Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اساتذہ کی بھرتی کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ مزید 23 ہزار اساتذہ سسٹم میں شامل ہو جائیں-وزیر صحت

Posted on
شیئر کریں:

اساتذہ کی بھرتی کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ مزید 23 ہزار اساتذہ سسٹم میں شامل ہو جائیں-وزیر صحت

صوبائی وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی کی زیر صدارت محکمہ تعلیم کے جاری ترجیحی منصوبوں بارے جائزہ اجلاس

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے محکمہ تعلیم کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ اساتذہ کی بھرتی کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ مزید 23 ہزار اساتذہ سسٹم میں شامل ہو جائیں اور باقی ماندہ ریجنز میں ٹیسٹ کے انعقاد کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی ایجوکیشن آفیسرز سخت سے سخت نگرانی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ویژن ہے کہ ہر کلاس میں طلباء و طالبات کے لیے استاد موجود ہو انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ بندوبستی اضلاع کے لئے مشتہر گریڈ 16 کے (2500) سکول لیڈرز کے ٹیسٹس ہر صورت جون کے مہینے میں مکمل کئے جائیں۔ جبکہ گریڈ 17 کے190 سکول لیڈرز کو بذریعہ ٹیسٹنگ ایجنسی جلد از جلد تعیناتی کے لئے خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن سے (NOC) لی جائے اور گریڈ 18 کے باقی 28 ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کوالٹی کی تعیناتی ترجیحی بنیادوں پر کرنے کے لیے پبلک سروس کمیشن کے ساتھ رابطہ کیا جائے۔

 

یہ ہدایات انہوں نے محکمہ تعلیم کے جاری ترجیحی منصوبوں بارے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن خالد خان ایڈیشنل سیکرٹری ریفارمز اشفاق خان ڈائریکٹر آئی ٹی سردار خان اور محکمہ تعلیم کے دیگر حکام نے شرکت کی۔شہرام خان ترکئی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ حالیہ اساتذہ بھرتی کے عمل میں زیادہ تر کام مکمل ہوچکا ہے گریڈ 16 کی ایس ایس ٹی آسامیوں کے لئے مختلف اضلاع کی ڈیپارٹمنٹل سلیکشن کمیٹی کے اجلاس بھی شروع ہو چکے ہیں۔بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم کو یہ بھی بتایا گیا کہ نئے ضم شدہ اضلاع میں پیرنٹس ٹیچرز کونسل کے ذریعے اساتذہ کی عارضی بھرتی کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ شہرام خان ترکئی نے متعلقہ حکام کو ٹیبلٹ ان اے سکول پروگرام کے لیے جلد از جلد ٹیبلٹ کی خریداری کے لئے دوبارہ اشتہار شائع کرنے کی ہدایت کی۔ جسمیں پری کوالیفائیڈ کمپنیوں سے ریٹس لئے جائیں گے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ آئی ٹی دور جدید کی ضرورت ہے اور اس پروگرام کے ذریعے صوبے کے تمام سکولوں کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔

 


شیئر کریں: