Chitral Times

Jul 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وہ اس ادا سے روئے –  قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

وہ اس ادا سے روئے –  قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

برطرف وزیراعظم عمران خا ن نے استعارۃ صحافیوں سے دوران گفتگو کہا کہ” میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ان کو پاکستان پر مسلط کریں گے، اس سے تو اچھا تھا کہ پاکستان پر ایٹم بم گرا دیتے“۔ اس وقت وہ خود کہاں ہوتے، اس کی تفصیل سامنے نہیں آسکی۔  موصوف آئی ایم ایف سے قرض لینے کے کے بجائے خود کشی کرنے کا اعلان کرچکے تھے تاہم ناگزیر وجوہ کی بنا ء پر انہوں نے یو ٹرن لے کر عظیم لیڈر ہونے کا ثبوت دیا۔ ان کے متعدد رفقا ء نے جذبات سے مغلوب ہوکر فرسٹریشن میں خود کش بمبار بننے خواہش ظاہر کی۔ یہ اعلیٰ حکومتی عہدے رکھنے والوں کے قطعی غیر ذمے داران اور غیر سنجیدہ بیانات ہیں، جس پر غور کرنے کے بعد اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اضطراب میں جب ان کی یہ حالت، تو عام عوام کی کیا ہوسکتی ہے، یہ بہت سنگین معاملہ ہے اسے صرف نظرنہیں کیا جاسکتا۔ اب چاہے اس کی جو بھی تشریحات دی جا رہی ہوں، وہ قابل قبول اس لئے نہیں کہ منہ سے نکلے الفاظ واپس نہیں لوٹائے جاسکتے۔
خودکشی کے واقعات کے اسباب و علل کا تجزیہ کیا جائے تو بیشتر حصہ مفلسی اور نادار، تہی دامنی اور بیکاری کا نتیجہ دکھائی دے گا، اکثر ایساہوا کہ ایک نوجوان تلاش معاش میں مارا مارا پھرتا رہا لیکن اسے کہیں کام نہ مل سکا۔ اس نے ہر چند کوشش کی اپنا اور بیوی بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے کہیں سے کچھ مل جائے، لیکن وہ اپنی کوششوں میں ناکام رہا، اس انتہائی مایوسی اور کسمپرسی کے عالم میں اس نے اپنا خاتمہ کرلیا۔ اسی طرح ناداری اور بیکاری کے ساتھ بیماری ہے، کئی واقعات ایسے سامنے آئے کہ ایک شخص مدت سے بیمار چلا آرہا ہے، علاج تو ایک طرف، کھانے تک کے لئے پیسہ پاس نہیں، بیماری نے کام کاج کے قابل نہیں رکھا، ان حالات میں اس نے یہی سوچا کہ اس زندگی سے موت بہتر، اٹھا اور خودکشی کرلی، کچھ واقعات ایسے سامنے آتے ہیں کہ گھروں میں مناقشات بھی خود کشی کا موجب بن جاتے ہیں، ساس بہو کی مستقل لڑائی (جو ہمارے معاشرے کا گویا فطری جز بن چکی ہے) باپ بیٹے کے کشیدہ تعلقات، رشتہ داروں کی مخاصمت، میاں بیوی کے جھگڑے، ان میں نہ صرف خود کشی کے واقعات رونما ہوتے ہیں  بلکہ ایسا بھی ہوا کہ غصے کی دیوانگی میں اولاد کی جان تک لے لی گئی۔ بعض واقعات ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں دنیا ’ناکامی محبت‘ کی اصطلاح سے تعبیر کرتی ہے لیکن درحقیقت ان کا تعلق بھی بیشتر رشتہ داروں کی باہمی کشیدگی تعلقات ہی سے ہوتا ہے۔ لڑکا ایک جگہ شادی کرنا چاہتا ہے، اس کے والدین نہیں مانتے۔ بالغ لڑکی کی شریک حیات کے لئے اپنی رائے لیکن سرپرست کچھ اور چاہتے ہیں۔

خود کشی کے ایسے کثیر التعداد واقعات درحقیقت اس جنون اور دیوانگی کے آثار ہیں جو معاشرتی انحطاط اور سماجی حوالوں سے غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، لیکن کسی سیاسی جماعت کے ایک ایسے لیڈر کی زبان سے استعارۃ  قوم پر ایٹم بم گرانے کی بات کرنا بھی افسوس ناک اور مایوسی کی انتہا ہے۔ خاص طور پر جو وزرات عظمیٰ جیسے بڑے منصب پر براجمان رہ چکا ہو،  حالاں کہ انہیں آئین میں دیئے گئے طریقے کے مطابق برطرف کیا گیا، مظاہروں، دھرنوں، جوڈیشنل یا مارشل لا ء کے ذریعے نہیں ہٹایا گیا۔ ان کا ایسا بیان کیوں وجہ جواز بنا، اور جو کچھ قوم کے دماغوں پر مسلط کیا جارہا ہے اس کا سبب دریافت کرنے کے لئے کسی تحقیقاتی کمیٹی کے تعین کی ضرورت بھی نہیں، بات بالکل کھلی ہوئی اور واضح ہے۔ ایک سابق وزیراعظم پاکستان، کا یہ کہنا کہ آناََ فاناََ  مخالف سیاسی جماعتوں کے دس بارہ ٹاپ لیڈر شپ کو سزائیں نہیں دی جاسکیں، ان کے ساتھ جو اتحادی جماعتیں اقتدار میں ان کی حلیف تھیں، وہ وعدے پورا نہ ہونے پر راہیں جدا کر بیٹھی اور انہیں مقتدر حلقوں نے نہیں روکا، ملک کی ایک ایسی سیاسی جماعت جس کی قیادت تین بار وزارت عظمیٰ کے عہدے پر آئی، اس میں فاروڈ بلاک بنانے سے روکا گیا یا بن نہ سکا تو غصے کے عالم میں اس کا کیا مطلب لیا جائے کہ پاکستان کی عوام پر ایٹم بم ہی گرا دیا جائے۔

اسے تمثیلی بھی قرار دیا جائے تو یہ سوچ ہی اس قدر خطرناک ہے جس پر سنجیدہ سوال تو یہ ہے کہ کیا آپ نے اپنے دور اقتدار میں جوڈیشنل سسٹم کی بہتری کے لئے اصلاحات کرنے کی کوشش کی تھی؟۔ کیا احتساب عدالتو ں کی تعداد بڑھائی۔ کیا احتساب کے اداروں کو شواہد و ثبوت دیئے گئے کہ وہ جلد فیصلہ کریں، اب ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ آپ کی خواہش پر من و عن عمل ہوجائے، گویا یہ قطب شمالی کی مچھلیوں کا کوئی معاملہ ہے۔ کیا ان اسباب و علل کا جن سے مجبور ہو کر ایسا سخت بیان دینا، ہمارے ماضی، حال اور مستقبل سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتا۔ کیا ان حالات کی ذمے داری دوسروں پر ہی عائد کرنے سے خود کو بری الزما قرار دے لینا، صائب امر ہوگا،درحقیقت یہ دماغی خلل اپنا پیدا کردہ ہوتا ہے اس میں ہمارا پنا کوئی ہاتھ نہیں ہوتا؟۔ کیا ہم اپنا گلا آپ نہیں گھونٹتے، ہمارے ہاتھ قوم کے ارمانوں کے خون کے دھبوں سے، دامن ِ خضر کی طرح پاک و صاف ہیں؟ ہمارا کوئی جرم نہیں، جس وجہ سے ہم بھی آج وہاں کھڑے ہیں، کیا سب الزام اور جرم دوسروں کا ہے ہم سب اس باب میں بے گناہ اور معصوم ہیں؟۔

نہیں ایسا بالکل نہیں ہے کہ قوم کی حالت بدلنے والوں کی خود اپنی یہ حالت ہو کہ جذبات عود آتے ہوں اور پوری قوم کو مٹانے کی بات کرتے ہوں کیونکہ وہ سب کچھ نہیں ہورہا جو ان کی ذاتی خواہش کے تابع ہے۔ یہ بھی خود کشی کی ایک قسم ہے جس میں انسان اپنی عقل و غور و فکر کو اپنے ہاتھوں ختم کردیتا ہے۔ بلاشبہ کرپشن اور وائٹ کالر جرائم اس ملک کا سب سے بڑا ناسور ہیں، لیکن اس پر بھی غور فرمائے کہ آپ کی صفوں میں بقول خود آپ کہ ”فرشتے کہاں سے لاؤں“ کے مصداق کوئی بھی ایسا صاحب کردار ہے کہ اس کے ہاتھ میں پتھر دے دیا جائے کہ تم پاک ہو جسے چاہے، مار دو۔
ہم دل میں خوش کہ سبزہ ئ تربت ہرا ہوا
وہ اس ادا سے روئے کہ پلکیں بھی نم نہیں


شیئر کریں: