Chitral Times

Jul 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آرٹیکل 63 اے کی تشریح: منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہیں کیا جاسکتا، سپریم کورٹ

Posted on
شیئر کریں:

آرٹیکل 63 اے کی تشریح: منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہیں کیا جاسکتا، سپریم کورٹ

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ)سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والے ججز نے فیصلہ دیا ہے کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت منحرف اراکین کے ووٹ کو شمار نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی اور دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ فیصلہ تین دو کی اکثریت سے جاری کیا۔سپریم کورٹ کے ججز کی جانب سے جاری ہونے والا فیصلہ تین دو کی اکثریت سے ہے، جسٹس مندوخیل اورمظہر عالم میاں خیل نے اختلافی نوٹ لکھا اور منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کی تجویز دی جبکہ بقیہ تین ججز نے اس پر اتفاق کیا۔ججز نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ انحراف وہ راستہ ہے جس سیاسی جماعتوں کو غیر مستحکم کیا جاسکتا ہے، آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعتوں کے پاس حقوق ہیں، انحراف کرنا سیاسی جماعتوں کو غیر مستحکم اور پارلیمانی جمہوریت کو پٹری سے اتار سکتا ہے جبکہ آرٹیکل تریسٹھ اے سیاسی جماعتوں کیحقوق کی بات کرتا ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں جمہوری نظام کی بنیاد ہیں، آرٹیکل 63 اے کا مقصد ارکان کو انحراف سے روکنا ہے جس کے تحت منحرف ارکان کے ووٹ کو شمار نہیں کیا جاسکتا، آرٹیکل 63 اے کی اصل روح ہے کہ سیاسی جماعت کے کسی رکن کو انحراف نہ کرنا پڑے اور جماعتوں کو حقوق کا تحفظ ملے۔سپریم کورٹ کے ججز نے کہا ہے کہ منحرف ارکان کی نااہلی کے لئے قانون سازی کرنا پارلیمان کا اختیارہے،

سپریم کورٹ نے مستقبل میں اراکین کا انحراف روکنے کا سوال صدرکو واپس بھجوا دیا۔سپریم کورٹ کے ججز کی جانب سے دو تین کی اکثریت سے دیے جانے والے فیصلے میں منحرف اراکین کی تاحیات نااہلی سے متعلق کوئی ریمارکس نہیں دیے جس کے تناظر میں پارٹی سے انحراف کرنے والے رکن کی نااہلی کا فیصلہ پارلیمان کی قانون سازی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو دے دیا گیا ہے۔ججز نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ وقت آگیاہیکہ منحرف ارکان کیحوالے سیقانون سازی کی جائے، اختلافی ججزنے منحرف ارکان کوڈی سیٹ کرنیکی رائے بھی دی۔قبل ازیں چیف جسٹس کی سربراہی میں آج سماعت شروع ہوئی۔ ن لیگ کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ حالات تبدیل ہوگئے ہیں مجھے موکل سے نئی ہدایات لینے کے لیے وقت دیا جائے۔اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ کیا آرٹیکل 63/A ایک مکمل کوڈ ہے؟ کیا آرٹیکل تریسٹھ اے میں مزید کچھ شامل کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا پارٹی پالیسی سے انحراف کرکے ووٹ شمار ہوگا؟ عدالت ایڈوائزی اختیار میں صدارتی ریفرنس کا جائزہ لے رہی ہے، صدارتی ریفرنس اور قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کروں گا۔اشتر اوصاف نے سوشل میڈیا کی شکایت کی اور کہا کہ عدم حاضری پر سوشل میڈیا پر میرے خلاف باتیں ہوئی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سوشل میڈیا نہ دیکھا کریں۔

اشتر اوصاف نے اپنے دلائل میں کہا کہ صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی دلچسپی کے معاملے ہر رائے مانگی جاسکتی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آرٹیکل 186 میں پوچھا سوال حکومت کی تشکیل سے متعلق نہیں ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی میں ایسے واقعات پر صدر مملکت نے ریفرنس نہیں بھیجا، عدالت صدارتی ریفرنس کو ماضی کے پس منظر میں بھی دیکھیں، صدر مملکت نے ریفرنس بھیجنے سے پہلے اٹارنی جنرل افس یا وکیل سے رائے نہیں لی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ صدر مملکت کو صدارتی ریفرنس کے لیے اٹارنی جنرل سے قانونی رائے لینے کی ضرورت نہیں، آرٹیکل 186 کے مطابق صدر مملکت قانونی سوال پر ریفرنس بھیج سکتے ہیں، کیا آپ صدر مملکت کے ریفرنس سے لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں؟اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ مجھے حکومت کی طرف کوئی ہدایات نہیں ملی، اپوزیشن اتحاد اب حکومت میں آچکا ہے، اپوزیشن کا حکومت میں آنے کے بعد بھی صدارتی ریفرنس میں موقف وہی ہوگا جو پہلے تھا، میں بطور اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کروں گا۔جسٹس اعجاز نے کہا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں ریفرنس قابل سماعت نہیں؟ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ ریفرنس کو جواب کے بغیر واپس کر دیا جائے؟ اسی پر جسٹس منیب نے کہا کہ سابق اٹارنی جنرل نے ریفرنس کو قابل سماعت قرار دیا، بطور اٹارنی جنرل آپ اپنا موقف لے سکتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس سابق وزیراعظم کی ایڈوائس پر فائل ہوا جس پر جسٹس جمال نے کہا کہ کیا یہ حکومت کا موقف ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا موقف بطور اٹارنی جنرل ہے، سابق حکومت کا موقف پیش کرنے کے لیے ان کے وکلاء موجود ہیں، صدر مملکت کو قانونی ماہرین سے رائے لے کر ریفرنس فائل کرنا چاہیے تھا، قانونی ماہرین کی رائے مختلف ہوتی تو صدر مملکت ریفرنس بھیج سکتے تھے۔چیف جسٹس عمر عطال بندیال نے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر کافی سماعتیں ہو چکی ہیں، آرٹیکل 17 سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعت کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے، آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی پر 2 فریقین سامنے آئے ہیں ایک وہ جو انحراف کرتے ہیں اور دوسرا فریق سیاسی جماعت ہوتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ مارچ میں صدارتی ریفرنس آیا، تکنیکی معاملات پر زور نہ ڈالیں، صدارتی ریفرنس کے قابل سماعت ہونے سے معاملہ کافی آگے نکل چکا ہے، ڈیڑھ ماہ سے صدارتی ریفرنس کو سن رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ٹیکنیکل نہیں آئینی معاملہ ہے، عدالتی آبزرویشنز سے اتفاق نہیں کرتا لیکن سر تسلیم خم کرتا ہوں، عدالت نے رکن اور سیاسی جماعت کیحقوق کو بھی دیکھنا ہے، انحراف پر رکن کے خلاف کارروائی کا طریقہ کار آرٹیکل 63 اے میں موجود ہے، آرٹیکل 63 اے کے تحت انحراف پر اپیلیں عدالت عظمیٰ میں ا?ئیں گی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر مملکت کے ریفرنس پر رائے دینے سے اپیلوں کی کارروائی پر اثر پڑے گا، آرٹیکل 63 اے کے انحراف سے رکن خودبخود ڈی سیٹ نہیں ہوجاتا، انحراف کرنے سے رکن کو شوکاز نوٹس سے وضاحت مانگی جاتی ہے، سربراہ وضاحت سے مطمئن نہ ہو تو ریفرنس بھیج سکتا یے۔جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا صدر مملکت نے پارلیمنٹ میں اپنی سالانہ تقریر میں یہ معاملہ کبھی اٹھایا؟ کیا آرٹیکل 63/A کی تشریح کے لیے کبھی کسی جماعت نے کوئی اقدام اٹھایا؟ کیا کسی سیاسی جماعت نے تریسٹھ اے کی تشریح یا ترمیم کے لیے کوئی اقدام اٹھایا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ سینیٹ میں ناکامی کے بعد سابق وزیراعظم نے ارکان کو کوئی ہدایت جاری نہیں کی، عمران خان نے ارکان سے اعتماد کا ووٹ لینے سے پہلے بیان جاری کیا، عمران خان نے کہا کہ ارکان اپنے ضمیر کے مطابق مجھے اعتماد کا ووٹ دینے کا فیصلہ کریں، عمران خان نے کہا مجھے ووٹ نہیں دیں گے تو گھر چلا جاؤں گا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اعتماد کا ووٹ لینے اور عدم اعتماد کے ووٹ میں بہت فرق ہے۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ پارٹی سربراہ کی مرضی ہے وہ ہدایات جاری کریں یا نہ کریں جس پر اٹارنی جنرل بولے کہ عدم اعتماد کی تحریک کے وقت بھی وہی وزیراعظم تھے، سابق وزیر اعظم نے اپنے پہلے موقف سے قلا بازی لی۔جسٹس اعجاز نے کہا کہ کیا وزیراعظم اپنی ہدایات میں تبدیلی نہیں کرسکتا؟ کیا وزیراعظم کے لیے اپنی ہدایات میں تبدیلی کی ممانعت ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم نے آئین کے تحت حلف لیا ہوتا ہے، وزیر اعظم اپنی بات سے پھر نہیں سکتا۔جسٹس اعجاز نے کہا کہ کیا انحراف کرنا بددیانتی نہیں؟ کیا انحراف کرنا امانت میں خیانت نہیں ہوگا؟ کیا انحراف کرنے پر ڈی سیٹ ہونے کے بعد آرٹیکل 62 (1) ایف کا اطلاق ہوسکتا ہے؟ کیا انحراف کرکے ڈالا گیا ووٹ شمار ہوگا؟ ان سوالات کے جوابات دیں کیوں کہ خیانت کی ایک خوف ناک سزا ہے اس پر اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا اور کہا کہ بالکل خیانت ایک بڑا جرم ہے۔جسٹس جمال نے کہا کہ ایک خیانت اپنے ضمیر کی بھی ہوتی ہے، کیا ضمیر سے خیانت کرکے کسی کی مرضی سے ووٹ ڈالا جا سکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ رضا ربانی یا کسی کے بیان پر عدالت انحصار نہیں کرسکتی، عدالت کے سوال کا جواب نہ دے پاؤں لیکن اپنی گزارشات تو دے سکتا ہوں، رکن عوام سے پانچ سال کے لیے ووٹ لے کر آتا ہے، وزیراعظم ارکان کے ووٹ سے منتخب ہوتا ہے اور وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہیں، اگر کوئی وزیر اعظم عوام سے کیے وعدہ پورے نہ کرے تو کیا ہوگا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر قانون میں سات سال سزا لکھی ہے تو سزائے موت نہیں دی جاسکتی۔

جسٹس منیب نے کہا کہ کیا منحرف کی سزا کے لیے قانون نہیں بنایا جاسکتا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون بنایا جاسکتا ہے لیکن پارلیمنٹ نے قانون نہیں بتایا۔جسٹس منیب نے کہا کہ کس بنیاد پر آپ کہتے ہیں آرٹیکل تریسٹھ اے کا اطلاق نہیں ہوتا؟ جب تک آئین میں ترمیم نہیں کرتے ا?پ ارٹیکل 62/63 کا اطلاق نہیں کرسکتے، ابھی تک آپ کہہ رہے ہیں قانون بن سکتا ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت آئین میں ترمیم نہیں کرسکتی، ا?رٹیکل 62 – 63 اور تریسٹھ اے میں ترمیم پارلیمں ٹ ہی کرسکتی ہے، آئین ایک penalty فراہم کرتا ہے اس میں ترمیم کے بغیر اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔جسٹس جمال نے کہا کہ کیا آئین کی فراہم کردہ penalty کو قانون کے ذریعے بڑھایا جاسکتا ہے؟ آرٹیکل 63 اے ووٹنگ سے متعلق ارکان کو پابند بناتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس صورت میں آرٹیکل 95 غیر موثر ہو جائے گا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا ہارس ٹریڈنگ کے بغیر عدم اعتماد ہوسکتی ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے ووٹنگ سے متعلق ارکان کو پابند بناتا ہے اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس صورت میں آرٹیکل 95 غیر موثر ہو جائیگا۔جسٹس اعجاز نے پوچھا کہ کیا ہارس ٹریڈنگ کے بغیر عدم اعتماد ہو سکتی ہے؟

جسٹس جمال نے پوچھا کہ ایک سیاسی جماعت اپنے بنائے وزیر اعظم کو ہٹا کر نیا لا سکتی ہے؟چیف جسٹس نے پوچھا کہ آرٹیکل 63 اے کی پیروی سے آرٹیکل 95 کیسے غیر موثر ہوگا؟ کسی کو وزیر اعظم پر اعتراض ہے تو پارلیمنٹ چھوڑ دے، ایسی صورت میں صدر مملکت وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر صدر اسی جماعت کا ہو جس کا وزیر اعظم ہے تو ایسی صورت میں صدر مملکت اعتماد کو ووٹ لینے کا نہیں کہے گا۔آرٹیکل تریسٹھ اے ریفرنس کی سماعت کے اختتام پر پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان کی سرزنش ہوئی۔ بابراعوان نے کہا کہ مجھے سنا جائے سب سے بڑی سیاسی جماعت کا موقف پیش کرنا چاہتا ہوں جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت کی نظر میں کوئی پارٹی چھوٹی بڑی نہیں سب برابر ہیں۔چیف جسٹس نے بابر اعوان کو انتباہ کیا کہ جب عدالت بات کر رہی ہو تو بیچ میں مداخلت مت کریں اور عدالت کی بات سنیں، آپ ہمیں مت بتائیں کہ کون سی بڑی پارٹی سے ہیں، عدالت نے یہ کیس پارٹی کے سائز کی وجہ سے نہیں بلکہ آئین کی تشریح کے لیے سنا ہے، آپ کا موقف ہم نے دو مرتبہ سنا آپ کے نکات ہمیں سمجھ اگئے ہیں، اب آپ دو مں ٹ میں کیا کہنا چاہتے ہیں ہم دو منٹ اور بیٹھ جاتے ہیں۔

بابر اعوان نے کہاکہ میں دو منٹ نہیں بلکہ دس منٹ لوں گا تاہم عدالت نے بابر اعوان کو دس منٹ دینے کی استدعا مسترد کر دی۔ بعدازاں دلائل مکمل ہونے پر سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے محفوظ کرلی اور فیصلہ کچھ دیر میں سنایا جائے گا۔فیصلے کے ردعمل کے پیش نظر سپریم کورٹ کے اندر اور باہر اضافی سیکورٹی تعینات کردی گئی۔ سپریم کورٹ پارکنگ کو جانے والے ایک راستے کو سیل کردیا گیا۔ سپریم کورٹ میں داخل ہونے والے افراد کی شناخت لازمی قراردے دی گئی۔ اعلی پولیس افسران سمیت پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔۔۔پس منظر۔۔۔۔واضح رہے کہ آرٹیکل 63A کی تشریح کا صدارتی ریفرنس 21 مارچ کو سپریم کورٹ بھیجا گیا، سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر 20 سماعتوں کے بعد فیصلہ محفوظ کیا اور 58 دن میں ریفرنس پر سماعت مکمل کی۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الااحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے صدارتی ریفرنس پر سماعتیں کیں۔

………………………

پی ٹی آئی کے 25 اراکین کی نااہلی ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد(سی ایم لنکس)الیکشن کمیشن نے پچیس ارکان پنجاب اسمبلی کے نااہلی ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے تحریکِ انصاف کے پچیس ارکان پنجاب اسمبلی کے نااہلی ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہٰی نیمنحرف ارکان کیخلاف نااہلی ریفرنس بھیجا تھا۔آج ہونے والی سماعت کے موقع پر پی ٹی ا?ئی نیکورئیر کمپنی کی اصل دستاویزالیکشن کمیشن کے سامنے رکھی جبکہ پی ٹی آئی وکیل بیرسٹرعلی ظفرنے جواب الجواب دلائل میں کہاکہ پارٹی پالیسی میڈیا پر دن رات چلتی ہے۔یکم اپریل کو اجلاس میں پرویزالٰہی کو وزیراعلیٰ کا ووٹ دینے کا اعلان کیا گیا، پارلیمانی پارٹی اجلاس میں عمران خان نیپرویزالٰہی کے امیدوارہونے کا اعلان کیا،عمران خان کیفیصلے کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے باقاعدہ منظوری دی،ایسے میں جب ووٹ کاسٹ ہوگیا تو اس کا نتیجہ ڈی سیٹنگ ہوگا۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن نے نااہلی سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا جسے آج ہی سنایاجائے گا۔سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں رہنما پی ٹی آئی اور درخواست گزار ملیکہ بخاری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کہ ملک میں سرعام ا?ئین شکنی ہوئی، ارکان اسمبلی نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی۔انہوں نے کہا کہ ایم پی ایز اپنی پارٹی کو کمزور کرنے میں ملوث تھے، ایم پی ایز نے اسمبلی میں لاڈلے بچے کو ووٹ ڈالا، عمران خان کی ہدایت کے خلاف ووٹ دیکر انہوں نے آئین شکنی کی۔اس موقع پر بیرسٹرعلی ظفر نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے موقف اختیار کیا کہ پارٹی نے ارکان کو ہدایات دی تھیں، یہ کہنا کہ پارٹی ڈائریکشن کیا ہے یہ درست نہیں ہے،اب الیکشن کمیشن نے فیصلہ کرنا ہے

…………………………………………………….

 

سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے فرد جرم چیلنج کر دی

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ) سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے فرد جرم چیلنج کر دی، اپیل میں کہا کہ جنہوں نے بیان حلفی چھاپا انہیں چھوڑ کرصرف مجھ پرفرد جرم غیرقانونی ہے۔تفصیلات کے مطابق سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے فرد جرم کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کردی۔اپیل یں کہا گیا کہ جنہوں نے بیان حلفی چھاپا انہیں چھوڑ کرصرف مجھ پرفرد جرم غیرقانونی ہے، فرد جرم عائد کرنے کا حکمنامہ کالعدم قرار دیکر کیس ختم کیا جائے۔رانا شمیم کا کہنا تھا کہ کچھ ریکارڈ پر نہیں کہ میں نے کسی کو بیان حلفی چھاپنے کو دیا۔اپیل میں رانا شمیم نے انصار عباسی، میر شکیل الرحمان اور عامر غوری کو بھی فریق بنایا گیا اور کہا انصار عباسی کو ٹرائل سے نکال کر کیسے پتہ چلے گا انھیں بیان حلفی کیسے ملا۔دائر اپیل میں کہا گیا کہ کیس کے مرکزی ملزم کو پرائیوٹ افراد کی یقین دہانی پر ڈسچارج کردیا گیا، قانون میں پرائیوٹ افراد کی یقین دہانی پر ایسا کرنے کا تصور موجود نہیں۔جنہوں نے تسلیم کیا انھوں نے اشاعت کی، ان پر کیس ختم کردیا گیا، میں برملا کہہ رہا ہوں کسی کو بیان حلفی چھپانے کو نہیں دیا، میری واضح تردید کے باوجود فرد جرم عائد کردی گئی۔رانا شمیم کی جانب سیفرد جرم کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پرسماعت آج ہو گی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود اور جسٹس بابرستار سماعت کریں گے۔

…………………………………..

 

جیوانی: ماہی گیروں نے لاکھوں روپے مالیت کی قیمتی مچھلی کروکر شکار کر لی

جیوانی(سی ایم لنکس) ماہی گیروں نے لاکھوں روپے مالیت کی قیمتی مچھلی کروکر شکار کر لی ہے۔تفصیلات کے مطابق جیوانی بلوچستان کے سمندر میں ماہی گیروں نے 18 کروکر مچھلیاں جسے بلوچی میں کِر اور سندھ میں سوا کہا جاتا ہے، شکار کر لی ہے۔ٹیکنیکل ایڈوائزر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان معظم خان کے مطابق ان 18 کروکر مچھلیوں سے ماہی گیروں کو کل 8 لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی ہے۔معظم خان نے بتایا کہ کروکر مچھلی بہت قیمتی ہوتی ہے جس کی ایک بہت بڑی مارکیٹ چین بھی ہے، اس مچھلی کا گوشت بھی قیمتی ہوتا ہے، اور اس کے قیمتی ہونے کی اصل وجہ اس کا ایئر بلیڈر ہے۔انھوں نے بتایا کہ چین میں اس ایئر بلیڈر کو بہترین کھانوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، مچھلی کے ایئر بلیڈر کو سْکھا کر چین کو بیچا جاتا ہے۔معظم خان کا کہنا ہے کہ جس طرح ہم سرمایہ کاری کے طور پر گھر میں سونا خرید کر رکھتے ہیں، چین میں لوگ اس کروکر مچھلی کے خشک ایئر بلیڈر کو رکھتے ہیں۔


شیئر کریں: