Chitral Times

Jul 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

معدنیات کے حوالے سے مبہم پالیسی ۔ محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

معدنیات کے حوالے سے مبہم پالیسی ۔ محمد شریف شکیب

اللہ تعالیٰ نے خیبر پختونخوا کو قدرتی وسائل سے انتہائی فیاضی سے نواز ہے۔ہمارے پاس اتنے آبی ذخائر ہیں کہ ہم انہیں بروئے کار لاکر پچاس ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرسکتے ہیں جس سے نہ صرف ملک کی آئندہ پچاس سال تک کی توانائی کی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں لوگوں کو روزگار بھی مل سکتا ہے۔ صوبے میں نئی صنعتیں لگ سکتی ہیں۔لاکھوں ایکڑ بنجر زمین سیراب ہوسکتی ہے جس کی بدولت ہم غذائی پیداوار میں خود کفیل ہوسکتے ہیں۔ ہمارے پاس جنگلات کا خزانہ ہے لیکن مناسب دیکھ بھال اور حفاظت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی بے دریغ کٹائی جاری ہے جس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہورہی ہیں صوبے کے مختلف علاقوں میں گذشتہ ایک عشرے سے گلیشیئر پھٹنے اورتباہ کن سیلاب کے باعث کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ ہمارے صوبے میں سینکڑوں کی تعداد میں دلکش سیاحتی مقامات ہیں مگر وہاں تک رسائی کے لئے ہموار سڑکیں اور بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہم آج تک ان سے استفادہ نہیں کرسکے۔ ہمارے صوبے کے پہاڑوں میں سونے، زمرد، جپسم، اینٹی منی، شیلائٹ، ماربل اور دیگر قیمتی پتھروں کے خزانے بھرے ہوئے ہیں مگر معدنیات کی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے ان قیمتی خزانوں سے استفادہ نہیں کیا جاسکا۔

اگر ہم صرف ایک ضلع چترال کی مثال لے لیں تو وہاں کے آبی ذخائر، معدنیات،سیاحتی مقامات کو ترقی دے کر ہم نہ صرف اپنے صوبے بلکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتے ہیں۔صوبے میں مائینگ اور بلاکنگ کی جو پالیسی وضع کی گئی ہے اس پر عمل کرکے ترقی کی منزل تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ایک مثال پیش خدمت ہے چترال کے علاقہ گرم چشمہ میں انتہائی قیمتی دھات شیلائیٹ کا پورا پہاڑ کھڑا ہے۔ کچھ عرصہ قبل وہاں شیلائیٹ منرل ایکسپلوریشن پراجیکٹ شروع کیاگیا۔جس کمپنی نے اس کے لیز کا ٹھیکہ لیاتھا۔ اس کمپنی کے نمائندوں نے پہاڑ سے گرے ایک پتھر کو اٹھاکر اس کا تجزیہ کیا تو پتہ چلا کہ عمومی طور پر ایک اچھے کان میں پتھر کے ساتھ 40سے 45فیصد تک شیلائیٹ موجود ہوتا ہے۔گرم چشمہ میں 65فیصد شیلائیٹ کا کھوج مل گیا۔

 

دوسالوں میں لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بعد پراجیکٹ ختم کردیاگیا۔چترال کے معدنی وسائل کو تحفظ دینے اور انہیں قومی ترقی کے لئے بروئے کار لانے کی غرض سے چترال مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن کے نام سے ایک انجمن قائم کی گئی ہے۔ گذشتہ روز ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں نے ڈی جی مائنز اینڈ منرلز سے تفصیلی ملاقات کرکے انہیں معدنیات کے لیز اور بلاکس کے حوالے سے چترال کے عوام اور کاروباری طبقے کے تحفظات سے آگاہ کیا۔اور مائنز اینڈ منرلز پالیسی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ کا مطالبہ کیا۔ڈائریکٹر جنرل نے ایسوسی ایشن کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ معدنیات کے لیز کا معاملہ شفاف رکھا جائے گا۔ اور کسی کے ساتھ حق تلفی نہیں ہوگی انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں محکمانہ غفلت پائی گئی یا کسی کی حق تلفی ثابت ہوگئی۔تو اس کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے گی

 

۔کاروباری حلقے اور ایسوسی ایشن کو شکایت ہے کہ بلاکس پالیسی میں مقامی سرمایہ کاروں کی شرکت کو صوبائی حکومت نے یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے تاہم لیز ہولڈرز مروجہ قواعد و ضوابط اور حکومتی ہدایات کو اکثر نظر انداز کرتے ہیں چترال،دیر سوات، کرم، وزیرستان اور صوبے کے دیگر مقامات پر معدنیات کی لیز کسی غیر معروف کمپنی کو دی جاتی ہے۔جو قواعد و ضوابط کو پاؤں تلے روند ڈالتے ہیں۔ملک کے آئین اور قانون میں بھی یہ واضح طور درج ہے کہ جس علاقے کا پانی، بجلی، گیس، تیل، جنگلات اور معدنی ذخائر سے استفادہ کیاجائے گا۔ اس میں مقامی آبادی کو رائلٹی دی جائے گی غیر ہنر مند افرادی قوت مقامی آبادی سے لی جائے گی تاکہ جن علاقوں میں یہ معدنیات پائی جاتی ہیں وہاں کے مقامی لوگوں کو براہ راست اس کا فائدہ پہنچے۔اگر ان قواعد کر دانستہ طور پر نظر انداز کیاگیا تو نہ صرف معدنی ذخائر کی دریافت کا کام متاثر ہوگا بلکہ امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہوسکتا ہے اس حوالے سے صوبائی حکومت کو واضح اور غیر مبہم پالیسی وضع کرنی چاہئے۔

 


شیئر کریں: