام اور کشمیر کے گرد گھومتی ہے وہ بھی نظریاتی اختلاف کی وجہ سے 25 مئ کے متوقعہ سانحے پر خاموش دکھائ دیتی ہے۔مولانا فضل الرحمن جو عرصہ دراز تک کشمیر کمیٹی کے چئیرمین شپ سے مستفید ہوتے رہے وہ بھی نمک حلال کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں بلکہ کشمیر کے بجائے اپنی وزارتوں کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔

شیئر کریں: