Chitral Times

Jul 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نئی حکومت اور عوام کی توقعات- تحریر عبدالباقی چترالی

Posted on
شیئر کریں:

ہندوکش کے دامن سے چروائے کی صدا- نئی حکومت اور عوام کی توقعات- تحریر عبدالباقی چترالی

موجودہ وزیر اعظم اپنے قابلیت اور بےپناہ صلاحیتوں کی وجہ سے بہترین منتظم مانا جاتا ہے۔ سابقہ حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا ہے۔ جس سے تمام طبقے کے لوگ شدید متاثر ہوئے۔نئی حکومت موجودہ بد ترین معاشی حالات کو بہتر بنانے کی تمام کوششوں کے باوجود تاحال مہنگائی میں کمی لانے میں کامیاب نہیں ہوا ۔بلکہ مہنگائی میں روز بروز اصافہ ہوتا جا رہا ہے ۔لیکن عوام خادم پاکستان سے توقع رکھتے ہیں ۔ کہ وہ اپنے تجربے اور بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مہنگائی کے جن کو قابو کرنے میں کامیاب ہو جائے گا ۔اس وقت نئی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی ہے۔اپوزیشن جماعتیں گزشتہ ساڑھے تین سالوں سے سابقہ حکومت کی ناقص کارکردگی اور مہنگائی کے خلاف پرزور مہم چلا رہے تھے ۔ آخر کار وہ اپریل 2022 کو عدم اعتماد کے ذریعے کپتان کی حکومت ختم کر کے اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کو ملک کا نیا سربراہ مقرر کیا ۔موجودہ وزیر اعظم صاحب پہلے خادم پنجاب تھا، اب وہ خادم پاکستان بن گیا۔
اگر مہنگائی کا طوفان اس طرح جاری رہا،تو مستقبل میں موجودہ حکومت کے مشکلات میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔اس وقت حکومت ملک کے بدترین معاشی اور سیاسی حالات کو بہتر بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے، تو مستقبل میں ہمارے ملک کے معاشی حالات بھی (خدا نہ کرے) سری لنکا جیسا ہونے کے امکان ہے۔سری لنکا معاشی طور پر دیوالیہ ہوچکا ہے۔سری لنکا کے مشتعل عوام نے وزیراعظم کے رہائیش گاہ کو نذر آتش کر دیا ۔سری لنکا کا وزیراعظم اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکا ہے۔اور ملک میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے ۔
اگر موجودہ وزیراعظم بھی آئی ایم ایف کے دباؤ پر پٹرول ،گیس اور بجلی کے نرخوں میں مذید اصافہ کر دیا تو یہ ملک کے غریب عوام کے لئے ناقابل برداشت ہو گا۔اور عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہونگے ۔اس صورت میں حکمرانوں کے لئے ملک میں آمن برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا ۔
حکومت کے لئے مہنگائی کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں تو پارلیمنٹ کو تحلیل کر کے نئے انتخابات کے تاریخ کا اعلان کرنا چاہیے ۔کیونکہ موجودہ حکومت عوام سے مہنگائی میں کمی لانے کا وعدہ کر کے اقتدار میں آئی ہے۔حکومت مہنگائی پر قابو نہیں پا سکتا تو اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا ہے۔لہذا موجودہ وزیر اعظم کو باعزت طریقے سے اپنے ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہونا چاہئے ۔کیونکہ مسلم لیگ بہت بڑی قربانی دے کر سخت ترین حالات کا مقابلہ کر کے اپنے مقبولیت اور ووٹ بنک ابھی تک برقرار رکھے ہوا ہے۔ اگر مہنگائی اس طرح جاری رہی تو اس سے خادم پاکستان کی بھی بدنامی ہوگی اور پارٹی کے مقبولیت کو بھی شدید نقصان پہنچے گا ۔ اس وقت ملک کے بدترین معاشی صورتحال موجودہ حکومت کے لئے امتحان سے کم نہیں ہیں ۔2018 کے قومی انتخابات سے قبل نواز شریف اقتدار سے بےدخل کر دیا گیا ۔اور پارٹی کے صدارت سے بھی ہٹایا گیا ۔مسلم لیگ نون کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ۔پارٹی قیادت کو بدنام کرنے کے لئے ہر قسم کے حربے استعمال کیے گئے ۔پارٹی رہنماؤں کے خلاف جھوٹے کیس بنا کر قید و بند کی سزائیں دی گئیں ۔پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کے لئے تمام حربے آزمائے گئے ۔ان تمام کوششوں کے باوجود مسلم لیگ اب بھی متحد ،قائم اور فعال ہے ۔اور اس کا مستقبل روشن ہے ۔اور مسلم لیگ نون کو توڑنے والوں کے خواب خاک میں مل چکے ہیں ۔

شیئر کریں: