Chitral Times

Jul 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پی ٹی ڈی سی ہوٹلز گزشتہ تین برسوں سے بند،سیاحت متاثر، ملازمین کے گھروں کے چولھے ٹھنڈے پڑگیے ، حکومت کو بھی کروڑوں کا نقصان 

شیئر کریں:

پی ٹی ڈی سی ہوٹلز گزشتہ تین برسوں سے بند، سیاحت متاثر، ملازمین کے گھروں کے چولھے ٹھنڈے پڑگیے ، حکومت کو بھی کروڑوں کا نقصان

chitraltimes ptdc motels chitral 17

 

چترال (نمائندہ چترال ٹایمز ) سیاحت کو ترقی دینے کے لئے پبلک سیکٹر میں قائم پی ٹی ڈی سی ہوٹل کو تالے لگے ہوئے تین سال ہوگئے جبکہ موسم گرما کی آمد کے ساتھ چترال کا رخ کرنے والے سیاح رہائش کے لئے مناسب جگہ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں کیونکہ پرائیویٹ سیکٹر میں اس معیار کے حامل ہوٹلوں کی تعداد ناکافی بتائی جاتی ہے۔1970ء کے عشرے میں چترال شہر میں مرکزی حکومت کے زیر انتظام پی ٹی ڈی سی ہوٹل کاقیام عمل میں لایاگیا تھا جس سے یہاں سیاحت کے فروع میں مدد ملی اور 1990ء میں شہزادہ محی الدین وزیر مملکت برائے سیاحت بننے کے بعد سیاحوں کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے بمبوریت، بونی، مستوج اور برموغ لشٹ کے مقامات پر بھی پی ٹی ڈی سی ہوٹل کھلوائی۔

تین سال قبل ان ہوٹلوں کی بندش سے نہ صرف قومی خزانہ کرائے کی مد میں کروڑوں روپے سے محروم ہوگئی بلکہ بلکہ صوبے کے سینکڑوں ملازم بے روزگارہوگئے اور ان ہوٹلوں کی عمارات کو بھی نقصان پہنچنے کا عمل جاری ہے اور سیاحت کا شعبہ متاثر ہونا اس کے علاوہ ہے۔ ٹورزم انڈسٹری سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ پی ٹی ڈی سی ہوٹلوں کی اہمیت کا اندازہ گزشتہ عید الفطر اور اس کے فوراً بعد کالاش وادیوں میں جاری چیلم جوشٹ کی تہوار کے دوران لگائی گئی جب سیاحوں کو معیاری رہائشی سہولیات کی فقدان کا سامنا ہوا جبکہ دوسری یا تیسری دفعہ سیاحت پر چترال آنے والے سیاحوں نے پی ٹی ڈی سی ہوٹلوں کی بندش کی خبر سن کر بہت ہی مایوسی کا اظہار کیا کیونکہ اپنے گزشتہ ٹور کے دوران انہوں نے ان ہوٹلوں میں قیام کیا تھا۔

چترال ٹایمز ذرائع کے مطابق چترال میں پی ٹی ڈی سی ہوٹل منافع پر چل رہے تھے اور ان کو بندکرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ذرائع کے مطابق چترال شہر میں قائم ہوٹل میں 29رہائشی کمروں سے سالانہ اوسطاً ڈیڈھ کروڑ روپے، بونی اور بمبوریت میں 60سے70لاکھ روپے اور مستوج برانچ میں سالانہ اوسط طور پر 55سے 60لاکھ روپے کی آمدنی ہوتی تھی۔جس سے چترال کے 42ملازمین کی تنخواہوں کی اداییگی کے ساتھ خاطر خواہ منافع بھی ہوتا تھا۔

گزشتہ تقریبا تین برسوں سے پی ٹی ڈی سی ہوٹل بند ہونے کی وجہ سے جہاں ملازمین کے گھروں کے چولھے ٹھنڈے پڑگیے ہیں وہیں حکومتی خزانے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے ۔ اوران ہوٹلوں کو تالے لگنے کی وجہ سے بھوت بنگلوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ جبکہ پی ٹی ڈی سی موٹل چترال شہر اور بونی کو گزشتہ دو برسوں سے کرونا کے مریضوں کیلے قرنطینہ کے طور پر استمال کیا جاتا رہا۔ جبکہ بعد میں کووڈ ویکسینشن کا بندوبست ان ہی ہوٹلوں میں کیا جارہا تھا۔مگر سیاحت کی عرض سے ایے ہویے ملکی یا غیرملکی ٹورسٹ کیلے یہ ہوٹلز مکمل طور پر بند ہیں۔ جوکہ لمحہ فکریہ ہے ۔

chitraltimes ptdc motels chitral 3 chitraltimes ptdc motels chitral 6 chitraltimes ptdc motels chitral 8 chitraltimes ptdc motels chitral 12 chitraltimes ptdc motels chitral 14 chitraltimes ptdc motels chitral 19

chitraltimes ptdc motels chitral 5


شیئر کریں: