Chitral Times

Jul 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نہر اتہک- تحریر: اشتیاق چترالی

Posted on
شیئر کریں:

نہر اتہک (موڑکہو،کوشٹ،قاق لشٹ ایریگیشن چینل) کی تعمیر وہاں کے عوام کیلئے موت و حیات کا مسئلہ ہے۔
تحریر: اشتیاق چترالی

علاقہ موڑکہو الحاق پاکستان سے پہلے بھی ایک مرکز کی حیثیت رکھتا تھا اور بعد میں اس کی اہمیت میں اور اضافہ ہوا۔اس کی اہمیت کے بہت سارے وجوہات ہیں اور قدیم زمانے میں وسط ایشیائی ممالک کے افراد بھی یہاں سے گزرے ہیں۔ان وجوہات میں (ریاست چترال کا ایک صوبہ ہونا بھی ہے اور اس وقت کے صوبے کے گورنر یہاں پہ رہائش پذیر رہے ہیں) اور کوہ ہندوکش کی بلند ترین چوٹی تریچ میر جس کی لمبائی 25290 فٹ ہے اس کو سر کرنے کے لئے بھی سیاح یہاں کا رخ کرتے رہے ہیں۔تریچ میر چترال کے مرکز سے بھی نظر آنے کی وجہ سے پورے علاقے کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتی ہے۔

موڑکہو سے تعلق رکھنے والے نامی گرامی افراد چترال میں اہم حکومتی ذمہ داریوں پہ فائز رہے ہیں اور انھوں نے ملک و قوم کی بڑی خدمت کی ہیں۔
پچھلے سال پیرا گلائیڈنگ کے مقابلوں کے موقع پر سابق وفاقی وزیر عمر ایوب خان، اور مشیر برائے اقلیتی امور وزیر زاہ اور دوسرے حکومتی عہدیداروں نے اپنی آنکھوں سے یہاں کے افراد کے مسائل کا بغور جائزہ بھی لیا اور ان کو حل کرنے کے وعدے بھی کئے جن میں بنیادی طور پہ پانی اور خستہ حال روڈوں کے مسائل سر فہرست ہیں۔علاقہ موڑکہو کے پہاڑوں پہ نہ گلیشیئر کا کوئی وجود ہے اور نہ ہی پانی کے دوسرے ذرائع موجود ہیں اور ہمارا پانی کا سارا دارومدار قدرتی چشموں سےہوتا ہے جو یہاں کے افراد کے ضروریات کو دیکھتے ہوئے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہی کہا جا سکتا ہے۔علاقے کے لوگوں کاآرباب اختیار سے دو ہی بنیادی مطالبات ہیں کہ پانی کے مسئلے کو موت و حیات کا مسئلہ گردانتے ہوئے حل کریں ۔چونکہ یہاں کے باسی ماضی میں بھی اپنے علاقے کے معززین کے ساتھ کئی سال تک موڑکہو ،کوشٹ اور قاق لشٹ ایریگیشن چینل پہ کام کئے، ہمارے آباؑواجداد نےاپنے کدال بیلچے اور عزم و ہمت اور بلند حوصلے سے جو کام سر انجام دئے اور کئی کلومیٹر تک نہر کی تعمیر ممکن بنا سکے تھے اور اس وقت کے ایم این نے شہزادہ محی الدین نے خطیر رقم بھی مختص کئے تھے لیکن مناسب پلاننگ کی فقدان اور جدید مشینری کی نا پیدگی کی وجہ سے یہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکی ۔آب چونکہ تحریک تحفظ حقوق چترال اور وہاں کے دیگر نمائندے اور عام عقام ایک بار پھر اس دیرینہ مسئلے کو لے کر میدان میں نکلے ہیں اورحکومت وقت سے بھر پور مطالبہ کرتے ہیں کہ بنیادی انسانی ضروریات کے پیش نظر خاطر خواہ رقم مختص کرکے اس مسئلے کو حل کریں اور موڑکہو کے باسیوں کا دیرینہ مطالبہ (موڑکہو،کوشٹ ،قاق لشٹ ایریگیشن چینل) کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں اور یہاں کی نسلیں نسلیں اس عظیم کام کو یاد رکھیں گے۔
اس ایریگیشن چینل کی تعمیر سے جہاں علاقہ موڑکہو (کوشٹ سے لیکر کشم تک) کے لوگ مستفید ہو سکتے ہیں وہیں پہ اس سے دو سو میگاواٹ بجلی گھر،اور وسیع و عریض میدان قاق لشٹ جو تقریباً 9 کلومیٹر پر محیط ہے کو بھی آباد کرنے اس میں جدید طرز کے ہاءوسنگ سوسائٹی بنا کے عوام کو دینے سے ان کے مسائل حل ہو سکیں گے جو وقتاً فوقتاً سیلاب اور زلزلے سے متاثر ہو کر اپنے گھر بار سے محروم ہو جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ اس کو قابل کاشت لاکے ہزاروں ایکڑ پر محیط بنجر زمیں کو بھی زرخیز بنایا جا سکتا ہے جس سے علاقے میں مزید خوشحالی آئے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ رابطہ سڑکوں کی خستہ حالی بھی حکومت وقت کی توجہ کا متقاضی ہے اور اگر علاقہ موڑکہو کے یہ دو بنیادی مسائل حل ہوئے تو وہ وقت دور نہیں جب موڑکہو کی زمیں اپنی زرخیزی کی وجہ سے پورے علاقے کو گندم کی فراہمی اور دوسرے فصلوں کی کاشت سے یہاں کے باسیوں اور علاقے سے باہر کے افراد کی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے اور اس علاقے کے زمیں کی زرخیزی کا ادراک محکمہ زراعت کے افراد کو بھی ہے اور وہ جا بجا اس کا اعلان بھی کرتے چلے آئے ہیں کہ اس علاقے کو اگر پانی وافر مقدار میں میسر آجائے یو یہ علاقہ پورے ضلع کے گندم اور باقی فصلوں کی کمی کو پورا کر سکتی ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ موڑکہو کے عوام ایک دوسرے کے کندھا سے کندھا ملاتے ہوئے آگے آئیں اور اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لئے عملی جدوجہد کریں،اور بظاہر اپنے تمام اختلافات (جو حقیقت میں کوئی اختلاف ہیں ہی نہیں) کو بالائے طاق رکھ کر صرف یہاں کے عوام اور علاقے کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ مبذول کریں یقیناً اس طرح متحد ہونے سے وہ وقت دور نہیں جب موڑکہو اپنے ماضی کے جھروکوں میں دوبارہ قدم رکھے اور ہر طرف ہریالی اور خوشحالی کا دور دورہ ہو اور پولو،فٹ بال اور سیاحتی مقامات کی ترقی اور معدنی ذخائر (جو علاقہ کشم اور باقی علاقوں میں موجود ہیں) سے استفادہ حاصل کرکے علاقے کو خوشحالی کی راہ پہ گامزن کیاجا سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے سوشل میڈیا کا استعمال آج کل ہر جگہ عام ہے اس میں اس مسئلے کو اجاگر کیا جائے،وہاں کے عوام کے مسائل اور مشکلات پر روشنی ڈالی جائے تاکہ حکام بالا اس دیرینہ اور حل طلب موت و حیات کے مسئلے کا حل ممکن ہو سکے جس سے وہاں کے عوام ہی نہیں پورا ضلع مستفید ہو سکے لہذا ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے سطح پر کردار ادا کریں اور یہ مسئلہ حل کی جانب گامزن ہو سکے۔


شیئر کریں: