Chitral Times

Jul 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بیرونی قرضوں پر سوالات – محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

بیرونی قرضوں پر سوالات – محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے لئے گئے 598ارب روپے کے قرضوں کا معاملہ صوبائی اسمبلی تک پہنچ گیا۔صوبائی ایوان نے معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گذشتہ روز صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران خاتون رکن ریحانہ اسماعیل نے محکمہ خزانہ کی ایک دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے پر بین الاقوامی قرضوں کا ناقابل برداشت بوجھ پڑچکا ہے۔مختلف حکومتوں میں قرضوں کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کے دور میں صوبے کے قرضوں کا حجم16ارب روپے تھا جو عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں 98ارب روپے ہوگیا تحریک انصاف کے دو ادوار میں صوبے پر قرضوں کا بوجھ598ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، آخر ان قرضوں کی واپسی کیسے ہوگی؟

صوبائی حکومت نے ایسا کونسا منصوبہ شروع کیا ہے جس سے آمدن میں اضافہ ہوگا، لوگوں کو روزگار ملے گا یا پھر صوبہ کی معیشت بہتر ہوگی، صوبائی وزیر خزانہ نے بتایاکہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جس نے مقامی بینکوں سے کوئی قرضہ نہیں لیا، صوبائی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے اس لئے قرضہ لیا ہے کیونکہ ان قرضوں کی واپسی کا عرصہ 30سے 40سال ہے، رواں سال بھی صوبائی حکومت نے10ارب روپے کی ادائیگی کی ہے، وزیر خزانہ نے کہاکہ میگا پراجیکٹس کیلئے قرضے لینے پڑتے ہیں، موجودہ حکومت نے تین سالوں میں صوبہ کی آمدن30 ارب سے بڑھا کر60ارب روپے کردی ہے۔بی آر ٹی سے لوگوں کو روزگار ملا ہے اور اہل پشاور میں بہترین سفری سہولیات میسر آئی ہیں،

غیر ملکی قرضوں سے پن بجلی کے منصوبے شروع کئے ہیں جن سے صوبہ کی آمدن میں اضافہ ہوگا، پشاور ڈیرہ اسماعیل خان موٹر وے کیلئے300ارب کا قرضہ لیا جارہا ہے جس سے صوبہ میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا، طویل بحث کے بعد قرضوں کامعاملہ انکوائری کیلئے قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیاگیا۔بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے ترقیاتی منصوبوں کے لئے قرضہ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، جاپان،ہالینڈ، فرانس اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی لیتے رہتے ہیں، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، پیرس کلب، ایشیائی ترقیاتی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک اور دیگر مالیاتی ادارے مختلف ملکوں کو قرضے دینے کے لئے ہی بنائے گئے ہیں۔ یہ قرضے مالیاتی ادارے اپنی شرائط پر دیتے ہیں قرضے دینے والے کو اس کی واپسی کی ضمانت درکار ہوتی ہے۔پاکستان پر غیر ملکی قرضوں کا حجم ایک کھرب اٹھارہ ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

حالیہ سالوں میں پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے چھ ارب ڈالر قرضوں کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت تین ارب ڈالر پاکستان کو مل چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ تین ارب ڈالر کے لئے شرائط پر مذاکرات جاری ہیں موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ قرضوں کا حجم بڑھانے کی بھی بات کی ہے۔عام آدمی ارباب اختیار و اقتدارسے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ ان قرضوں کو ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کے کن بڑے منصوبوں پر خرچ کیاگیا۔کیونکہ ان قرضوں کو سود سمیت ٹیکسوں کی صورت میں عوام سے ہی وصول کیاجائے گا۔ قرض چکانے والے اس کے اخراجات کے مدات معلوم کرنے کا حق رکھتے ہیں لیکن یہ کام 1970سے لے کر آج تک کے حکمرانوں سے پوچھنا چاہئے ہر حکومت نے عوام کے نام پر قرضے لئے ہیں سرکاری اخراجات پورے کرنے، اپنی عیاشیوں اور خواہشات کی تکمیل، ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی اور بیرونی قرضوں پر سود چکانے کے لئے بھی قرضے لئے جاتے رہے۔

صوبائی حکومت کے مطابق بیرونی قرضوں سے بی آر ٹی سروس شروع کی گئی۔صوبے بھر میں ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لئے جنگلات لگائے گئے۔چھوٹے ڈیم اور بجلی گھر تعمیر کئے گئے، سڑکیں بنائی گئیں۔صنعتوں کو مراعات دی گئیں صحت اور تعلیم کے شعبوں کی بہتری اور اداروں کی اصلاحات پر خرچ کی گئیں۔کورونا وباء کے دوران لوگوں کے مفت علاج اورمرنے والوں کے لواحقین کو امداد دی گئی۔ احساس پروگرام کے تحت نادار لوگوں کی مالی مدد کی گئی۔یہ ایسے مدات ہیں جن سے پاکستان کا عام شہری مستفید ہوا ہے۔ معاہدہ عمرانی کے تحت حکمران عوام کی جان و مال کے محافظ ہیں اور قومی خزانہ ان کے پاس قوم کی امانت ہے جس کے بارے میں پوچھنے کا عوام کو پورا حق حاصل ہے۔

 


شیئر کریں: